امریکی ہتھیاروں پر انحصار کا خاتمہ

امریکی ہتھیاروں پر انحصار کا خاتمہ

  

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہو گا وہ وقت گزر گیا جب پاکستان اپنی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لئے امریکہ پر انحصار کرتا تھا، ہماری فوج میں امریکی ہتھیاروں کا بڑا نظام ہے،لیکن ہم دیگر ذرائع بھی استعمال کر رہے ہیں ہمارے پاس چینی اور یورپی سسٹم بھی ہیں اور ہم نے پہلی بار روسی جنگی ہیلی کاپٹر بھی اپنے سسٹم میں شامل کئے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پر کسی قسم کی پابندی لگانے سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی، بلکہ خطے میں عدم استحکام بھی پیدا ہو گا،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سے زیادہ قربانیاں کسی دوسرے مُلک نے نہیں دیں۔ اِس جنگ میں پاکستان نے 120ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اُٹھایا، یہ بہت مشکل جنگ ہے،لیکن ہماری افواج بہتر طور پر لڑ رہی ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ سے اپنی حالیہ ملاقات میں اُنہیں بتا دیا ہے کہ تمام دہشت گردوں اور عسکری گروپوں سے نپٹنے کے لئے پاکستان زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتا ہے اور پاک سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد گروپ کی کوئی پناہ گاہ نہیں،امن کے لئے دہشت گردوں کو تباہ کرنا پاکستان اور افغانستان کے اپنے مفاد میں ہے، وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار ’’عرب نیوز‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا۔

قیام پاکستان کے شروع کے برسوں میں پاکستان زیادہ تر امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرتا تھا، لیکن اِس سلسلے میں پہلا تلخ تجربہ اُس وقت ہوا جب امریکہ نے عین حالتِ جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیا،بلکہ ہر قسم کے ہتھیاروں کی سپلائی بھی روک دی،حالانکہ پاکستان سیٹو اورسینٹوکے معاہدوں میں شامل تھا اور اس لحاظ سے امریکہ کا حلیف تھا،لیکن امریکہ نے اِس موقع پریہ توجیح پیش کی کہ اگر پاکستان پر کوئی کمیونسٹ مُلک حملہ کرے تو امریکہ امداد کا پابند ہو گا اب چونکہ پاکستان پر حملہ کرنے والا مُلک بھارت کمیونسٹ نہیں تھا اِس لئے اپنے حلیف کی کسی قسم کی مدد کرنا تو امریکہ کی ذمے داری ہی نہیں تھی،بلکہ جو ہتھیار وغیرہ پہلے سے مل رہے تھے اُن کے فالتو پُرزوں کی سپلائی بھی روک دی گئی، یوں بھارت کے ساتھ جنگ میں پاکستان کو پہلا سبق یہ ملا کہ امریکہ پر دفاعی شعبے میں انحصار لائقِ اعتبار نہیں اور پاکستان کو اپنی اسلحی ضروریات پوری کرنے کے لئے متبادل انتظامات کرنے ہوں گے، اِس کے بعد پاکستان نے متبادل ذرائع سے اسلحہ حاصل کرنا شروع کر دیا اور اِس ضمن میں برادر دوست مُلک چین نے بڑھ چڑھ کر پاکستان کی مدد کی، دونوں ممالک میں دفاعی شعبے میں تعاون اِس حد تک وسعت پذیر ہے کہ جے ایف17 تھنڈر جیسے جدید ترین طیارے بھی چین اور پاکستان مل کر بنا رہے ہیں اور بحریہ کے لئے جنگی جہاز اور آبدوزیں بھی چین سے حاصل کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کو اپنی سالمیت کے تحفظ کے لئے دفاع پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا پڑی،کیونکہ اس کا واسطہ بھارت جیسے ہمسائے سے تھا،جس نے اِس خطے میں نہ صرف کشیدگی کو ہوا دی،بکہ ہتھیاروں کی دوڑ کا بھی آغاز کر دیا یہاں تک کہ جنوبی ایشیا میں نیو کلیئر ہتھیاروں کی تیاری کا آغاز بھی بھارت کی جانب سے ہُوا،ویسے تو بھارت نے1974ء میں ہی اِس شعبے میں کام شروع کر دیا تھا،لیکن جب بھارت نے1998ء میں ایٹمی دھماکہ کر کے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز زبان کا استعمال شروع کر دیا تو پاکستان کو بھی امریکی دباؤ کے باوجود جوابی دھماکے کرنے پڑے،اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو کئی بار ٹیلی فون کر کے دھماکہ نہ کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی،لیکن جواب میں نواز شریف کو یہ موقف اختیار کرنا پڑا کہ بھارت کی پہل کے بعد پاکستان کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔اگرچہ دھماکے کے بعد پاکستان کو مختلف قسم کی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم اِس ایٹمی ڈیٹرنس کے ذریعے پاکستان نے خطے کو بڑی جنگ سے محفوظ کر دیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ قربانیاں کسی دوسرے مُلک نے نہیں دیں، اِس جنگ کے شروع میں تو امریکہ کولیشن پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان کی امداد کرتا رہا،لیکن آہستہ آہستہ اس نے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا یہاں تک کہ بہت سا ضروری اسلحہ جو دہشت گردوں سے مقابلے کے لئے ضروری تھا وہ بھی پاکستان کو نہیں دیا گیا،صدر اوباما کی صدارت کے آخری دِنوں میں امریکہ نے وہ بارہ ایف16 طیارے بھی پاکستان کو فروخت کرنے سے انکار کر دیا، جن کے معاملات طے ہو چکے تھے اور صدر اوباما اس کی منظوری دے چکے تھے اِن طیاروں کی قیمت اِس رقم میں سے ادا کی جانا تھی، جو امریکہ کولیشن سپورٹ فنڈ میں پاکستان کو ادا کرنے کا مکلّف تھا،لیکن کانگرس نے اس میں یہ اڑچن ڈال دی کہ طیارے اسی صورت میں پاکستان کو دیئے جائیں گے جب وہ ان کی قیمت نقد ادا کرے گا، اِس لئے یہ سودا منسوخ ہو گیا۔

اس سے پہلے بھی جنرل ضیاء الحق کے دور میں طیاروں کی قیمت وصول کرنے کے باوجود امریکہ نے طویل عرصے تک طیاروں کی ڈلیوری روکے رکھی،ستم ظریفی یہ ہے کہ اِن طیاروں کو ہینگروں میں کھڑے کرنے کا کرایہ بھی پاکستان سے وصول کیا جا رہا تھا، حالانکہ ڈلیوری میں تاخیر کا ذمہ دار پاکستان نہیں تھا،ایسے ہی تجربات کے بعد اب پاکستان اللہ کے فضل وکرم سے دفاعی شعبے میں امریکہ کی محتاجی سے نکل گیا ہے، اور قابلِ اعتماد متبادل انتظامات کے ذریعے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے، یہ پاکستان کا مضبوط دفاعی حصار ہی تھا جس کی وجہ سے وہ دہشت گردوں کو اپنی سرحدوں کے اندر سے ختم کرنے میں کامیاب ہوا،اور اب ان کے ٹھکانے بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں،جبکہ افغانستان میں جہاں امریکہ اور نیٹو ممالک کی فوجیں موجود ہیں، داعش مضبوط ہو رہی ہے،بلکہ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے تو یہ چونکا دینے والا الزام بھی لگایا ہے کہ امریکہ افغانستان میں داعش کو ہتھیار سپلائی کر رہا ہے۔حامد کرزئی امریکی سرپرستی میں افغانستان کے صدر بنے تھے اور اس سے پہلے وہ امریکہ ہی میں مقیم تھے اِس لئے بظاہر اُن کی اِس اطلاع کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ،لیکن اگر امریکہ داعش کو ہتھیار دیتا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کو ختم کرنے کا دعویٰ کس بنیاد پرکر رہا ہے؟ امریکہ کی یہی دوغلی پالیسی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی پھیل رہی ہے۔امریکی افغان پالیسی اگر پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا حربہ ہے تو کیا افغانستان میں داعش کو بھی اس مقصد کے لئے تو مسلح نہیں کیا جا رہا؟

مزید :

اداریہ -