حکومت کا ایک ارب ڈالر قرضہ لینے کا فیصلہ تشویشناک ہے : ناصر حمیدخان

حکومت کا ایک ارب ڈالر قرضہ لینے کا فیصلہ تشویشناک ہے : ناصر حمیدخان

  

لاہور(کامرس رپورٹر)تاجر راہنما و پاکستان آٹو موبائل سپیئرپارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن(پاسپیڈا) کے مرکزی چیئرمین ناصر حمید خاں نے ملک کی معیشت کی ناقص صورتحال اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 3ماہ کے امپورٹ بل کی ادائیگی سے کم رہنے کے باعث چین، متحدہ عرب امارات اور یورپی بینک سے 500ملین ڈالرز سے ایک ارب ڈالر قرض لینے کے فیصلہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیلئے مہنگی شرح سود پر قرض لینے کا فیصلہ ملکی معیشت پر بوجھ ہوگا اور ان قرضوں کی ادائیگی کیلئے عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جائے گا۔

اس لیے مزید قرض لینے کی بجائے ملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوان خیالات کا اظہار انہوں نے پاسپیڈا کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ناصر حمید خان نے کہا کہ ملکی برآمدات میں کمی کی اہم وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ سے ملکی سطح پر تیار ہونی والی اشیاء کا مہنگا ہونا ہے اس لیے برآمدات میں اضافہ کیلئے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لینے کے ساتھ ساتھ صنعتی مقاصد کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ تجارتی پالیسی میں مختص اربوں روپے کے فنڈز استعمال کرکے بیرون ملک نئی منڈیوں کی تلاش اور صنعتی نمائشوں کا اہتمام کیا جائے

مزید :

کامرس -