نئے ڈیم تعمیر کئے جائیں

نئے ڈیم تعمیر کئے جائیں
 نئے ڈیم تعمیر کئے جائیں

  

آبی ماہرین اور کئی غیر ملکی نمائندے پانی کے مسئلے پر پاکستان،بھارت کے درمیان جنگ کے خطرے کا اظہار کر چکے ہیں، اگر کالا باغ دیم سمیت دیگر ڈیموں کی تعمیرات کا آغاز نہ کیا گیا تو پاکستان کی زرعی خود کفالت میں کمی کا شدید خطرہ لا حق ہو جائے گا۔ چ

ےئرمین واپڈا جنرل (ر) مزمل حسین نے کالا باغ ڈیم کی تعمیرکوناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوپانی کی بدترین قلت کا سامنا ہے، اگر 2018ء تک مہمند اور دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع نہ کی گئی تو مُلک میں شدید آبی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر 9 برس،جبکہ مہمند ڈیم کی تعمیر 6 برس میں مکمل ہو گی۔چےئرمین واپڈا نے بتایا کہ پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے ڈیموں کی تعمیر انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جبکہ اس وقت پاکستان میں آبی ذخائر سے متعلق کوئی پالیسی موجود نہیں۔ چےئرمین واپڈا کا پاکستان میں آبی ذخائر سے متعلق کسی ریاستی پالیسی کا نہ ہونا لمحۂ فکریہ اور تشویشناک قرار دیا ہے۔

ایک قومی ادارے کا سربراہ بڑی ذمہ داری سے کہہ رہا ہے تو یہ ملکی سلامتی،قومی پیداوار میں عدم تحفظ کا سینہ گزٹ ہے۔موجودہ حکومت نے آبی وسائل کی الگ وزارت تو قائم کر دی ہے، دیکھتے ہیں یہ کیا رول ادا کرتی ہے۔

واپڈا حکام نے چند روز قبل سینٹ کے پالیسی ریسرچ فورم کے اجلاس میں فورم کو پالیسی رپورٹ پیش کی جو بہت ہی پریشان کن ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آبی وسائل کی قلت کے شکار 15 ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے، جبکہ پانی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان چوتھے نمبر پر ہے، جبکہ پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی کم ہے۔اب اس رپورٹ پر سیاسی قیادتوں کا اظہار ملاحظہ فرمائیے۔

سابق سینیٹر محمد انور بھنڈر نے کالا باغ دیم کے حوالے سے کہا کہ یہ پاکستان مخالف منصوبہ نہیں اور اس منصوبے کے لئے پنجاب ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ اسی موقع پر سابق سینیٹر افرا سیاب خٹک نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کو پاکستان کے 3 صوبے مسترد کر چکے ہیں لہٰذا اس ڈیم کے حوالے سے اس ایوان میں بات نہ کی جائے۔اب اس موقف پر قوم دیکھ لے کہ آئینی ،قانونی فورم پر ایک قومی ادارے (واپڈا)کا سربراہ حقیقت پر مبنی حقائق پیش کر رہا ہے،جبکہ دوسری طرف سیاسی قیادت کا ایک نمائندہ اس کی نفی کر رہا ہے۔ہم بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کالا باغ ڈیم بقول آپ کے مُلک وزراعت دشمن منصوبہ ہے تو اس پر حقائق تو اس کے مخالفین سامنے لے کر آئیں، لیکن کالا باغ ڈیم مخالف قوتیں اس حوالے سے کوئی اعتراضات اور تحفظات سامنے نہیں لاسکی ہیں۔

موجودہ مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 21 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ اور آبی ذخائر میں مٹی بھرنے کے قدرتی عمل کی وجہ سے بھی پاکستان کے آبی ذخائر میں سالانہ فی کس دستیابی میں کمی ہو رہی ہے۔

یہ صورتِ حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر 10 سال بعد مُلک میں ایک بڑا ڈیم تعمیر کیا جائے اور ساتھ ہی جہاں تک ممکن ہو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم بھی تعمیر کئے جائیں۔ہم اریگیشن حکام، بالخصوص صوبائی وزیر اریگیشن پنجاب، صوبائی سیکرٹری اریگیشن اور چیف انجینئر لاہور زون کے علم میں یہ بات لانا چاہتے ہیں کہ ایم آر لنک کینال نے نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ کے علاقے پسیا نوالہ ،چاند،بریار،جاجو گل کے علاقے میں پانی کے کٹاؤ سے بڑی تعداد میں زرعی رقبہ (دریائے راوی) دریا برد ہو اہے۔

اریگیشن حکام نے کسانوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بہت جلد ایم آر لنک کے کٹاؤ سے دیہات کے زرعی رقبے کو دریا برد ہونے سے بچانے کے لئے حفاظتی بند کی تعمیر کی جائے گی، لیکن ابھی تک حفاظتی بند کی تعمیر شروع نہیں ہو سکی ہے،لہٰذا گزارش ہے کہ اس بند کی جلد از جلد تعمیر شروع کی جائے تا کہ نہ صرف ایل دیہہ، بلکہ ان کے جانی و مالی نقصان کو ختم کیا جا سکے۔ چیف انجینئر ریاض رشید خود بھی ایم آر لنک کے کٹاؤ سے متاثرہ علاقے کا دورہ کریں تو کسانوں کو حوصلہ ملے گا۔

مزید :

کالم -