اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تقریب رونمائی

اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تقریب رونمائی
اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تقریب رونمائی

  

موجودہ دورکی تیز رفتار ترقی میں بہترین انفراسٹرکچر اور جدید ترین ذرائع آمدورفت کلیدی اہمیت کے حامل ہیں ۔دنیا کے وہ ممالک جو بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے مطابق ٹرانسپورٹ کی جدید سہولیات فراہم کرنے میں پیچھے رہ گئے آج ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے نظر آتے ہیں۔جدید ٹرانسپورٹ سسٹم سے محروم اور ٹریفک کے مسائل میں گھرے شہروں میں ایک شہر لاہور بھی ہے ۔

تیز ی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے ضروریات میں بھی تیزی سے اضافہ کیا جن میں سر فہرست ایک جدید ترین ٹرانسپورٹ سسٹم کی فراہمی تھی۔ لاہور، راولپنڈی ۔اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو بس سسٹم کے آغاز کے بعد اگلے مرحلے میں اورنج لائن کی صورت میں پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے میٹرو ٹرین پراجیکٹ کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ عالمی معیارکے اس منصوبے کا ٹریک رائیونڈ روڈ، ملتان روڈ، میکلوڈ روڈ، اور جی۔

ٹی روڈ جیسی اہم سڑکوں ،شہر کے گنجان آبادعلاقوں اور تاریخی عمارات کے قریب سے گزرتاہے تا کہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ڈیرہ گجراں سے علی ٹاؤن تک 27کلو میٹر طویل روٹ پر پہلے اڑھائی لاکھ مسافر سفر کریں گے پھر ان کی تعداد پانچ لاکھ تک بڑھ جائے گی۔ اس پر سفر کرنے والوں کو دھکم پیل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔کوئی بد تمیزی نہیں کرے گا ۔حادثے کا اندیشہ نہیں ہوگا ۔ مسافر وقت پر منزل مقصود پر پہنچیں گے ۔

والدین کو گھر واپسی تک اپنے بچوں کی فکر نہیں ہوگی ۔برطانیہ میں اس طرح کا منصوبہ 175برس قبل مکمل ہوا تھا جبکہ پاکستان میں 70سال بعد شروع ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے دو روز قبل ڈیرہ گجراں پر لاہور اورنج لا ئن میٹروٹرین کے منصوبے کے لئے چین سے لاہور پہنچنے والی بوگیوں اور انجن کی تقریب رونمائی میں مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کی جس میں انہیں چین کی کمپنی چائنہ ریلویز اور پراجیکٹ منیجر نے ٹرین کی علامتی چابی پیش کی۔ وزیراعلیٰ نے اسے عام آدمی کے لئے عالمی معیار کی جدید، آرام دہ اور با کفایت ٹرانسپور ٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ لاہوراورنج لائن میٹروٹرین کا منصوبہ پورے پاکستان کا منصوبہ ہے، جس پر لاکھوں لوگ روزانہ سفر کریں گے، لیکن بد قسمتی سے بعض سیاسی مخالفین عوام کی خوشحالی کے اس عظیم منصوبے کی سیاسی گدھ بن کرمخالفت کررہے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے پہلی اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہً آج ایک تاریخی دن ہے ۔ملک کی تاریخ پہلی بار میٹروٹرین کا منصوبہ کامیابی سے شروع کیا جا رہاہے جس پر صرف اہل لاہور ہی نہیں، پورے پاکستان کی نظریں ہیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ اوروزیراعظم نے 2015ء میں اس وقت کے وزیراعظم محمد نوازشریف اورمجھے (شہباز شریف) دورہ بیجنگ کے دوران یہ کہاکہ یہ میٹروٹرین آپ کے لئے ایک تحفہ ہے ۔چین نے اس منصوبے کے لئے 20برس کے لئے آسان شرائط پر قرضہ دیاہے اور پہلے 7برس کوئی قسط کی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی ۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پر روزانہ لاکھوں لوگ سفر کریں گے۔جن لوگوں نے اس روٹ پر سفر کے لئے گاڑیاں او رموٹر سائیکلیں خریدنا تھیں اب وہ ایسا نہیں کریں گے جس سے ایندھن کی مد میں اربوں روپے کی بچت ہوگی۔میں اورنج لائن میٹروٹرین پر تنقید کرنے والو ں سے پوچھتا ہوں کہ نیویارک ، ماسکو، لندن او رخوشبوؤں کے شہر پیرس میں عام آدمی کے لئے بہترین پبلک ٹرانسپورٹ موجود ہو، لیکن پاکستان کے عام آدمی کو اس سے کیوں محروم رکھا جائے۔ سیاسی بنیادوں پر اربو ں روپے کے قرضے معاف کرانے والے، قومی دولت پر اپنے ہاتھ صاف کرنے اور ٹیکس چوری کرنے والے تو لمبی گاڑیوں میں سفر کریں، جبکہ اس ملک کا مزدور ،محنت کش، یتیم ، بیوہ معیاری ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم ہو آخر کیوں؟ پیارا وطن پاکستان جس کے لئے ہمارے آباؤاجداد نے لازوال قربانیاں دیں اور پاک افواج وپولیس افسران ،جوان اور عام شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔قائد ؒ اور اقبالؒ کے پاکستان کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک عام آدمی کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی نہ ہو۔

شہباز شریف نے کہا کہ میٹروٹرین کا منصوبہ پورے ملک کے اندر ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں ایک انقلاب آفرین منصوبہ ہے ۔ناقدین اور سیاسی مخالفین کی جانب سے ا س کا راستہ روکنا بدقسمتی کی بات ہے ۔ چین نے پاکستان کے ساتھ دوستی کا بھرپور ثبوت دیاہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کے خلاف درخواست سیاسی جماعت ایک عہدیدار نے دائر کی اور اس درخواست کے باعث اس عظیم منصوبے کے 11مقامات پر پونے 2سال سے کام بندہے۔

ہم نا امید نہیں عدالت عظمی جو بھی فیصلے دے گی، اسے من وعن قبول کریں گے۔اگر منصوبے پر کام کرنے کی اجاز ت ملی تو دن رات کام کر کے اسے مکمل کریں گے۔ یہ عوامی منصوبہ التواء کا شکار ہوا ہے ،لیکن ہم اس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے لئے اپنی جان لڑا دیں گے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے ساہیوال کول پاور پلانٹ کی جلد تکمیل کے لئے چینی زعما ء کی منت سماجت کی ۔اسی طرح لاہور اورنج لائن میٹروٹرین منصوبے کی جلد تکمیل کے لئے ان کی ہر طرح سے منت سماجت کرنے کے لئے تیار ہوں ۔یہ میں اپنے لئے نہیں، بلکہ اپنے کروڑوں عوام کے فائدے کے لئے کروں گا۔

اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے کی جلد تکمیل کے لئے چینی زعما ء کی اس لئے منت سماجت کروں گا تاکہ ڈیرہ گجراں میں بسنے والی بیوہ ،محنت کش، وکلاء ، ڈاکٹر ، سرکاری ملازم ، طالبعلم بروقت اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

مٹھی بھر اشرافیہ اور مخالف سیاسی جماعت کے کل پرزوں نے مفاد عامہ کے اس منصوبے کو اس لئے روکا تاکہ عام آدمی کو با کفایت اور تیز رفتار سفری سہولتیں نہ ملیں اور یہی ان کی عوام دشمنی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سیاسی عناصر تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں، لیکن عام آدمی کے منصوبوں میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔انہیں جان لینا چاہیے کہ الزام کی بوچھاڑ ، غلط پراپیگنڈے اور نوجوانوں کو تعمیری سوچ دینے کی بجائے تخریبی باتوں میں الجھانے سے پاکستان آگے نہیں جائے گا۔

اگر ہم نے امیر اور غریب کے درمیان لکیر کو ختم نہ کیا تو پھر ایسا خونیں انقلاب آئے گا جو سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔ ان عناصر کو یوکراین ، مصر او رلیبیا میں آنے والے انقلاب کو سامنے رکھنا چاہیے۔عوام کی خوشحالی کے منصوبوں کا راستہ روکا گیا تو پھر خدانخواستہ خونیں انقلاب آ سکتا ہے،

جس میں ہر چیز خس وخاشاک کی طرح بہہ جائے گی او رمیں اس فرسودہ نظام کی تبدیلی خاتمے کے لئے اورپاکستان کو بچانے کے لئے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔

انہوں نے کہاکہ اورنج لائن میٹروٹرین میرے سیاسی کیرئیر کا عظیم منصوبہ ہے، جس کے لئے ہم نے دن رات کوشش کی او ریہ ملک کی 70سالہ تاریخ کا پہلا منصوبہ ہے، جس میں ملکوں کے مابین قرضے ، گرانٹ یا فنڈنگ کے معاہدے کے لئے بھی ٹینڈرنگ کرائی گئی۔مَیں اس کا کریڈٹ نہیں لیتا یہ ہمارا فرض تھا ۔

جب اس کی ٹینڈرنگ ہوئی تو اس کی کم سے کم بولی 2100 ارب روپے تھی۔ ہم نے چینی کمپنی سے بات چیت کر کے اس میں 70ارب روپے بچائے۔ یہ ملکی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبے میں قومی وسائل بچائے گئے ۔پاکستان کی تاریخ میں 70ارب روپے تو دور کی بات آج تک شاید 7 روپے کی بھی بچت نہ کی گئی ہو۔چیئرمین سٹیرنگ کمیٹی لاہور اورنج لائن میٹروٹرین خواجہ احمد حسان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور اورنج لائن میٹروٹرین خادم پنجاب کے اس خواب کی تعبیر ہے جو انہوں نے 1997ء میں عام آدمی کو اشرافیہ کے ہم پلہ سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لئے دیکھا تھا۔ شفافیت کی باتیں کرنا آسان ہے، لیکن اس پر عملدرآمد مشکل ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے یہ کر کے دکھا دیاہے۔چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگ بن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان اور چین کی دوستی کا ایک اہم دن ہے، جب اورنج لائن میٹروٹرین کا پہلا سیٹ لاہور پہنچا ہے۔اس منصوبے سے دونوں ممالک کی کمپنیوں میں اشتراک بڑھا ہے، جس سے چین کا تجربہ او رٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل ہوگی اس منصوبے نے مقامی لوگو ں کے لئے روز گار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کئے ہیں اور یہ منصوبہ معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے بھی اہم ہے۔انہوں نے کہاکہ پاک چین دوستی لازوال ہے او راس منصوبے نے دونوں ممالک کے معاشی تعاون کے نئے دریچے کھولے ہیں ۔اورنج لائن میٹروٹرین صرف ایک لائن نہیں، بلکہ پاکستان اور چین کی دوستی کی ایک اہم لا ئن ہے۔

مزید :

کالم -