کالم نگاریاں، مریم نواز، اور سی پیک

کالم نگاریاں، مریم نواز، اور سی پیک
 کالم نگاریاں، مریم نواز، اور سی پیک

  

’’مریم نواز۔۔۔ کیا تم مارشلائی صعوبتیں برداشت کرلوگی‘‘؟توبہ۔۔۔ یہ کون سا لہجہ ہے، لکھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ کالم نگاری کی کون سی ترکیب ہے؟ ایسے جملوں میں کون سی تہذیب ہے؟ افسوس اِس بات کا ہے کہ ایسے کالم نگار اپنے لہجے کی شعیدہ بازی سے وقتی ریٹنگ تو شاید بڑھالیتے ہوں، لیکن ملک و قوم اور آنے والی نسلوں کی راہ میں بدتمیزی، بدتہذیبی اور بد نصیبی کے گہرے گڑھے کھود جاتے ہیں

۔۔۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا بجا کہ سیاسی فیصلے عدالتوں اور سڑکوں کی بجائے پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں، لیکن ایسے کالم نگاروں کا کیا کیا جائے جو اپنے قلم کی نوک سے کروڑوں ووٹروں کی توہین کرتے ہیں، جو باشعور عوام کو بھیڑ بکریاں لکھتے ہیں اور اپنی تحریر کے زور پر عوام کو گالیاں دیتے ہیں؟اِس میں شک نہیں کہ ہم مارشلاؤں کی ماری قوم ہیں۔

کوڑے کھانا، جیلیں کاٹنا، شاہی قلعوں کی صعوبتیں برداشت کرنا، اس ملک کے سیاسی کارکنوں کا مقدر رہا ہے، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے قلم سے سیاسی کارکنوں کی نئی کھیپ کو ڈرا دھمکا دیا جائے؟ مارشل ادوار کے بھیانک واقعات کو بیان کرکے سیاسی کارکنوں کے گرم خون کو ’’برف‘‘ بنانے کی ناکام کوشش کی جائے؟۔۔۔نہیں، ہرگز نہیں، اس طرح سے لکھنا ’’چالبازی‘‘ کے زمرے میں آتا ہے اور ایسی چالبازیوں کے لئے ہمارے پاس ذرا سا بھی گنجائش نہیں بچا۔

بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان اور امریکہ کھلے بندوں ہمارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے ہیں اور ہم اندرونی سیاسی بیماریوں کا شکار ہیں۔ یقیناً بیرونی دشمنوں سے مقابلے کے لئے ہمیں اندر سے ایک ہونا ہوگا، مگر ہم سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’’چوہے بلی کا کھیل‘‘ دیکھنے کے لئے بضد ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان نے گزشتہ روز سندھ کے علاقے نوشہرو فیروز میں پاکستان پیپلز پارٹی کو میثاقِ جمہوریت کا بھولا بسرا سبق یاد کراتے ہوئے پوری قوم کو مخاطب کیا ہے کہ ’’بدقسمتی سے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جارہا، جبکہ ملک جمہوریت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا‘‘ بے شک ملک جمہوریت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، پاکستان کی بنیاد اور اساس ہی جمہوریت ہے، مگر کیا کیا جائے کہ ملک کے اندر موجود ایک طبقہ جمہوریت سے ہمیشہ نالاں رہا ہے۔

یہ طبقہ ’’ڈنڈے‘‘ کا قائل ہے۔۔۔ میاں نوازشریف کا جرم صرف اتنا ہے کہ عوام انہیں بھاری مینڈیٹ سے نوازتے ہیں، لیکن مخالفین اس بھاری مینڈیٹ کو کبھی ’’جھرلُو‘‘ کبھی دھاندلی اور کبھی کوئی اور نام دے کر ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

سیاسی مخالفین کا حق ہے کہ وہ جمہوری انداز میں مخالفت کریں، لیکن غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کو کون ’’دانہ‘‘ ڈالتا ہے جو وہ عوامی حکومتوں کے خلاف متحرک رہتی ہیں؟ سازشوں کا عظیم جال بنا جاتا ہے۔ کہیں سیاسی مخالفوں اور کہیں سرکاری اداروں میں ہلچل پیدا کی جاتی ہے۔ عدالتوں کی زنجیریں ہلائی جاتی ہیں۔

مرضی کے فیصلے لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میاں نوازشریف کو پولنگ اسٹیشنوں پر شکست نہ دے سکنے کا غصہ دھرنوں، تحریکوں اور ہڑتالوں میں نکالا جاتا ہے اور جب یہ سب کرکے بھی دال نہیں گلتی تو سرعام لڑائی شروع کر دی جاتی ہے۔

افسوس! یہ رویہ کسی بھی محب وطن، باشعور اور جمہوری قوم کا نہیں ۔70سالہ تاریخ میں ہم بڑے کھیل تماشے کر چکے، مگر ابھی تک ہمارا جی نہیں بھرا۔جنرل ایوب ،یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشلائی ادوار سے ثابت ہو چکا ہے کہ آمریت میں ہم کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکے۔ مارشل لاء ادوار میں ملکی ترقی و خوشحالی کی بجائے ہم کمزور معاشی صورت حال کا شکار ہوئے ہیں۔ قوم میں اعتماد آنے کی بجائے خوف و ہراس کا عنصر نمایاں رہا ہے۔ شخصی آزادیوں پر پہرے رہے۔

پارلیمنٹ پر پہرے بٹھا کر ضلعی حکومتوں جیسے طرح طرح کے ڈراموں میں ملکی دولت غارت کی گئی۔ سیاستدانوں کی بجائے مقامی چودھریوں،ڈیرہ داروں اور رسہ گیروں کو فوائد پہنچائے گئے۔ فرقہ واریت کو عروج ملا، بنیاد پرستی نے فروغ پایا۔ کلچر، آرٹ اور فن کی دنیا ویران ہوئی۔ طلباء تنظیموں اور محنت کشوں کے ٹریڈیونین حق پر پابندی رہی۔ انتہا پسندی،اپنی انتہاؤں کو پہنچی۔ ان سب نتائج کے باوجود جو لوگ کسی نئی آمریت کے لئے آنکھیں فرش راہ کئے ہوئے ہیں، ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔

نجانے کب ہم سازشوں کی غلام گردشوں سے نکلیں گے، جانے کب جمہوریت کے پودے کی آبیاری کریں گے، جانے کب جمہوری حکومتوں کو ایسی اپوزیشن نصیب ہو گی جو کسی ’’امپائر‘‘ کی انگلی کے لئے بے تاب رہنے کی بجائے پارلیمینٹ کی مضبوطی کو اپنا ایمان بنائے گی؟۔۔۔ جانے کب وہ دن آئے گا جب ہم سیاسی فیصلے پولنگ اسٹیشنوں پر کرنے کے قابل ہوں گے، جانے کب دھاندی، جھرلو جیسے الفاظ ہماری سیاسی ڈکشنری سے حذف کئے جائیں گے اور ہم انتخابی نتائج کو دل سے قبول کرتے ہوئے فاتح کو 5 سال حکومت کرنے کا پورا موقع دیں گے۔ بلاشبہ سیاستدانوں اور ملکی اداروں کے درمیان شہ اور مات کا کھیل ہمیں ترقی کے زینوں سے پیچھے دھکیل رہا ہے۔

میاں نوازشریف اور ان کے رفقاء چین کے ساتھ مل کر ’’سی پیک‘‘ کا خواب دیکھ چکے ہیں۔ اس خواب کی تعبیر خوشحال و سنہرے پاکستان کی صورت ہمارے سامنے ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سب لوگ ملکی مفاد میں یک جان دو قالب ہوں تاکہ سی پیک کے خلاف امریکہ کی ہرزہ سرائیوں اور بھارت کی ریشہ دوانیوں کا بھرپور مقابلہ کیا جاسکے، میاں نوازشریف اور ان کے رفقاء انرجی سیکٹر سے لے کر صنعتی و زرعی شعبوں تک عظیم منصوبے شروع کر چکے ہیں۔

ان منصوبوں کی تکمیل بھی تقاضا کرتی ہے کہ پوری قوم ایک پیج پر ہو، تاکہ ترقی کا سفر زور و شور سے جاری رہے، مگر افسوس ہم ذاتی و جذباتی لڑائیوں میں الجھ کر وقت کے تقاضوں کو پامال کئے ہوئے ہیں۔ نجانے وہ کون سی ضد اور انا ہے، جسے کچھ لوگ پورا کرنے یا تسکین دینے کے چکر میں میاں نوازشریف اور ان کے رفقاء کو دیوار سے لگانے کی جستجو میں ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ موجودہ جمہوری حکومت کو دیوار سے لگانے ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ اب بھی وقت ہے، مفادات کی شطرنج چھوڑ کر ملک و قوم کے لئے سوچ لیا جائے۔

مزید :

کالم -