کیا2018ء میں انتخابات نہیں ہوں گے؟

کیا2018ء میں انتخابات نہیں ہوں گے؟
 کیا2018ء میں انتخابات نہیں ہوں گے؟

  

یہ کیوں کہا جارہا ہے کہ 2018ء میں انتخابات نہیں ہوں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے تو اب کہا کہ 2018ء میں انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے، تاہم اُن سے پہلے بھی خاص طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے اس حوالے سے بہت کچھ کہا جارہا ہے۔ حیرت ہے کہ ایک طرف عمران خان اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں اور دوسری طرف یہ تک کہا جارہا ہے کہ 2018ء میں بھی انتخابات کا انعقاد ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔

جتنے منہ اتنی باتیں ہیں۔ یہ بات تو بہت پہلے سے کہی جارہی ہے کہ مارچ میں سینٹ کے انتخابات سے پہلے ان اسمبلیوں کو چلتا کیا جائے گا، تاکہ سینٹ کے انتخابات نئی اسمبلیوں کے مینڈیٹ کی بنیاد پر ہوں، جبکہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی کوشش ہے کہ سینٹ کے انتخابات کا مرحلہ انہی اسمبلیوں کی موجوگی میں مکمل ہو، تاکہ سینٹ میں وہ ایک اکثریتی پارٹی کے طور پر اُبھرے۔ یہ منطق تو سمجھ آتی ہے، لیکن یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ 2018ء میں انتخابات ہی نہ ہوں۔میرا خیال ہے کہ ذاتی خدشات ہوسکتے ہیں، وگرنہ حقیقت یہی ہے کہ 2018ء میں انتخابات ہوں گے اور جمہوریت کا یہ تسلسل برقرار رہے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر اس افواہ یا خدشے کی بنیاد کیا ہے؟۔۔۔ کیوں یہ سمجھا جارہا ہے کہ آئندہ انتخابات بروقت نہیں ہوں گے۔ میرا خیال ہے یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ملک میں افواہوں کے لئے حالات پیدا کردیئے گئے ہیں۔ جب سے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سپریم کورٹ کے حکم سے نااہل ہوئے ہیں اور انہوں نے پورے نظام کو نشانے پر رکھ لیا ہے، اُس مقدمے سے بے یقینی بہت بڑھ گئی ہے، یہ وہ صورت حال ہے ، جس میں حقائق کے سامنے آنے تک چیزوں کو ساکت کردیا جاتا ہے، اگر نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسوں کا فیصلہ دی گئی مدت کے مطابق،یعنی 6ماہ میں نہیں ہوتا تو نواز شریف کے خلاف بنائے گئے ریفرنس سیاسی انتقام کے پروپیگنڈے کی وجہ بن جائیں گے۔

ایسے حالات میں اگر انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو نوازشریف مظلومیت کا نعرہ لگا کر میدان میں اُتریں گے اور کوئی بعید نہیں کہ وہ عوام سے مسلم لیگ (ن) کے لئے دوبارہ مینڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ یہ ایک بہت بڑی بحرانی کیفیت ہوگی اور جو کچھ آج نظر آرہا ہے، وہ آنے والے برسوں میں بھی جاری رہے گا۔ اس وقت شریف فیملی کی حکمتِ عملی بالکل واضح ہے، وہ نہیں چاہتی کہ نیب ریفرنسوں کی سماعت ہو، یہی وجہ ہے کہ نیب عدالت میں پیشی کے وقت کبھی ایک فرد حاضر ہوتا ہے اور کبھی دوسرا۔ اگر نیب کیسوں کو شریف فیملی انتخابات تک طول دینے میں کامیاب رہتی ہے تو نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے صدر ہونے کی حیثیت سے بڑے جلسے کریں گے اور اُن میں یہی نکتہ عوام کو ہاور کرائیں گے کہ اُن کے خلاف کیسوں میں کوئی جان نہیں اور انہیں ایک سازش کے تحت وزارتِ عظمیٰ سے معزول کیا گیا۔ اس صورت حال سے بچنے کے لئے شاید ملک میں ایک نگران حکومت کا ڈول ڈالا جائے۔ وہ نگران حکومت 3ماہ کے لئے نہیں آئے گی، اس کا دائرہ احتساب کے بعد انتخابات تک محیط ہوگا۔ ایسا ہوا تو پچھلے دس سال میں جمہوریت کا تسلسل رہنے کے بعد پہلی بار جمہوریت کے راستے میں ایک رکاوٹ نظر آئے گی، جس کا جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔

افواہوں کا بازار اس لئے بھی گرم ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود کو ابھی تک وزیر اعظم نہیں منواسکے۔ وہ خود اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ میں وزیر اعظم نہیں، بلکہ وزیر اعظم نواز شریف ہیں۔ بھلے وہ یہ بات کسی وجہ سے بھی کہتے ہوں، مگر اُن کے اس رویے سے پاکستان بحران سے دوچار ہو رہا ہے۔ یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ ملک کا چیف ایگزیکٹو خود کو چیف ایگزیکٹو نہیں سمجھ رہا۔ یہ ملک ہے، کوئی فیکٹری یا ڈیرا تو نہیں جسے اس انداز سے چلایا جا رہا ہے۔

ملک میں ایک چین آف کمانڈ ہوتی ہے، اس کے تحت سب کچھ چلتا ہے، مگر اس وقت کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ چین آف کمانڈ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے پاس ہے یا نواز شریف کے پاس؟۔۔۔ دو چار دنوں کے لئے تو یہ صورت حال چل سکتی ہے، لیکن کئی ماہ تک اس گومگو والی حالت کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ اس لئے یہ افواہیں زیادہ تیزی سے گرم ہیں کہ بالآخر شاہد خاقان عباسی کو یا تو وزیر اعظم بننا پڑے گا یا پھر انہیں مجبور کردیا جائے گا کہ وہ اسمبلی توڑیں اور نئے انتخابات کا اعلان کریں۔

پچھلے چند دنوں سے شاہد خاقان عباسی خود مختاری کے ساتھ فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے اپنے وزراء اور ارکان اسمبلی کو بھی منع کردیا ہے کہ وہ اداروں کے خلاف کوئی گفتگو نہ کریں۔ یہ اس پالیسی سے مختلف ہے جو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اختیار کررکھی ہے اور جس کا مریم نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر پھر اعادہ کیا۔ ایک آزادانہ نظامِ حکومت کا چلنا خود مسلم لیگ (ن) کے بھی مفاد میں ہے۔

اس سے اس کی کارکردگی بڑھے گی اورباقی ماندہ عرصے میں ترقیاتی کام بھی ہوں گے،لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا اور حکومت کو لولے لنگڑے انداز میں چلایا جاتا ہے، فیصلے وزیر اعظم کی بجائے کوئی اور کرتا ہے تو یہ اس صورت حال کو جنم دے گی جو قبل از وقت انتخابات یا قومی حکومت کی تشکیل کا باعث بن سکتی ہے۔

تین ماہ کی نگران حکومت تو سب کو گوارا ہے، کیونکہ یہ نئے انتخابات سے پہلے آئینی تقاضا بھی ہے، لیکن غیرمعینہ مدت کے لئے غیر منتخب یاٹیکنو کریٹس کی حکومت کسی کو گوارانہیں۔ تمام جماعتوں کی پہلی ترجیح یہی ہونی چاہئے کہ انتخابات موجودہ نظام کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعدبروقت ہوں، کیونکہ اس میں اگر رخنہ آگیا تو پھر پچھتانا پڑے گا۔ پہلے احتساب اور پھر انتخاب کے نعرے ہم نے بہت دیکھے ہیں۔

احتساب وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا رہے، لیکن اسے انتخابات کے التواء کا سبب نہ بنایا جائے، لیکن یہ تبھی ممکن ہے، جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت، جو احتسابی نظام موجود ہے، اس کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے۔ شریف خاندان یہ تاثر نہ دے کہ وہ احتساب سے بالاتر ہے۔ خود حکومت بھی اپنی رٹ آف گورنمنٹ کو منوائے، اللہ نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا ہے، تو وہ وزیر اعظم بن کر دکھائیں، بار بار یہ کہنے سے اجتناب کریں کہ اصل وزیر اعظم تو نواز شریف ہیں۔ یہ بات نگران حکومت کے قیام کی سب سے بڑی وجہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہ بات آئینی طور پر بھی غلط ہے اور موثر حکومت کے قیام میں بھی ایسی باتیں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔۔۔ اگر وہ یہی کہتے رہیں گے تو محکموں کے سیکرٹری حضرات اور دیگر سینئر حکام کنفیوژ ہوجائیں گے۔

کئی جوشاطر ہیں، وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف سے پرانے روابط کے تحت من مانیاں کریں گے، یوں حکومت کا نظام کمزور سے کمزور تر ہوتا جائے گا اور شخصیات اہمیت اختیار کرجائیں گی، جو بالآجمہوریت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

عمران خان نے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا ہے، وہ کوئی غیر آئینی بات نہیں، اُن کا تھیسز بھی یہی ہے کہ ملک میں چونکہ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اور وزیر اعظم ایک نااہل قرار پانے والے شخص سے ہدایات لیتا ہے، جو سراسر قانون اور آئین کے خلاف ہے، اس لئے ملک میں انتخابات کرواکر تازہ مینڈیٹ لیا جائے۔ اب اگر اُن کے اس مطالبے کو رد کرنا ہے تو ضروری ہے کہ حکومت خود کو عضوِ معطل ہونے کے تاثر سے نکالے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بہت اچھا بیان دیا ہے کہ امریکہ پر انحصار کے دن گزرگئے۔ افغان عمل میں بھارت کو شامل کرنے کی امریکی خواہش کے سنگین نتائج نکلیں گے، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے تین وزیروں، یعنی دفاع، خارجہ اور داخلہ کے وزراء کو یہ ہدایت جاری کریں کہ وہ ایسا کوئی بیان جاری نہ کریں، جس سے ہماری کوئی کمزوری ظاہر ہوتی ہو۔

اُن کے پاس قومی اسمبلی میں واضح اکثریت موجود ہے اور لوگ اُن کی بات بھی مانتے ہیں، اس لئے اپنی کابینہ کو اعتماد میں لیں اور نواز شریف کو یہ سمجھائیں کہ اگر ہم نے ہی حکومت میں رہ کر سسٹم کو کمزور کیا تو کوئی تیسرا آکر اسے چلتا کرے گا۔ شاہد خاقان عباسی پارلیمانی جماعتوں کا ایک اجلاس بلائیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر یہ مشترکہ قرار داد منظور کرائیں کہ ملک میں عام انتخابات طے شدہ آئینی مدت کے مطابق 2018ء میں ہوں گے، احتساب آزدانہ جاری رہے گا اور صرف احتساب کی آڑ لے کر کوئی بھی ٹیکنوکریٹ یا قومی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔ اس سے اور کچھ نہیں تو کم از کم 2018ء میں انتخابات نہ ہونے کی افواہیں دم توڑ جائیں گی۔

مزید :

کالم -