کاغذات نامزدگی فارم، ختم نبوت کے حوالے سے غلطی، ذمہ دار کو سزا ملنا چاہئے

کاغذات نامزدگی فارم، ختم نبوت کے حوالے سے غلطی، ذمہ دار کو سزا ملنا چاہئے

  

بات ابھی تک سمجھ نہیں آسکی گو کہ ازالہ اور پھر خاموشی بھی چھا گئی ہے مگر یہ مسئلہ حل طلب ہے کہ قومی اسمبلی میں بل تو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پیش ہوا تھا لیکن اس میں ختم نبوت کی شق کو کیوں اور کس نے چھیڑااور اس میں انتہائی قابل اعتراض الفاظ ڈال دئیے ۔ اور شق کی اصل روح کو مردہ کرنے کی ناکام کوشش کرلی ۔ نشاندہی اور واویلا پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اسے کلریکل غلطی قرار دینے پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں ۔ لیکن اگر ایسا ہے بھی تو پھر قومی اسمبلی کا پورا سیکرٹریٹ’’ ری فریش ‘‘ہونے والا ہے کیونکہ مجوزہ بل اور اس میں شامل مذکورہ شق محض ایک کلرک نے تو نہیں ٹائپ اور دیکھی ہوگی اس میں وہ بڑے بھی شامل ہوں گے جو قومی اسمبلی اور اس کے قوانین کے ساتھ ساتھ آئین کو بھی سمجھتے ہوں گے ۔ اگر اتنے سنجیدہ اور اہم مذہبی مسئلہ کے ساتھ اس طرح ہوسکتا ہے تو پھر کل کلاں کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ اس حوالے سے امیر جماعت اہلسنت علامہ سید مظہر سعید کاظمی نے درست ہی کہا ہے کہ کہ وفاقی حکومت نے انتخابی بل میں ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کی اور جب پورے ملک میں اس کے خلاف احتجاج ہوا تو حکومت کو احساس ہوا پاکستانی غیور مسلمان اس تبدیلی کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے ۔ جس پر احتجاج اور مظاہرے ہوں گے ملک کا امن وامان تباہ ہوگا اور آئندہ انتخابات میں ن لیگ کوناقابل تلافی سیاسی نقصان ہوسکتا ہے اس پر مجبوراً اسے ٹیکنیکل غلطی قرار دے کر حلف نامے میں تبدیلی نہ کرنے کااعتراف کیا گیا ۔مگر دراصل قانون ختم نبوت کو ختم کرنے کی یہ سازش کی گئی جس کا احساس وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو بھی ہے جنہوں نے متعلقہ وزیر کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی کیا یہ بات واضح ہے کہ اس قانون کے حوالے سے جب خبروں کی اشاعت ہوئی تو ملک کے طول وعرض میں تمام مکتبہ فکر کے عوام اور رہنماؤں نے اس کے خلاف نہ صرف ریلیاں نکالیں بلکہ حکومت کو باور کروایا کہ اگر آئندہ ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر حکومت کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔

سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی اگلے عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ایک عذر پیدا کرلیا ہے اور کہا ہے کہ اگر مجھے پارٹی ٹکٹ دے گی تو پھر میں انتخاب لڑونگا ۔ ورنہ نہیں ملتان کی تحصیل شجاع آباد جہاں سے وہ متوقع امیدوار ہیں یونین کونسل دائرہ پور میں رانا تاج احمد جھکڑکے والد رانا محمد شفیع جھگڑ سابق ناظم کی قل خوانی اور دستار بندی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ این اے 148سے سید علی موسیٰ گیلانی اور این اے 151سے سید عبدالقادر گیلانی انتخاب میں حصہ لیں گے ۔ اوراگر پارٹی مجھے 152این اے میں ٹکٹ دیا تو میں یہاں سے انتخاب میں حصہ ضرور لونگا ۔ واضح رہے کہ اس حلقے سے سید جاوید علی شاہ اس وقت ایم این اے اور وفاقی وزیر ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ابراہیم خان بھی ٹکٹ ہولڈر ہیں ۔ دریں اثنا خانیوال میں سابق رکن قومی اسمبلی اور فلپائن میں پاکستان کے سفیر میجر (ر) رفعت حیات خان ڈاہا کی قل خوانی میں انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اگر موجودہ حکومت پارلیمنٹ کو مضبوط کر لے گی اور اس کی بالادستی قائم رکھے گی تو اپنی مدت پوری کرے گی اور اگر اسے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو پھرا سکا مدت پوری کرنا مشکل ہوگا ۔ اداروں کا ٹکراؤں کسی صورت ملک وقوم کیلئے مناسب نہیں ہے سی پیک آصف علی زرداری کا خواب تھا جو اب پورا ہورہا ہے اس پر امریکی اعتراضات بلاجواز اور غیر منطقی ہیں تاہم انھوں نے آئندہ عام انتخابات کیلئے پیپلز پارٹی کی تیاریوں کا ذکر بھی کیا اور دعوی کیا کہ واضح اکثریت سے انتخاب جتیں گے خصوصاً جنوبی پنجاب میں ہم زیادہ نشستیں حاصل کریں گے ۔ اب ان کا یہ دعویٰ کب سچ ہوتا ہے اور اس کیلئے 2018کے عام انتخابات کا انتظار کرنا پڑے گا۔

ادھر عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی جمشید خان دستی نے قومی اسمبلی میں سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے آئینی ترمیم کا بل جمع کروا دیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین کی شق کی ذیلی شق 212کی دوسری لائن میں لفظ پنجاب کے بعد سرائیکی کا اضافہ کرکے فوری طور پر نافذ العمل کیا جائے ۔پیپلز پارٹی سمیت جو پارٹی سرائیکی صوبے کے بل کی مخالفت کرے گی وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائے گی اورعوام سڑکوں پر اور ووٹ کے ذریعے ان کا احتساب کریں گے ۔ کیونکہ سرائیکی صوبے کے قیام سے اس وسیب کے مسائل حل ہوں گے اور ترقی کا سفر شروع ہوگا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور والوں نے انٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہمارے بچوں کا تعلیمی استحصال کیا۔ جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کی تنظیم مرکزی قیادت کی وجہ سے تقسیم نظر آرہی ہے اور کچھ امیدوار وں نے تو ٹکٹ کی درخواست دئیے بغیر ہی اپنے حلقوں میں انتخابی مہم کا آغاز بھی کردیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس پر کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا اس سے تنظیم کو سیاسی نقصان ہوگا۔سید مخدوم جاوید ہاشمی کہتے ہیں کہ پاکستان بڑی ایٹمی قوت 22کروڑ عوام کا ملک اور بہت بڑی اکانومی اور تمام وسائل سے مالا مال ریاست ہے لیکن اند ر کی جنگ کی آگ کے شعلے اب باہر نمودار ہورہے ہیں۔ اس جلتے ہوئے گھر کی آگ کو بجھانے کیلئے ہر شخص کو اپنے حصے میں پانی کی بالٹی ڈالنا ہوگی ورنہ ہم سب خاکسترہوجائیں گے ۔ دشمن کی نظریں ہم سب پر لگی ہوئی ہیں ۔ عسکری قیادت سیاسی قیادت کو تیار کرنا ترک کردے ۔ کبھی ذوالفقار علی بھٹو ، محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو ، میاں نواز شریف ان کی ضرورت بن جاتے ہیں بعد میں انہیں تھرڈ کلاس قیادت اور سکیورٹی رسک قرار دیکر اقتدار سے الگ کردیا جاتا ہے ۔ اپنی کمزوریوں ، کوتاہیوں اور ناکامیوں پر نظر نہیں ڈالی جاتی۔ انہوں نے کہا پرویز مشرف بھگوڑا اور اس نے آگرہ میں سرنڈر کیا تھا تین بار آئین کی دھجیاں بکھیرنے والے پرویز مشرف کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکا۔ ضیاء الحق پر کوئی مقدمہ نہیں چلا ۔ عسکری قیادت کا نام لئے بغیر کہا کہ اپنا کام کر نہیں سکتے دوسروں کو کام کرنے نہیں دیتے ۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کا کیا قصور ہے پڑھے لکھے نوجوانوں کا کیا قصور ہے۔ ہماری بھوک اور افلاس کا ذمہ دار کون ہے۔ انڈیا پاکستان کو چار ریاستوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے ویسٹرن پریس میں پاکستان کو تقسیم کرنے کے حوالے سے مواد چھپ رہا ہے انہوں نے کہا کہ انتخابی فارم کے بیان حلفی میں تحریف دراصل پاکستان اور مسلم لیگ ن کے خلاف ایک سازش تھی ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -