امریکی صدر کی دھمکیاں یا۔۔۔۔۔۔؟

امریکی صدر کی دھمکیاں یا۔۔۔۔۔۔؟
 امریکی صدر کی دھمکیاں یا۔۔۔۔۔۔؟

  

مجھے لگتا ہے گزشتہ برس امریکہ میں ملی ڈونلڈٹرمپ کی صدارتی کامیابی نے قربِ قیامت کی نشانیوں کو حقانیت سے ہمکنار کرنے کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔۔۔ چنانچہ امسال 20جنوری کو صدارت کی مسند سنبھالتے ہی ٹرمپ صاحب نے چاروں طرف آٹو میٹک فائری ہتھیاروں کے دہانے کھول دیئے ۔ ان کو زعم تھا کہ ان کا ملک واقعی دنیا کی واحد سپریم پاور ہے اور باقی اقوام و ممالک کیڑے مکوڑے ہیں۔

یہ تو جب ان کو ان کی عسکری قیادت نے بریفنگ دی تو ان پر کھلا کہ :خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔

آپ جب تک پہاڑ کے دامن میں ہوتے ہیں آپ کو اپنے چار چوفیرے پھیلی ٹیرین (Terrain) کے نشیب و فراز نظر نہیں آتے لیکن جب آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کا اصل نشیمن قلّہء کوہ پر ہے تو آپ دامنِ کوہ کو خاطر میں نہیں لاتے اور نہ ہی اردگرد پھیلی سرزمین کا اونچ نیچ آپ کی نگاہوں میں سماتا ہے۔

وہ تو جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہیں اور وہاں سے چہار جانب نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ عقبی ڈھلانوں (ریورس سلوپس) میں لگے کوہستانی مارٹروں کے دہانے کتنے بڑے ہیں اور آپ کا سراپا ان کے کتنا قریب ہے اور سامنائی ڈھلانوں (فرنٹل سلوپس) کے گڑھے، غار، کھائیاں اور اترائیاں کتنی گہری اور ہولناک ہیں۔

جب ڈونلڈٹرمپ سپریم پاور کی چوٹی پر چڑھ گئے تو ان کو معلوم ہوا کہ وہ جو بار بار اپنے واحد سپرپاور ہونے کی ڈینگیں مار رہے تھے ان کی حقیقت کیا ہے۔ بظاہر تو ٹرمپ نے روس کو بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا لیکن جب شام میں رشین ائر فورس اور نیوی نے امریکہ اور اس کی ہم نوا داعش (IS) کو چاروں شانے چت کرکے ارضِ ادلیب و حلب سے باہر نکال دیا تو امریکہ کو اپنے زخم چاٹنے پڑے۔۔۔ آج بھی وہ یہی کچھ کر رہا ہے۔

اس کے بعد امریکہ نے چین کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں کہ روس کے بعد وہی دنیا کی تیسری بڑی طاقت تھی۔ (اور ہے)اپنے طیارہ برداروں کو ساؤتھ چائنا سمندر کی طرف دھکیل دیا، اپنی جوہری آبدوزوں کو اس کے سمندر کے پانیوں میں پیٹرولنگ کرنے کی بڑھکیں ماریں، قریب ہی کے ایک جزیرے، گوام کے فضائی اور بحری مستقروں (Bases) کو ریڈ الرٹ پر رکھنے کا ڈھونگ رچایا لیکن جب چین، ساؤتھ چائنا سمندر میں اپنے حقوقِ ملکیت و جہاز رانی کے دعوے سے ٹس سے مس نہ ہوا تو امریکہ ’’آنے والی جگہ‘‘ پر لوٹ آیا۔۔۔ اور پھر جب شمالی کوریا نے یکے بعد دیگرے چھ جوہری تجربات کر ڈالے اور بین البراعظمی میزائلوں کو جاپان کی فضاؤں کے اوپر سے پرواز کرکے مغربی امریکہ کے سواحل کی جانب پھینکا تو ٹرمپ کی دھمکیوں کا کچھ ٹھکانا نہ رہا۔

ایک کے بعد ایک خوفناک دھمکی دی اور پیانگ یانگ کو صفحہ ء ہستی سے نیست و نابود ہونے کا ’’مژدہ‘‘ سنایا۔ لیکن بجائے اس کے کہ شمالی کورین لیڈر، کم جانگ اُن کے چہرے پرکسی پریشانی کے کوئی آثار نظر آتے اس نے اپنی چادر اوپر اٹھا دی۔۔۔ وہ دن اور آج کا دن ٹرمپ صاحب اور ان کی انتظامیہ اپنا تھوکا چاٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شمالی کوریا کے بعد افغانستان پالیسی کے اعلان کی باری آئی جس کا ایک عرصے سے انتظار تھا تو جنوبی ایشیاء کے اس خطے میں اپنے نئے حلیف انڈیا کے غبارے میں اس قدر ہوا بھر دی کہ وہ پھٹنے کے قریب جا پہنچا۔ اسے خطے کا مہاپروہت بنا دیا گیا اور کہا گیاکہ افغانستان میں ہماری جگہ لے لو اور جو کام ہم 16برسوں تک ایڑی چوٹی کا زور لگا کر نہیں کر سکے اسے تم منطقی انجام تک پہنچاؤ۔ فوراً بعد بڑے طمطراق سے اپنے وزیردفاع کو نئی دہلی بھیجا کہ جاؤ انڈیا کو ایف۔16 پلانٹ کی آفر کرو اور ساتھ ہی بلاک 70کے 126طیاروں کی فروخت کا بھی ڈول ڈالو۔

اور اسے یہ بھی دعوت دو کہ اپنی سپاہ کے بوٹ، کابل و قندھار میں لے جائے تاکہ ناٹو اور ایساف کی ناکامیوں کا اتباع کرتے ہوئے انڈین سولجری کو بھی ہماری صف میں کھڑا ہونے کی جگہ مل جائے۔ لیکن جب انڈین وزیر دفاع دھان پان نرملا سیتارامن جی نے اپنے لحیم و شحیم امریکی ہم منصب کو صاف صاف بتا دیا کہ ہم انڈین بوٹ، افغانستان کی سرزمین پر لے جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے تو ٹرمپ کو تیسری ناکامی کا سامنا ہوا۔

ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں بھی اپنی نئی افغان پالیسی کے خدوخال واضح کرتے ہوئے کئی اشتعال انگیز باتیں کیں۔ ان الزامات کی زبان کسی بھی طرح ان کے منصب سے لگا نہیں کھاتی تھی لیکن امریکی نظام سقّہ نے شائد تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ آئندہ سوا تین برسوں میں چام کے دام چلانے سے گریز نہیں کرے گا۔ پاکستان نے جس تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا اور بین الاقوامی سیاسی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے جس استقلال اور پامردی سے امریکی صدر کی ایک ایک ڈینگ کا پردہ چاک کیا اس کا اقرار ٹرمپ کی انتخابی حریف ہلیری کلنٹن نے جس کھلے انداز میں کیا وہ حیرت انگیز بھی تھا اور قابلِ تحسین بھی۔ امریکی مدبرین اس قسم کا کڑوا سچ بولنے کے عادی نہیں ہوتے لیکن مسز کلنٹن نے روائت شکنی کرتے ہوئے سچی بات کہہ ہی دی تھی۔

پاکستان کے آرمی چیف نے امریکہ کی اس نئی افغان پالیسی کے بخیئے بھی نہایت تدبر سے اکھیڑے اور کہا کہ اب پاکستان نہیں امریکہ اور باقی دنیا کو ’’ڈومور‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کل کا بیان اور بھی صریح تھا کہ : ’’ہم کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے افعال و اعمال اور ہماری حرکات و سکنات کو غلط معانی پہنائے۔

انہوں نے اگلے روز پاک فضائیہ کی اصغر خان اکیڈمی ،رسالپور میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے بڑے دبنگ الفاظ میں پاکستان کے کھلے اور پوشیدہ دشمنوں کو جو کھری کھری سنائیں وہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز تھیں۔ انہوں نے کہا: ’’اگر ہمارے کسی دشمن نے ہمارے خلاف کسی جارحانہ اقدام کی کوشش کی تو اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیاجائے گا، اس کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور دشمن کو اسی کے سکوں میں اس کا جواب دیا جائے گا‘‘۔۔۔۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے شاہینوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاک فضائیہ پاکستان کی اہم ترین دفاعی فورس ہے اور اس نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی مستور گاہوں (Hideouts) اور ٹریننگ کیمپوں کا صفایا کرنے میں ایک کلیدی رول ادا کیا ہے۔

میں قارئین کے سامنے جنابِ ٹرمپ کی چارسالہ مدت کی دھمکیوں اور بڑھکوں کی اولین نوماہی رپورٹ پیش کر رہا تھا۔۔۔ انہوں نے روس، چین، شمالی کوریا اور پاکستان کے بعد ایران کا رخ کیا اور تازہ خبریں یہ ہیں کہ دو سال قبل اوباما نے جو نیوکلیئر ڈیل ایران سے کی تھی اس کو 15اکتوبر 2017ء کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ لیکن ایران کے لئے یہ گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا والی بات ہوگی۔ ایران کا سوادِ اعظم تو یہی چاہتا تھا کہ یہ ڈیل نہ کی جائے لیکن جب حکومت نے اس کا فیصلہ کر لیا تو ایرانی عوام نے اسے تسلیم کرنے میں زیادہ پس و پیش کا مظاہرہ نہ کیا۔

افغانستان کی طرح اب ٹرمپ ایران کے بارے میں بھی اپنی نئی سٹرٹیجک پالیسی کا اعلان کرنے والے ہیں۔6اکتوبر (جمعہ) کو انہوں نے فرمایا کہ: ’’یا تو ایران اپنے میزائلوں کے تجربات بند کر دے یا پھر ہم نیوکلیئر معاہدہ ختم کرکے از سر نو ایران پر پابندیاں لگا دیں گے‘‘۔۔۔ماضی قریب و بعید میں پابندیاں لگانے کا یہ ’’مخول‘‘ کئی بار امریکیوں کو خاصا مہنگا پڑا ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ اس قوم کی دماغی کیفیت میں تکبر کا کیڑا سرسراتا رہتا ہے۔ شائد اسی کیفیت کی ترجمانی اقبالؒ نے اس شعر میں کی تھی:

بیاں میں نکتہء توحید آ تو سکتا ہے

ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیئے

اسی مخول سے تنگ آکر ایرانی گارڈز کمانڈر محمد علی جعفری کو کہنا پڑا: ’’اگر امریکہ نے ایران پر کوئی نئی پابندیاں لگانے کی حرکت کی تو ہم اپنے میزائلوں کی رینج 2000 کلومیٹر سے آگے بڑھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید برآں یہ پابندیاں، امریکہ کے ساتھ آئندہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے دروازے بھی بند کر دیں گی۔۔۔ اور اگر امریکی حکومت یہ بیوقوفانہ اقدام اٹھانے پر غور کر رہی ہے کہ وہ ایران کی سپاہِ پاسدارانِِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم ڈکلیئرکرکے اس پر پابندیاں لگا دے گی تو ہمارے پاسدارانِ انقلاب تمام امریکی آرمی کو وہ جہاں کہیں بھی ہوگی، (بالخصوص مشرق وسطیٰ میں) دہشت گرد تنظیم ڈکلیئر کر دیں گے‘‘۔

اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ داعش کا اصل خالق امریکہ تھا اور اس کی مالی اور اسلحی معاونت سعودی عرب کے ذمے تھی۔ علاوہ ازیں داعش کی ٹریننگ اور ان کو مسلح کرنے کا سارا پروگرام (سعودی خرچے پر) امریکہ کا تھا۔ یہ تنظیم کچھ عرصے سے افغانستان میں بھی پائی جا رہی ہے۔ پچھلے دنوں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے رشین ٹی وی (RT) کو انٹرویو دیتے ہوئے کئی انکشافات کئے اور امریکی انتظامیہ کے اس چہرے کو بے نقاب کیا۔جو وہ کابل میں زیر نقاب کرکے بیٹھا ہے۔

حامد کرزئی پاکستان کے دوستوں میں شمار نہیں ہوتے اور اپنے دورِ صدارت میں پاکستان کے خلاف (امریکہ سے مل کر) انہوں نے جو کارروائیاں (زبانی ، تحریری اور عملی) کی تھیں، وہ سب ہم پاکستانیوں کو یاد ہیں۔ لیکن اس انٹرویو میں کرزئی نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ امریکی افواج کے ہوتے ہوئے افغانستان میں داعش کی موجودگی چہ معنی دارد؟۔۔۔ ہمیں بھی اور کرزئی کو بھی معلوم ہے کہ امریکہ داعش کو طالبان کے خلاف بھی استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے خلاف بھی۔

پچھلے دنوں بحیرۂ روم میں روسی آبدوزوں سے دو میزائل فائر ہوتے دکھائے گئے تھے جو ہزاروں کلومیٹر دور اپنے ہدف کو جا لگے تھے۔ جن ناظرین نے وہ کلپ دیکھی ہے وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ بحیرۂ روم میں نیوکلیئر آبدوزوں کی موجودگی دوہا قطر میں امریکی بحری مستقروں کے لئے کیا پیغام رکھتی ہے۔

آئی آر جی سی (IRGC) ’’یعنی ایرانین ریولیشنری گارڈز کور‘‘ کے کمانڈر جعفری نے اسی لئے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کو جان لینا چاہیے کہ وہ کس شیشے کے گھر میں بیٹھا ہے اور کس کو پتھر ما رہا ہے؟۔۔۔

یہ کالم طویل ہو رہا ہے۔۔۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو اب ڈینگیں مارنی ترک کر دینی چاہیے۔ شیر آیا شیر آیا کا انجام ساری دنیا دیکھ رہی ہے اور اگر امریکہ کا کوئی شیر واقعی آ گیا تو تیسری جنگ عظیم ناگزیر ہو جائے گی اور اس کے بعد:

چیست یارانِ طریقت بعد ازیں تو بیرِ ما

مزید :

کالم -