برآمدات بڑھانے کے لئے غیر روایتی منڈیوں تک رسائی ضروری ہے

برآمدات بڑھانے کے لئے غیر روایتی منڈیوں تک رسائی ضروری ہے

  

کراچی (اے پی پی) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ تاجر و صنعتکاربرادری حکومت کی جانب سے زر مبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے مقامی کرنسی کی قدر کم نہ کرنے کی فیصلے کی بھر پور حمایت کرتی ہے۔ صورتحال بہتر بنانے کیلئے روپے کی قدر کم کرنے کے بجائے برآمدات بڑھانے کے لئے ایکسپورٹ سیکٹرکو مزید سہولیات دینے ، غیر روایتی منڈیوں تک رسائی اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ میاں زاہد حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دو سو پچاس اشیاء کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے سے درآمدات میں کمی آئے گی جبکہ حکومت کی آمدنی میں بھی 20 تا 25 ارب روپے کا اضافہ ہو گا۔ اشیائے تعیش کی درآمدات کم ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارے کی ایک بڑی وجہ سی پیک کیلئے مشینری کی بڑھتی ہوئی درآمدات ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال جاری حسابات کا خسارہ جی ڈی پی کا چار فیصد تھاجو سال رواں کے ابتدائی دو ماہ میں 2.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

انھوں نے مزیدکہا کہ کرنسی کی قدر کم کرنے سے نہ صرف افراط زر بڑھے گا، اس لئے برآمدات کو بڑھایا جائے جس کے لئے اصلاحات اوربرآمدی شعبے کیلئے توانائی کی قیمت کو کم کرنا اور ریفنڈ کی فوری ادائیگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے وقتی اقدامات اور پیکجز پر انحصار کی بجائے طویل المعیاد پالیسی بنانا زیادہ بہتر ہو گا۔

مزید :

کامرس -