’’خونی انقلاب‘‘ وزیر اعلیٰ عام لوگوں کے ساتھ ہوں گے، شہباز شریف کا انتباہ

’’خونی انقلاب‘‘ وزیر اعلیٰ عام لوگوں کے ساتھ ہوں گے، شہباز شریف کا انتباہ

  

وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر بڑے برہم ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ عوامی بہبود کے منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کہ عوامی مفاد کی ترقی روکنے سے خونی انقلاب کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے رویوں سے انقلاب آیا تو وہ نیچے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ان کا موقف ہے کہ اورنج لائن میٹرو منصوبے کو روکنے کے لئے مخالفین نے مقدمے بازی کا سہارا لیا ہے، ان کو خوف ہے کہ میٹرو بس، اور سپیڈو پنجاب کے بعد میٹرو ٹرین بھی چلی تو ان حضرات کو لاہور تو کجا پنجاب بھر سے ووٹ نہیں ملیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے گزشتہ اتوار کو ڈیرہ گوجراں میں چین سے تیار ہو کر آنے والی پہلی میٹرو ٹرین کی نقاب کشائی کی جو معہ انجن آئی ہے۔ اس سے ایک وقت میں ایک ہزار مسافر سفر کر سکیں گے اور پورے نظام کی وجہ سے روزانہ پانچ لاکھ افراد مستفید ہوں گے ٹرین کا پورا سفر 43 منٹ میں مکمل ہوگا۔

وزیر اعلیٰ نے دھیمے اور برہم انداز میں تقریر کی اور حیرت ظاہر کی کہ عوامی مفاد کے اس منصوبے میں تکنیکی بنیاد پر مقدمہ بازی کر کے رکاوٹ پیدا کی گئی جسے 25 دسمبر تک مکمل ہونا ہے اور اس کے لئے انہوں نے چینی کمپنی اور انجینئروں کی منت بھی کی تھی۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین کا کام ان علاقوں میں تکمیل کے آخری مراحل طے کر رہا ہے جن کے حوالے سے کوئی حکم امتناعی نہیں چوک چوبرجی، لکشمی چوک اور شالیمار گارڈن کے مقامات پر ابھی کام رکا ہوا ہے کہ عدالت سے حکم امتناعی جاری ہوا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متاثر رہنے کا خدشہ ہوا تو حکومت نے رکاوٹوں کے حوالے سے متبادل تجویز بھی تیار کی ہے تاکہ 25 دسمبر کو افتتاح ہو سکے بظاہر مقررہ تاریخ پر یہ ممکن نظر نہیں آتا لیکن وزیر اعلیٰ شہباز شریف سرگرم عمل ہیں۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف وزیر اعلیٰ کو کھلے مین ہولوں کی وجہ سے بچوں کی اموات کے حوالے سے بھی سخت نوٹس لینا پڑا ہے۔ اس بناء پر اب واسا کے مینجنگ ڈائریکٹر کی طرف سے نیا حکم جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کسی بھی علاقے میں کھلے مین ہول کی ذمہ داری متعلقہ سب ڈویژن کے ایس ڈی او پر ہو گی۔ اس سلسلے میں میڈیا نے جو سروے کیا اس کے مطابق شہر بھر میں قریباً دو سو مین ہول کھلے ہیں جن کی مرمت اور ان پر ڈھکنوں کی ضرورت ہے۔ خود واسا حکام کو بھی سروے کر کے حالات کا جائزہ لینا اور ہنگامی طور پر انتظامات کرنا ہوں گے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گٹر صاف کرنے والا عملہ بند گٹر کھولتے وقت مین ہول بند بھی کرتا ہے یا نہیں جو اکثر سیوریج کا پانی نکالنے کے لئے اور سطح چیک کرنے کی غرض سے ڈھکنا اتار کر الگ رکھ دیا جاتا ہے اور پھر واپس آکر بند نہیں کیا جاتا اب تک شہر میں تین بچے مین ہولوں میں گر کر جاں بحق ہو چکے ہیں، تازہ ترین سانحہ مصری شاہ کے علاقے میں ہوا۔

اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کو ٹاؤن میونسپل انتظامیہ اور ضلعی بلدیاتی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ دوسرے عوامی مفاد کے شعبوں کی کارکردگی کے ذمہ دار حکام سے بھی باز پرس کرنا ہو گی کہ سڑکوں کے روڈ کٹ اور گڑھے مرمت نہیں ہوتے حتیٰ کہ سیف سٹی پروگرام کے تحت شہر کی متعدد مرکزی سڑکوں میں لگائے جانے والے روڈ کٹ بھی مرمت نہیں کئے گئے۔ گاڑیوں کے ٹائروں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ انجر پنجر ڈھیلا کرتے ہیں تجاوزات اور شہری گنجان اور اچھی رہائشی کالونیوں میں مویشیوں کی موجودگی کا نوٹس نہیں لیا جاتا جو سبزے کو بھی تباہ کرتے اور سخت آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ تجاوزات کا بھی یہی حال ہے اور عملہ اپنی ماہانہ آمدنی بڑھاتا ہے۔ شہر میں باغات اور پارکیں جو پی ایچ اے کی مرہون منت ہیں خراب سے خراب تر ہو رہی ہیں گرین بیلٹس پارکنگ میں تبدیل اور پارک کھیل کے میدانوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ پی ایچ اے اور محکمہ جنگلات کی طرف سے شجر کاری کے موسم میں شجر کاری بھی نہیں کی گئی۔ شہر کی ٹریفک کے حوالے سے کچھ لکھنا ہی بے کار ہے کہ اس حوالے سے حکام (ٹریفک) بہت بری طرح ناکام ہیں اور نظام درست نہیں کر پا رہے۔ وزیر اعلیٰ خود ہر جگہ نہیں جا سکتے متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام اور ذمہ دار عوامی نمائندوں (وزراء228 مشیر) کو ان خامیوں کو دور کرنے کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔

ٹماٹر، پیاز اور ادرک جیسی ضروری سبزیاں کہ جن کے بغیر خواتین کا سالن تیار نہیں ہوتا تا حال صارفین کے لئے تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ٹماٹر کی درآمد اور در آمدی خبروں کے باعث نرخوں میں کمی ہوئی اور دو سو روپے کلو سے کم ہو گئے تاہم اتوار بازاروں میں یہ 150 سے 160 روپے فی کلو فروخت ہوئے جبکہ معیار کے بارے میں شکایات تھیں پیاز اور ادرک بھی منافع خوری کی زد میں آ گئے جو ایک سو اور دو سو بیس روپے فی کلو تک بیچے گئے اسی طرح دوسری سبزیوں کی قیمتیں بھی اوپر کی طرف متاثر ہوئی ہیں، انتظامیہ تا حال رسد اور کھپت کا فرق دور نہیں کر سکی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -