احتساب عدالت میں پیشی، کیپٹن(ر) صفدر اورمریم نواز کی ضمانت، حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ

احتساب عدالت میں پیشی، کیپٹن(ر) صفدر اورمریم نواز کی ضمانت، حسن اور حسین ...

  

مسلم لیگ ن کے صدر وسابق وزیراعظم محمدنوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازاوران کے داماد کیپٹن(ر)صفدربھی بالاآخر نیب عدالت میں پیش ہوگئے ،اتواراورپیرکی درمیانی رات جب مریم نوازاپنے شوہر کیپٹن(ر)صفدرکے ہمراہ لندن سے بینظیرانٹرنیشنل ائیرپورٹ اسلام آباد پہنچیں تو ائیرپورٹ کے راول لاؤنج سے باہرنکلتے ہی نیب ٹیم نے عدالتی حکام کی تعمیل کرتے ہوئے کیپٹن(ر)صفدرکوحراست میں لے لیا،کیونکہ نیب عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے تھے،اس موقع پر مسلم لیگ ن کے استقبال کیلئے آئے کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی ،بعض کارکن نیب کی گاڑی کے آگے لیٹ بھی گئے کچھ نے گاڑی کو مکے بھی مارے جس پر کیپٹن(ر)صفدرنے گاڑی سے باہرنکل کر انہیں آگے سے ہٹنے کی ہدایت کی،جب کہ آصف کرمانی کی جانب سے بھی لیگی کارکنوں سے کہا گیا کہ پارٹی قیادت کا حکم ہے کہ کسی قسم کی مزاحمت نہ کی جائے لہذا تمام کارکن گاڑی کے آگے سے ہٹ جائیں،بعد ازاں دانیال عزیز کی جانب سے کارکنوں کو نیب کی گاڑی کے آگے سے ہٹایا گیا جس کے بعد نیب حکام کیپٹن صفدر کو ساتھ لے کر ایئرپورٹ سے روانہ ہو ئے اورانہیں اسلام آباد کے علاقے میلوڈی میں واقع نیب کے سیل منتقل کردیا گیا،اس سے پہلے ائیرپورٹ پہنچنے پر مریم نوازاور کیپٹن(ر)صفدر کا مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں اورکارکنوں کی جانب سے والہانہ استقبال کیا گیاائیرپورٹ پرسکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے،پیر کو مریم نوازاحتساب عدالت میں پیش ہوئیں جبکہ کیپٹن(ر)صفدرکو نیب حکام پیشی کیلئے لیکرآئے، احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد مریم نواز کو نیب ریفرنس کی کاپیاں فراہم کی گئیں اور50لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا گیا جس پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مریم نواز اورکیپٹن (ر) صفدرکے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروائے،جس کے بعد کیپٹن(ر)صفدرکی رہائی کا حکم دیاگیا۔

مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے احاطہ عدالت میں ایف سی کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات تھے،احاطہ عدالت میں لیگی رہنماؤں سمیت تمام افرادکاداخلہ بند تھا تاہم وفاقی وزراء کواندرجانے کی اجازت تھی، اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز میں پیش نہ ہونے پر سابق وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادو ں حسین نواز اور حسن نواز کا کو کیس الگ کرتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے اور انہیں اشتہاری قرار دیدیا جبکہ ، آئندہ سماعت پر سابق وزیراعظم نوازشریف ،ا ن کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر پر13 اکتوبر کو فردجرم عائد کی جائیگی ، عدالت نے کیپٹن صفدر کا میڈیکل چیک اپ بھی کروانے کا حکم دیا۔نواز شریف کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست اور کلثوم نوازکی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کروا ئی گئی جس پر عدالت نے نوازشریف کی ایک حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی ،احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نوازکاکہنا تھا کہ شدید تحفظات کے باوجودکورٹ میں پیش ہو گئی ہیں لیکن پوری دنیا جانتی ہے کہ ہمارے خلاف مقدمات اور گرفتار یاں احتساب نہیں انتقام ہے ، میں نواز شریف کی بیٹی ہوں اس لیے میرے خلاف کیس بنائے گئے، اس سلسلے میں میرے بھائی حسن اور حسین اپنے فیصلے خود کریں گے ،ہم گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں، بھگوڑے آزاد پھر رہے ہیں اور سیاسی جلسے کر رہے ہیں ۔ یہ ہماری فتح ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے ایک کے بعد ایک ٹرائل چلا جے آئی ٹی کے الزامات ابھی تک ثابت نہیں ہوئے۔ ہم گھبرائیں گے نہیں کیپٹن(ر) صفدر کا اس موقع پرکہنا تھاکہ ہر صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں، میں نے کون سا بڑا جرم کیا ہے؟ کوئی طیارہ اغوا نہیں کیا جو کسی سے ڈروں،کوئی دہشت گرد ہوں جو تشدد ہوتا، رات اچھی گزری۔ فوجی تربیت یافتہ ہوں۔ وزیر مملکت اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کا بھی اس حوالے سے بیان سامنے آیا ہے انکا کہنا تھاکہ ڈیڑھ سال کے ٹرائل کے باوجود نواز شریف پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا‘ تمام تحفظات کے باوجود شریف خاندان عدالتوں میں پیش ہورہا ہے‘ آئینی اداروں کو دھمکیاں اور گالیاں دینے والے آج بھی عدالتوں سے مفرور ہیں۔

نئے چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال آج بدھ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے،چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری گزشتہ روز منگل کو مدت ملازمت پوری ہونے پر عہدے سے سبکدوش ہو گئے،نئے چیئرمین نیب کا تقررحکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر کیا ہے اور یہ اچھی شہرت کے حامل ہیں،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کااس حوالے سے کہنا تھا کہ جسٹس (ر )جاوید اقبال کا بیک گراونڈ بہت بہتر ہے، انہیں کوئی ڈکٹیشن نہیں دے سکے گا نئے چیرمین نیب کے نام پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی گلہ شکوہ نظر نہیں آیا.ایمانداری سے کہتا ہوں کہ یہ ایسا نام تھا جو سب کو قابل قبول ہے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے نام بھی ڈسکس ہوئے اس سلسلے میں کوئی مک مکا نہیں ہوا نہ ہی ابھی تک کسی نے تنقید کی ہے ہمیں چاہیے کہ چیرمین نیب کو متنازعہ نہ بنائیں ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہداللہ خان نے دعا کی کہ نئے چیئرمین نیب بہتر طریقے سے اپنے فرائض منصبی انجام دیں تحریک انصاف کاموقف سامنے آیا ہے،ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق سپریم کورٹ ہی نہیں پوری قوم چیئرمین نیب کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئے چیئرمین اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلتے ہیں یا کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کا واضح موقف ہے کہ کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اسکا انسداد ناگزیر ہے۔لازم ہے کہ چیئرمین نیب پانامہ کیس کے بعد کھلنے والے مقدمات بالخصوص حدیبیہ پیپر ملز کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سرگرمی دکھائیں۔ تحریک انصاف کے مطابق پانامہ لیکس میں پکڑے جانے والے دیگر افراد کو کٹہرے میں لانے کا بندوبست بھی نئے چیئرمین کی ذمہ داری ہے۔

فاٹا سے منتخب نمائندوں، اے، این ، پی جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے راہنماؤں اور کارکنوں نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے مطالبے پر لانگ مارچ کیا اور ڈی، چوک میں دھرنا دیا، جو سات گھنٹے تک جاری رہا، غلام احمد بلور اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے خطاب بھی کیا، یہ دھرنا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی یقین دہانی پر ختم ہوا کہ مطالبہ منظور اور اسے پورا کرنے کے لئے کمیٹی بنادی گئی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -