مفتی منیب صاحب اور جوابی کالم پر ردِ عمل

مفتی منیب صاحب اور جوابی کالم پر ردِ عمل
مفتی منیب صاحب اور جوابی کالم پر ردِ عمل

  

گزشتہ کالم پر ملک و بیرونِ ملک سے کئی طرح کا ردِ عمل یا فیڈ بیک کہہ لیجئے، موصول ہوا۔ جن لوگوں نے دعائیں دیں اور جو خوش ہوئے ان کا حساب درِ دل درج ہوا ، تاہم جن کا نقطۂ نظر اس کے سوا تھا ، ان میں سے ایک امارات کے کالم نگار منیر احمد خلیلی کا کہنا تھا کہ آپ کے موقف سے اتفاق کرتاہوں مگر علمی موقف صرف دلائل اور سنجیدگی سے پیش ہونا چاہیے،عرض کیا، چلئے اگلی نشست یوں سہی ، ویسے کاش وہ چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی میں ہونے والی اہلِ سنت کانفرنس کون؟ کی ویڈیو دیکھ لیتے ۔ یقین کیجئے میں نے اس قدر سنجیدہ موضوع کو اس قدر منظم رقص کے تحت کبھی بروئے کار آتے نہیں دیکھا۔ یادش بخیر، مولانائے محترم مفتی منیب صاحب نے اردو اخبارات کی تاریخ میں اپنے پہلے بااعراب نیم عربی کالم میں لکھا تھاکہ یہ کانفرنس صرف اہل سنت کی تعریف کا حدود اربعہ مقرر کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی۔ یقیناًایسا ہی ہے اور یہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی رہی ۔ اتنی کہ جب تعریف کا اصلی حدود اربعہ مقرر ہوچکا تو الحمدللہ آدھے اہلِ سنت اپناحقیقی حدود اربعہ کھو چکے تھے ۔ ویسے میرے ساتھی الل ٹپ کا کہنا ہے کہ بات اگر صرف تعریف ہی کو مقرر و متعین کرنے کی تھی تو اس کے لئے محض کسی پروفیسر کی نیم پخت پی ایچ ڈی کو تکلیف پہنچا کے بھی کام چلایا جا سکتا تھا ،آخر اس کی خاطر گروزنی میں کروڑوں کے اخراجات اٹھا کے پیوٹن کومنظم رقص پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ مفتی صاحب نے مزید لکھا تھاکہ تعریف متعین کرنے کے لیے آنے والے مہمان عالمی سطح کے جید سکالر تھے ۔ اس بات کی تحقیق ا س لئے مشکل ہے کہ وہاں سکالرانہ عالمِ رقص میں معلوم و نامعلوم ، شاہدو مشہود اور من وتومیں فرق کرنا بے حد مشکل بلکہ ناممکن ہو گیا تھا۔ اگر آپ وہ مبارک ویڈیو دیکھنے کی سعادت سے واقعی محروم رہ گئے ہیں تواس عاجز پر یقین کرلیجئے کہ اس روح پرور باوردی رقص میں ہر عالِم کا و ہ عالَم تھا کہ سبحان اللہ ثم سبحا ن اللہ !یعنی

ایک ہی صفِ (رقص) میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی ’عالِم ‘رہا نہ عالم لوہار

ایک قاری کا خیال یہ تھا کہ مجھے محض مفتی صاحب کی عینک کو دیکھ کے کالم سے نہیں بدکنا چاہئے تھا ۔ ان کا خیال تھا کہ عینک سے نہیں مجھے صاحبِ عینک سے کوئی معاملہ ہے ، میں نے عرض کی کہ ہر گز نہیں۔ مفتی صاحب کے لئے میں نے کل بھی سنجیدہ الفاظ استعمال کئے اور آج پھران کی شخصیت کے لئے اپنے ان ہی الفاظ پر اصرار کرتا ہوں ۔پیر نصیرالدین مرحوم کے بعداپنے مشرب میں آنجناب کا شمار ان چیدہ و چنیدہ شخصیات میں ہوتا ہے کہ جن کا احترام بین المسالک طور پر مسلم ہے۔ پھر مفتی صاحب کی نستعلیق نثر اور شستہ فکر کا میں باقاعدہ مداح ہوں۔ سچ کہوں تو مفتی صاحب جیسا بے باک آدمی پورے مسلک میں شاید دوسرا کوئی نہ ہو۔کوئی ہے جو نعت جیسی مقدس و مطہر صنف کو سٹیج پرجھومتے نعت خوانوں پر وارے جاتے نوٹوں تلے دبی دیکھ کر بلبلا اٹھے اور اپنے اخباری کالم میں اسے سٹیج کی اُس ذوق مند صنف سے تشبیہ دے ڈالے کہ جسے پہلے شرفا چھپ چھپا کے کوٹھوں پر دیکھتے تھے اور آج کوٹھی میں مع فیملی اکتائے اکتائے دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی مفتی صاحب ہی تھے کہ جنھوں نے انٹرنیٹ پر وائرل ہو جانے والی اپنی ایک ویڈیو میں اپنے ہی ناموروں کو لتاڑ ڈالا کہ یہ جوان کی غفلت یا تساہل کی بناپر خانقاہوں پر سجدہ ہائے جہالتِ ہو رہے ہیں اور یہ جو اس دنیا کی دیگر خرافات انھوں نے ڈھونڈ نکالی ہیں تو کیا اللہ کے ہاں ا س کا کوئی جواب دینے کے لئے موجود ہے ان کے پاس؟

دیکھئے دماغ اللہ نے سبھی کو الگ دیا ہے اور سوچ و فکر کی انفرادیت پر پابندی توبے دماغوں کا دماغ ہو سکتی ہے اور کچھ نہیں ، چنانچہ کسی کی فکر و فقہ سے اختلاف کرنا آپ کا محفوظ حق ہے۔ مگر شخصیات کا احترام بھی میرے ہاں واجب ترین ہے۔ اس کالم کے قارئین گواہ ہیں کہ ا س خاکسار نے ممتاز قادری کے حق میں اس وقت کالم لکھ ڈالا تھا کہ جب قلم اور کیمرے اور نوا اور وفا سبھی پر سلطانی پابندی عاید تھی۔’’ سب اچھوں میں کیا اکیلا طاہرالقادری برا ہے ؟ ‘‘ اس عاجز نے طاہرالقادری صاحب کے لئے یہ سوال اس وقت اٹھایا تھاکہ جب مذہبی و مسلکی اور سیاسی لوگ ہی نہیں ، قاسمی و صدیقی صاحبان جیسے سرخیلِ صحافت بھی اپنے قلم کی جملہ جولانیاں اور اپنے فکر کی جمیع طغیانیاں بحق نواز شریف اوربخلافِ قادری صرفِ درِ میکدۂ محبت کر چکے تھے۔ اور ہاں ٹھیک اس کالم سے پچھلا کالم اِ س آدمی نے الزامات کی زد میں آئے اُس مولانا الیاس گھمن کو دستیاب شرعی حقوق کا واویلا کرتے لکھا تھاکہ جس الیاس گھمن صاحب کی تیزئ زبان اور نامطلوب شعلے برساتی تقریر اس عاجز کو کبھی خوش نہیں آئی تھی۔ انسان ہوں اور غلطی کا پتلا مگر واقعہ یہ ہے کہ جب سے اخبار کے لئے قلم سنبھالا ہے۔ اسے قومی مفاد کی خاطر گروہی اور ادنیٰ مفادات سے جدا کر لیا ہے اور کم ازکم اس کالم پر خدا کے بعد انسانوں میں سے سب سے پہلا حق مظلوم کاخود پر عائد کر رکھا ہے ۔ اس سے قطأ نظر کہ اس کا رنگ ، اس کی نسل یا اس کی قومیت کیا ہے۔ ویسے توا س سے بڑا جھوٹ بھی کوئی نہیں کہ اس سب کچھ کے باوجود کوئی اپنے آپ کو غیر جانبدار قرار دینے لگے ۔

ہوس چھپ چھپ کے سینے میں بنا لیتی ہے تصویریں

(ہاں آدمی کی ہمت یہ ہے کہ سینے میں پلتے تعصبات کو امکانی حد تک کم ترین سطح پر لے آئے۔) اور اس سے بڑا جرم اور افسوس بھی کوئی نہیں کہ گھٹیا مفادات کی خاطر آدم کی اولاد اور رسولِ رحمت کی امت کو رنگوں، مسلکوں اور فرقوں میں بانٹ دیا جائے ۔ لیجئے احباب آج ان ہی غیر ضروری اور فضول گزارشات پر اکتفا کیجئے ۔ فضول اور غیر ضروری اس لئے کہ اگر ہم انھیں مان ہی لیتے یا ان چیزوں کا اثر ہی لیا کرتے تو بھلا ایسی وضاحتوں کی نوبت ہی کیوں آتی ۔ ان شااللہ ا س نوعیت کی چند سنجیدہ اور آخری باتیں اگلی نشست میں پڑھئے گا۔ اللہ حافظ !

مزید :

کالم -