ذہنی مریضوں پر آوازیں کسنا غلط ، پیار اور محبت سے پیش آیا جائے : سلمان رفیق

ذہنی مریضوں پر آوازیں کسنا غلط ، پیار اور محبت سے پیش آیا جائے : سلمان رفیق

  

لاہور(جنرل رپورٹر)صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ ذہنی مریضوں کے ساتھ اس کے اہل خانہ کا بہتر سلوک بیماری کی شدت کو کم کرنے اور جلد صحت یابی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ذہنی بیماریوں کا شکار افراد کے ساتھ بدسلوکی نہ کی جائے، ان کا مذاق نہ بنایا جائے اور ان پر آوازیں نہ کسی جائیں انہوں نے یہ بات ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کے موقع پر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (پی آئی ایم ایچ)کے زیرا ہتمام آگاہی واک کے اختتام پر ریس کورس پارک کے گیٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ذہنی صحت کے عالمی دن کی مناسبت سے آگاہی واک میں پی آئی ایم ایچ کے چیف ایگزیکٹوڈاکٹر ناصر محمود بھٹی کے علاوہ ہسپتال کے سپیشلسٹس، ڈاکٹرز ، نرسز ، پیرامیڈکس اور مریضوں نے بھی شرکت کی۔خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت ذہنی امراض کے علاج کے لئے سہولیات میں اضافہ کررہی ہے اور تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کے علاوہ اب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں بھی سائیکاٹرسٹ تعینات کئے گئے ہیں اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں ذہنی و نفسیاتی امرایض کا مکمل شعبہ کام کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ذہنی صحت کے حوالے سے 2014کے پاس کردہ قوانین کو مزید بہتر بنانے کے لئے ترامیم پر کام کررہی ہے اور مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کو بھی فعال بنایا جارہا ہے۔ اس موقع پر ادارے کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ناصر محمود بھٹی نے بتایا کہ پی آئی ایم ایچ میں مریضو ں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کی بحالی پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے اور ایسے مریض جن کی دماغی حالت بہتر ہو جاتی ہے انہیں بحالی مرکز میں ان کی دلچسپی کے مطابق ہنر، دستکاری اور مصوری وغیرہ سکھائی جاتی ہے تاکہ ان کا ذہنی دباؤ کم ہو اور وہ جلد مکمل صحت یاب ہو کر معاشرے میں واپس جاسکیں۔ وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹرز، کنسلٹنس، نرسز اور دیگر سٹاف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کا عملہ ان لوگوں کا خیال رکھتا ہے جن کو ان کے اپنے گھر والے بھی نہیں پوچھتے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -