ہیں تلخ بہت بند ۂ مزدور کے اوقات

ہیں تلخ بہت بند ۂ مزدور کے اوقات
ہیں تلخ بہت بند ۂ مزدور کے اوقات

  

صوبائی حکومت نے پبلک ہیلتھ سرویلنس اینڈ ریسپانس آرڈیننس جاری کر کے معدنیاتی کانوں اور فیکٹریوں میں کام کے دوران سیلیکوسس جیسی مہلک مرض کا شکار بننے والے مزدوروں کی صحت اور علاج کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے مثبت قدم اٹھایا،محکمہ صحت نے اس قانون کا مسودہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت سیلیکوسس سے متاثرہ مزدوروں کے کیس کے ریکارڈ میں شامل کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

جس کے بعد سلیکوسس کو بھی ان بیماریوں میں شمار کر لیا جائے گا جن کی مقررہ مدت کے اندر رپورٹنگ لازمی ہوتی ہے، واضح رہے کہ پشاور، مانسہرہ، بونیر، نوشہرہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سیمنٹ فیکٹریوں، ماربل کے کارخانوں اورگرینائٹ کے پہاڑوں میں بلاسٹنگ کرنے والے درجنوں مزدور سینے کی مہلک بیماری سیلیکوسس میں مبتلا پائے گئے اوراسی المیہ کے تدارک کے لئے مزدوروں کے حقوق کی علم بردارتنظیموں نے پہلے ہی سپریم کورٹ میں رٹ درخواست دائر کرکے متاثرہ مزدوروں کے علاج معالجے اور کارکنوں کو بیماریوں سے بچانے کے لئے پیشگی حفاظتی اقدامات اٹھانے کی استدعا کر رکھی ہے۔

بلاشبہ یہ منتخب جمہوری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پیداواری عمل میں حصہ لینے والے مزدوروں کو مہلک بیماریوں سے بچانے اور صنعتی کارکنوں کی استعداد کار بڑھانے کی خاطر انہیں صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے علاوہ کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے مواد سے ماحول،جنگلی و آبی حیات اور انسانی معاشروں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالہ کے لئے موثر قانون سازی کرکے اس کا نفاذ یقینی بنائے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان نے انٹرنشنل لیبر آرگنائزیشن کے 120 کنونشنز پہ دستخط کرنے کے علاوہ ان کی توثیق کر کے قانون سازی کا عہد و پیمانکیا لیکن اول تو یہاں مزدور حقوق کے تحفظ کے لئے موثر قانون سازی نہیں ہو سکی اور اگر کوئی قانون بنا بھی تو سرکاری ادارے اس پر عمل درآمد کا کوئی میکانزم تیار نہ کرسکے،اسی لئے گزشتہ ستر سالوں میں تشکیل پانے والی پانچ لیبر پالیسیز مزدور حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہیں، تمام تر مساعی کے باوجود ہمارے معاشرے میں چائلڈ لیبر کی بدترین صورتیں سامنے آتی ہیں خاص طور پر گھروں میں کام کرنے والے ان بچوں اور بچیوں کے تحفظ کا کوئی قانون موجود نہیں، جن سے چوبیس گھنٹے مشقت لینے کے باوجود انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ چھ سالوں کے دوران ہوٹلوں اور ورکشاپس میں کام کرنے اور بھیک مانگنے والے کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے 28 ہزار 656 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اگرچہ ملکی قوانین کے مطابق چھوٹی سطح کے کارخانوں، موٹر میکنکس کی ورکشاپس، خراد مشینوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے بچوں کے علاج معالجہ اور تعلیم کا بندوبست آجر کی ذمہ داری ہے لیکن یہاں مزدود بچوں سے ان کی جسمانی استعدادسے زیادہ مشقت لینے کے باوجود سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاتی، ہرچند کہ ملک بھر کے ہر ڈسٹرک میں لیبر آفس اور لیبر آفیسر سمیت مناسب سٹاف موجود ہوتا ہے،جن کی ڈیوٹی میں شامل ہے کہ وہ گھریلو ملازمین بچوں کی سوشل انوسٹی گیشن رپوٹ تیار کرنے کے علاوہ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حالت زار کا معائنہ کر کے مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کریں، آئین کے آرٹیکل 3 کے مطابق ہر کسی سے اس کی استعداد کے مطابق کام لینے اور کام کی نوعیت کے مطابق اسکا معاوضہ ادا کیا جانا لازمی ہے، آرٹیکل 37 کہتا ہے کہ ریاست اس امر کی پابند ہو گی کہ بچوں اور عورتوں کو کسی ایسی جگہ کام کرنے کی اجازت نہ دے جہاں ان کی عمر اور جنس کے منافی کام لیا جا رہا ہو،لیبر لاز کے تحت مزدور بچے کو تعلیم اور صحت کی سہولت دینے کے علاوہ کم ازکم چار گھنٹے آرام کے لئے مہیا کرنا اورآٹھ گھنٹے ڈیوٹی کے علاوہ ہفتہ وار چھٹی کی فراہمی یقینی بنائی جانا لازمی ہے، مزدور کی تنخواہوں کو چیک کرنا بھی لیبر آفیسر کا فرض اولین ہے لیکن ملک بھر کے لیبر دفاتر ان مقاصد کے حصول کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔نئے پی ایچ ایس آر آرڈیننس کی پوری تفصیلات تو ابھی میسر نہیں ہوسکیں لیکن اس آرڈیننس کے بنیادی مقاصد میں فیکٹریوں کے زہریلے مواد سے متاثرہ مزدوروں کو بیماریوں سے بچانے کا میکانزم بنانے کے علاوہ متاثرہ مزدوروں کو کارخانہ داروں سے 30 لاکھ روپے ہرجانہ کی ادائیگی کرانے اور بیماریاں پھیلانے والی فیکٹریوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے جیسے قوانین شامل ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان جہاں ایشیاء کی سب سے بڑی چشمہ شوگر ملز سمیت چار شوگر ملیں، ٹیکسٹائل فیکٹری اور ایک بڑی سیمنٹ فیکٹری آپریشنل اور دو نئی شوگر ملیں زیر تعمیرہیں لیکن سرکاری اداروں کی غفلت کے باعث کارخانوں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور قانونی حقوق سے ناواقف اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی پوری اجرت ملتی ہے نہ ان کے بچوں کے لئے صحت و تعلیم کی سہولیات بہم پہنچائی جاتی ہیں، بظاہر تو حکومت نے مزدور کی کم سے کم اجرت 15 ہزار روپے ماہوار مقرر کر رکھی ہے لیکن یہاں کی ٹیکسٹائل اور شوگر انڈسٹریز میں آٹھ کی بجائے دس گھنٹے تک ڈیوٹی لینے کے باوجود مزدور کو 12 ہزار روپے ماہوار سے زیادہ تنخواہ نہیں ملتی،اس کی بڑی وجہ تو یہاں مزدور کو ملازمت کا تحفظ حاصل نہ ہونا ہے ،مستقل ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام کے دوران حادثات کا شکار ہونے اور بیماریوں میں مبتلا ہوجانے والے مزدوروں کو علاج معالجے کی سہولت ملتی ہے نہ مستقبل کا تحفظ، حکومت اگر کارخانوں میں کام کرنے والے کارکنوں کو انشورنس پالیسی پہ عملدرآمد یقینی بنائے تو مزدورون کی ملازمت کو تحفظ ملنے کے ساتھ ان کی فیملیز کو معاشی تحفظ بھی مل سکتا تھا لیکن بوجوہ سرکاری ادارے پیداواری عمل میں بنیادی کردار ادا کرنے والے مزدوروں کے حقوق کی نگرانی سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہاں کے کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے مواد کو ٹھکانے لگانے کا کوئی سسٹم موجود نہیں، فیکٹریوں کا زہریلا فضلا ارد گرد کی زرخیز زمینوں کو بنجر بنانے کے علاوہ دریائے سندھ میں پائی جانے والی آبی حیات کو تلف کر رہا ہے، کارخانوں کا دھواں فضائی آلودگی بڑھا رہا ہے لیکن ای پی اے کے کار پردازوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

متعلقہ ادارے کا رخانہ داروں کو ان مضمرات کے تدارک کے لئے لازمی اقدامات کرنے پہ مجبور کرتے ہیں نہ متاثرہ افراد اور علاقوں کی فلاح کی خاطر قانون کا نفاذ یقینی بناتے ہیں، مزدوروں کے حقوق اور فضائی آلودگی کے تدارک کے لئے کام کرنے والا لیبر ڈیپارٹمنٹ اور انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کی نااہلی سے فائدہ اٹھا کر کارخانہ دار من مانی کرتے ہیں۔

اس وقت یہاں کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے مواد اور دھویں سے اجتماعی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں لیکن ان عوامل سے سرکاری اداروں کی چشم پوشی زیادہ تباہ کن نتائج کی حامل ہو گی،ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی صحت،ماحولیاتی آلودگی کے تدارک اور جنگلی و آبی حیات کو بچانے کی خاطر قانون سازی اس وقت مثبت پیش رفت سمجھی جائے گی جب اس پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا۔ حکومت ڈینگی بخار کی وباء پر قابو پا لے گی؟

صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ کے وسطی اضلاع کی شہری اور مضافاتی آبادیاں ڈینگی بخار کی وباء کی لپیٹ میں ہیں،ڈینگی ریسپانس یونٹ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ڈینگی مچھر سے پھیلنے والے بخار سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 470 نئے مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہوئی جن میں 123 مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کرلیا گیا،صرف بدھ کے روز این ایس ٹائپ ڈینگی وائرس سے چار افراد موت کے منہ میں چلے گئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں،پہلی بار 2014 میں ڈینگی بخار کی وباء نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو لپیٹ میں لیا، جہاں اس ڈینگی وائرس سے ہزاروں افراد متاثر اور درجنوں جاں بحق ہو گئے لیکن پنجاب کی صوبائی حکومت نے ڈینگی وائرس وباء کے تدارک کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہوئے نہایت صبر اور حکمت سے اس مصیبت کا مقابلہ کیا،پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے ڈینگی کے خلاف مہم کو اولیت دیتے ہوئے اسے خود لیڈ کیا اور محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں نے مشترکہ مساعی سے دن رات ایک کر کے اس موذی مرض پر قابو پا لیا، پنجاب گورنمنٹ نے ڈینگی بخار کی وباء کے قلع قمع کی خاطر سری لنکا کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کیں اور دو سال کی سر توڑ کوشش کے بعد پنجاب سے اس وباء کو نکال باہر پھینکا لیکن خیبر پختون خواکی صوبائی حکومت ڈینگی کی وباء پر قابو پانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی، ایک تو یہاں کے محکمہ صحت کے اندر جنگی بنیادوں پر وبائی امراض سے نمٹنے کی صلاحیت موجود نہیں تھی دوسرے یہاں کے ڈاکٹر ایسے کسی مرض کے تدارک کی مناسب مہاریت نہیں رکھتے،چنانچہ صوبائی حکومت کی بے حسی کے علاوہ مسیحاوں کی نا تجربہ کاری اور ہسپتالوں میں سہولتوں کا فقدان ڈینگی بخار کی وبائی یلغار کی راہ روکنے میں ناکام رہا،ہمارے خیال میں صوبائی حکومت کی ترجیحات میں ایسی غیر متوقع مہمات کے مقابلہ کی تیاری کا کوئی پروگرام شامل نہیں تھا،وزیر اعلی پرویز خٹک انسانی سماج سے جڑے ایسے لاینحل مسائل سے نبرد آزما ہونے کا تجربہ رکھتے ہیں نہ ہی یہاں کی گورننس میں ایسے پیچیدہ اور اعصاب شکن معاملات سے نمٹنے کی سکت تھی،اس لئے صوبائی حکومت کا فرسودہ ڈھانچہ اور محکمہ صحت کے رجال کار کی بے حسی اس انسانی المیہ کی تلخی کو دو چند کر رہی ہے،شاید اسی لئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی حامد الحق،جس کی بیوی اور بیٹا ڈینگی بخار میں مبتلا ہیں،نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانیت کے ناطے خیبر پختونخوا کوا میں ڈینگی کی وباء پہ قابو پانے کی خاطر صوبائی حکومت کی مدد کرے ۔

مزید :

کالم -