عمران خان اور مولانا فضل الرحمان، ایک ہی روز جلسے اور کھلی تنقید

عمران خان اور مولانا فضل الرحمان، ایک ہی روز جلسے اور کھلی تنقید

  

ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے تین سفاک اور خطرناک دہشت گردوں کو گزشتہ ہفتے سولی پر لٹکا دیا گیا ان میں ایک ایسا دہشت گرد بھی شامل ہے جس نے سعودی عرب سے آنے والے پی آئی اے کے طیارے پر لینڈنگ کے دوران فائرنگ کی تھی پشاور ائیرپورٹ پر لینڈنگ کے لئے تمام طیاروں کو اےئرپورٹ کے نواحی علاقوں میں انتہائی نیچی پرواز کرناپڑتی ہے چنانچہ ماشو خیل کے مقام پر دہشت گردوں نے پی آئی اے کے طیارے کو نشانہ بنایا جدید اسلحہ سے فائرکی گئی گولیاں طیارے کے پنیدئے کو پھاڑکر اندر داخل ہو ئیں عمرہ سے واپس آنے والی خاتون مسافر موقع پر جان بحق ہو گئی، جبکہ بعض دیگر مسافر زخمی ہوئے تاہم طیارہ معجزانہ طور پربچ گیا اس واقعے کے بعدپشاور ائیرپورٹ قومی اور بین الااقوامی پروازوں کے لئے طویل عرصہ تک بند رہا گزشتہ ہفتے آئی،ایس، پی، آر نے اپنی پریس ریلیز سے قوم کو یہ نوید سنائی کہ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں تین دہشت گردوں کو پھانسی دئے دی گئی جن میں پی آئی اے کی پرواز پر فائیرنگ کرنے والا دہشت گرد بھی شامل ہے دیر آید درست آید کے مصداق یہ خبر سن کر قوم کو اطمینان ہوا کہ پاکستان کے کسی نہ کسی کو نے میں ابھی بھی قانون کی حکمرانی موجود ہے جو انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہے۔

پاکستان کی جمہوری اور سیاسی قوتیں خطے کے اندر رونما ہونے والی اہم تبدیلیوں سے بے نیاز 2018ء کے انتخابات میں اقتدار تک رسائی کے لئے اپنے اپنے فارمولے طے کرنے میں مصروف ہیں ہر پارٹی اپنی کوتاہیوں سے چشم پوشی کر کے مخالفین پر اس انداز میں الزامات لگا رہی ہے جیسے وہ خود فرشتے ہوں تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے مینگورہ کے نواحی علاقے بونیر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مینگورہ میں بڑے بڑے جلسوں کا انعقاد کیا ان جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ہمارے قائدین نے مخالفین ہی کو اپنے نشانے پر رکھا دونوں پارٹیوں نے 2018ء کے ممکنہ انتخابات میں کلین سویپ کرنے کا دعویٰ کیا، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ دونوں کے دعوے زمینی حقائق کے بر عکس ہیں عمران خان نے بونیر کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کو ڈاکو قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ وزیراعظم شاھد خاقان عباسی کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی کی کر پشن چھپانے کے لئے ملک اور اس کا نظام تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ پھر سڑکوں پر نکلتا ہوگا قوم تیار رہے انہوں نے مولانہ فصل الرحمٰن پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ اسلام کے نام پرسیاست کرتے ہیں میں ان کو مولانا کہنا پسندنہیں کرتا۔بونیر میں عمران خان کی تقریر پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ملک بھرسے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور آصف علی زرداری پر تنقید کرنے پر اپنے سخت غم وغصے کا اظہار کیا۔دوسری طرف مینگورہ میں جے یو آئی کے جلسے میں بھی عمران خان پر تنقید کی گئی مولانا فصل الر حمن کا جلسہ بھی حسب معمول بہت بڑا تھا،مگر ان کے پاس کارکنوں کا لہو گر مانے کے لئے کو ئی بڑا ایشو نہ تھا مولانا فصل الرحمن نے ختم نبوت کے ایشو کو اٹھانے کی کو شش کی جو کہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے اس کے بعد انہوں نے پانامہ سکینڈل کو پاکستان کے خلاف عالمی سازش قرار دیا،مگر ان کے یہ دونوں ایشوز کا رکنوں کو زیادہ متاثرہ نہ کر سکے یوں جے یو آئی کا جلسہ نشتند گفتند بر خاستند تک محدود رہا تحریک انصاف اور جے یو آئی دونوں کے رہنما ایک ہی روز ایک دوسرے کے قریب قریب بڑے جلسے کر کے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تاہم مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے خطاب کو سنجیدہ لیا، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں بھی اب عمران خان کے اگلے لائحہ عمل کا انتظار کر رہی ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر کب سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کرتے ہیں اس تمام سیاسی ہلہ گلہ میں فا ٹا اصلاحات پر عملدرآمدکا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا فاٹا کو بتدریج صوبہ خیبرپختونحوا میں ضم ہونا تھا،مگر سفارشات کی منظوری کے با وجود وفاقی حکومت پیچھے ہٹتی نظر آرہی ہے جس کے خلاف فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا فاٹا کے ایم این ایز اور سینکڑوں کو یہ شکوہ رہا کہ پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنے کے دوران کسی نے بھی آکر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار نہیں کیا نہ ہی پارلیمنٹ کے اندر ان کی آواز سنی گئی تین روزہ دھرنے کے بعد فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ نے اسلام آباد میں بھرپور عوامی احتجاج کا اعلان کیا، جس کے لئے فاٹا کے نوجوانوں کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی گئی فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ قبائلی عوام کو ہائی کورٹس سمیت اعلیٰ عدالتوں تک رسائی انصاف کی فراہمی اور انضمام کا مطالبہ کر رہے ہیں ،ان اراکین پارلیمنٹ نے جے یو آئی کے رہنمامولانہ فضل الر حمن اور بلوچستان کے ایم این اے محمود اچکزئی کو فاٹا اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردیا۔ایم این اے شاہ جی گل آفریدی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ دونوں لیڈروں کا فاٹا سے کوئی تعلق نہیں۔شاہ جی گل آفریدی نے اعتراف کیا اگر انہوں نے فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کے لئے عوام کی امنگوں کے مطابق کوئی جدوجہد نہ کی تو آئیدہ انتخابات کے موقع پر انہیں پتھر مارے جائیں گے ان پر قبائلی عوام کا شدید دباؤ۔دوسری طرف پیپلز پارٹی قومی وطن پارٹی تحریک انصاف اور دوسری جماعتیں فاٹا ایشوز اخباری بیانات تک ہی محدود ہیں اور بیانات کے ذریعے نمبر سکور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

آصف علی زرداری بھی دوروزہ دورے پر پہنچے۔ پارٹی رہنماؤں اور عمائدین سے ملاقاتیں کیں، پیپلز پارٹی کے امیدوار کے لئے لابنگ بھی کی، انہوں نے بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف اور عمران خان پر تنقید کی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -