وزیراعظم کا دورہ نوشہرو فیروز،ترقیاتی کام مکمل ہونے چاہئیں

وزیراعظم کا دورہ نوشہرو فیروز،ترقیاتی کام مکمل ہونے چاہئیں

  

جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو سیاسی عمل کو جاری رکھنے کے لئے ملک گیر سیاسی جماعتوں کا وجود ناگزیر ہے، توانا سیاسی جماعتیں اور ان کا نچلی سطح تک مضبوط تنظیمی نیٹ ورک قائم کرنا ضروری ہے، جس کے لئے تمام سیاسی اور مذہبی قوتوں کو الزام تراشی کے ذریعہ ’’بلیم گیم‘‘ کو خیر باد کہہ کر ہر قسم کی انتہا پسندی سے اجتناب کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔ اندازِ حکمرانی میں آئینی بالادستی کی روایت کو مستحکم اور امورِ مملکت کی انجام دہی میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا پڑے گا۔وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی نے اپنے حالیہ دورہ سندھ کے موقع پر پیپلزپارٹی کو اس ’’میثاق‘‘ پر مکالمہ کی دعوت دی ہے جو لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان ہوا تھا۔ مکالمہ صرف پیپلزپارٹی کے ساتھ ہی نہیں تمام سیاسی جماعتوں اور مذہبی قوتوں کو اس فارمولا پر عملدرآمد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جمہوریت کی بقا تصادم سے گریز، اس کی ہر صورت بالادستی کو قائم رکھنے سے ہو گی، ملک خطرات سے محفوظ ہو جائے گا۔

وزیراعظم کا یہ دورہ اس اعتبار سے سیاسی اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں نے اس دورہ میں ’’کندھ کوٹ گیس فیلڈ‘‘ کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا افتتاح کیا اور ضلع نوشہرو فیروز میں نواں جتوئی میںیونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا جس پر دو ارب کی لاگت آئے گی۔ وزیراعظم نے ضلع نوشہرو فیروز میں بجلی اور گیس کے منصوبوں کے لئے وفاقی کی طرف سے ڈیڑھ ارب روپے اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے ایک ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جناب وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی کی رہائش گاہ کے وسیع و عریض میدان میں ایک جلسہ سے بھی خطاب کیا، جس کی خاص بات یہ تھی کہ سندھ اسمبلی کے سابق وزیراعلیٰ اور 2013ء میں مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر ارباب غلام رحیم بھی موجود تھے اس کے علاوہ سندھ مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر شاہ محمد شاہ اور سابق قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر ظفر علی شاہ بھی موجود تھے جن کے بارے میں یہ خبریں آ رہی تھیں کہ وہ پارٹی چھوڑ دیں گے۔ واضح رہے کہ غلام مرتضیٰ جتوئی نے اپنی نیشنل پیپلز پارٹی2013ء کے انتخاب کے بعد مسلم لیگ(ن) میں ضم کر دی تھی، غلام مرتضیٰ جتوئی کے حوالے سے بھی کئی بار یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ وہ بھی ناراض اور ناخوش ہیں۔ایک بار تو اخبارات میں میاں نواز شریف کی کابینہ سے مستعفی ہونے کی خبر بھی آ گئی تھی تاہم انہوں نے نہ صرف استعفیٰ نہیں دیا،بلکہ وہ اس وقت بھی جناب شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں اپنے پرانے منصب وفاقی وزیر برائے پیداوار پر فائیز ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ضلع نوشہرو فیروز کا یہ دورہ غلام مرتضیٰ جتوئی کی دعوت پر ہی تھا، جناب شاہد قانون عباسی نے وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ میں فوڈ پراسیسنگ پلانٹ اور ہیلتھ کارڈ سکیم کے اجرا کا اعلان کیا۔ پانامہ کیس میں میاں نواز شریف کی ’’اقامہ‘‘ میں درج تنخواہ اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے سپریم کورٹ کے نااہلی فیصلے کے بعد ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی عمومی تاثر یہی تھا کہ ان کی سیاست کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے جو درست ثابت نہیں ہوا، بلکہ پارلیمینٹ کی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی کی سفارشات کی ایک شق کی وجہ سے ان پر پارٹی صدارت پر فائز ہونے کا دروازہ وا ہو گیا جس پر سابق وزیراعظم کے ذاتی اور سیاسی مخالفین کو اس وقت خفت اُٹھانا پڑی جب پارلیمینٹ کی انتخابی اصلاحات قائمہ کمیٹی کی رپورٹ قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر پاس ہو کر سینیٹ سے بھی ایک ووٹ کی برتری سے پاس ہو گئی ہے۔بعدازاں قومی اسمبلی نے بھی اکثریتی ووٹ سے اس کی منظوری دے دی جس کے بعد میاں نواز شریف دوبارہ مسلم لیگ (ن) کے صدر بن گئے ہیں۔ 2013ء کے انتخاب میں سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کے مقابلے میں متبادل کے طور پر تحریک انصاف ابھری تھی۔ کراچی میں قومی اسمبلی میں ایک اور کل تین نشستیں حاصل کر گئی تھی، مگر ووٹ آٹھ لاکھ حاصل کئے تھے جبکہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں کراچی کے علاوہ اندرون سندھ سے کوئی منتخب نہیں ہو سکا تھا۔ تاہم اندرون سندھ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو کئی لاکھ ووٹ پڑے تھے۔ اگر میاں نواز شریف اندرون سندھ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والوں کو ’’مفاہمت‘‘ کی سیاست کی خاطر بے یارو مدد گار اور پیپلزپارٹی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑتے تو کئی ایسی نشستیں تھیں جہاں بڑے پیمانے پر ڈے آف پولنگ بے قاعدگیوں کے مناظر دُنیا بھر کے میڈیا نے دکھائے تھے۔اگر مسلم لیگ(ن) اپنے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والوں کو بہتر قانونی معاونت فراہم کرنے کا اہتمام کرتی تو کئی نشستوں سے پیپلز پارٹی کو انتخابی عذر داریوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

امر واقعہ اور زمینی حقیقت آج بھی یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اندرون سندھ اور ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں میں اپنا اپنا مضبوط ووٹ بنک رکھتی ہیں تاہم قومی سیاست کرنے والی بڑی جماعتوں کے لئے سندھ کی سرزمین بانجھ نہیں ہے۔درست حکمت عملی اور درست ترجیحات کے ذریعے جو جماعت قدم بڑھائے گی وہ2018ء کے عام انتخابات میں ان ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے، جو سیاست کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار نسلی اور زبان کی بنیاد انتخابی معرکہ آرائی کو سمجھتے ہیں،مگر انہیں کوئی ایسا متبادل نہیں مل رہا جو انہیں نسلی اور لسانی سیاست کے عذاب سے بھی نجات دِلانے کی پوزیشن میں ہو اور آئین میں درج وہ حقوق و مراعات بھی،جو سندھ کے باسیوں کو نسل اور زبان کی تفریق کے بغیر آئینی حقوق دلاسکے اور یہ ’’میرٹ‘‘ کا نظام استعمال کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔

جہاں تک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اِس بات کا تعلق ہے کہ سیاسی فیصلے عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں،پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں، کسی ذی ہوش کو انکارنہیں ہو سکتا مگر اس منزل کو حاصل کرنے کے لئے وہ اندازِ فکر اپنانا ہو گا، جس کو بان�ئ پاکستان حضرت قائداعظمؒ نے بحیثیت حکمران اختیار کیا تھا اور ان کی قیادت میں قائم ہونے والی پاکستان کی پہلی حکومت کے وزیراعظم(شہیدِ ملت) خان لیاقت علی خان نے بحیثیت وزیراعظم اپنایا تھا۔ آج بھی نجات کا راستہ ہر معاملے میں آئین کی بالادستی تسلیم کرنے اور کرانے میں ہے اور امور مملکت کی انجام دہی قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں ہے۔ جناب شاہد خاقان عباسی کا اصل امتحان ہو گا کہ انہوں نے اور ان کی جماعت کے قائد سابق وزیراعظم جناب میاں نواز شریف نے کراچی، حیدر آباد اور اندرون سندھ کے لئے جن ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے اور جن پر کام شروع ہے وہ کتنی جلد مکمل ہوتے ہیں،جہاں تک معاملہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کا ہے وہ سیاسی عمل اور سیاسی کلچر کو فروغ دیئے بغیر ممکن نہیں اور سیاسی عمل اور سیاسی کلچر کو پروان چڑھانے میں بنیادی کردار سیاسی جماعتوں کا ہوتا ہے جو دُنیا کے مہذب اور آئین کی پاسداری کرنے والے ممالک کی طرح مسلمہ جمہوری طور طریقوں سے وجود میں آتی ہیں۔ کامیاب مشاورت اور مکالمہ کے ذریعے بحث و تمحیص کے بعد اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر تمام اسٹیک ہولڈرز کو فیصلوں پرمطمئن کرنے کی روایات کو مستحکم بنانے کی شعوری کوششیں ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے بھی بان�ئ پاکستان حضرت قائداعظمؒ کا کردار ہی اپنانا ہو گا۔ واقعات کا ذکر کرنا نامناسب نہیں ہو گا۔ ایک واقعہ کا تعلق قیام پاکستان سے قبل آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے ہے۔ تحریک پاکستان کی تاریخ ساز جدوجہد سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ قائداعظمؒ نے مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے کیبنٹ مشن کے ساتھ مذاکرات میں مشن کی یہ تجویز اس شرط کے ساتھ منظور کر لی تھی کہ اگر آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے اس کو قبول کر لیا تو وہ اس کے پابند ہوں گے۔قائداعظمؒ نے کیبنٹ مشن کے ساتھ مذاکرات کے بعد مجلس عاملہ کا اجلاس بلایا، تو قاضی عیسیٰ(مرحوم) نے (جو سپریم کورٹ کے موجودہ جج جناب جسٹس فائز عیسیٰ کے والد محترم تھے) اجلاس شروع ہوتے ہی سوال کر دیا کہ: کیا آپ خود اس تجویز کو مسلمانوں کے مفاد میں سمجھتے ہیں، قائداعظمؒ کا جواب تھا معاملہ یہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم آزادی کے لئے ہونے والے مذاکرات کا دروازہ بند کرنے کے بجائے کھلا رکھنا چاہتے ہیں اس پر (مرحوم) قاضی عیسیٰ نے کہا کہ پھر اس کی مجلس عاملہ سے منظوری کی شرط لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ پارٹی کو آپ کی دانش اور بصیرت پر سو فیصد اعتماد بھی ہے اور اس کا اختیار بھی آپ کے پاس ہے۔ اجلاس میں موجود مولانا ظفر ا احمد انصاری مرحوم ومغفور نے اس نامہ نگا کو بتایا کہ قائداعظمؒ نے اس کے جواب میں یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’یہاں بیٹھے ہوئے میرے یہ دوست نہ تو میرے ذاتی ملازم اور نہ ہی میرے مزارع ہیں۔ سیاسی جدوجہد میں کامیابی کا راستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے سے اور ان کی اجتماعی دانش سے کھلتا ہے۔دوسرا واقعہ گورنر جنرل کی حیثیت سے گورنر ہاؤس میں مسلم لیگ کے اجلاس کی اجازت دینے کے حوالے سے ہے۔ اس کے راوی ہیں جناب پروفیسر شریف المجاہد جب مسلم لیگ کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی تو ان کا جواب تھا مَیں اب جماعتی سیاست نہیں کر سکتا۔گورنر ہاؤس میں نہ تو کوئی جماعتی اجلاس ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی جماعتی سیاست، مسلم لیگ کرائے پر کوئی ہال لے لے آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری اجلاس میں شرکت کے لئے وہاں آ جاؤں گا۔ واضح رہے کہ وہی اجلاس خالق دینا ہال میں ہوا تھا جہاں قائداعظمؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے خطاب کیا اور جماعتی سیاست کو خیر باد کہنے کا اعلان کر کے آل انڈیا مسلم لیگ کی جگہ پاکستان مسلم لیگ اور آل انڈیا مسلم لیگ کو الگ الگ کرنے کا اعلان کیا ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -