سینیٹ ، ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کرنے کی ترمیم منظور

سینیٹ ، ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کرنے کی ترمیم منظور

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) سینیٹ نے کاغذات نامزدگی فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کرنے کی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلی۔سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے انتخابی اصلاحات بل 2017 کے کاغذات نامزدگی فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کرنے کی ترمیم کا بل پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طو پر منظور کرلیا۔بل کے متن کے مطابق حلف نامے کے کالم پر اقرار نامے اور حلف نامے کے الفاظ شامل کردیئے گئے ہیں۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے زاہد حامد نے کہا کہ اس شق کو مرکزی بل میں شامل کرنے کا حمایتی ہوں، تمام سیاسی جماعتوں کا مشکورہوں کہ انہوں نے تعاون کیا۔زاہد حامد نے کہا کہ اتنی محنت کے باوجود ایک نقطہ رہ گیا جس کا تصوربھی نہیں کرسکتے، سوچ بھی نہیں سکتا کہ ختم نبوت کے اقرار پرغلط اثرانداز ہوں۔علاوہ ازیں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کی سینٹ اجلاس میں امریکہ پر شدید تنقید ، ون بیلٹ اور ون روڈ کی مخالفت کے بعد ثابت ہوگیا کہ امریکہ کے کہنے پر پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیا گیا۔ چائنہ کے صدر کے دورے کو دھرنا دے کر موخر کیا گیا سابق وزیراعظم اور پارلیمنٹرین پر تنقید کرنے کے بجائے ملکی سلامتی کا معاملہ زیر بحث لائیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپوزیشن کی مشترکہ تحریکوں پر بحث کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ون بیلٹ اور ون روڈ کی امریکہ نے مخالفت کی ہے۔ مجھے یقین تھا کہ اس پر بات ہوگی مگر حیران ہوں ایجنڈے کو اہمیت نہیں دی گئی ۔ لوگوں کو اضافی ٹائم مل رہا ہے ۔ پارلیمنٹ میں پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ عائشہ گلالئی کو بھی اضافہ ملنا چاہیے ۔ نااہل اور اہل کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں ایجوکیشن ، غربت ، بلدیاتی نظام کو بہتر کرنے پر بات کریں ۔ پارلیمنٹرین کی کردار کشی ہورہی ہے کرپشن ہورہی ہے۔ کے پی کے میں نیب دفاتر پر تالا پڑا ہوا ہے ڈائیلاگ کا سلسلہ ہونا چاہیے۔ چائنہ کے صدر کو دھرنا دے کر پاکستان آنے سے روک دیا گیا۔ امریکہ ون بیلٹ اور ون روڈ کا امریکہ مخالفت کررہا ہے۔ تنازعہ علاقوں پر لوگوں کو کردار کا حق ملنا چاہیے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ون بیلٹ اور ون روڈ کی مخالفت کا معاملہ یہاں بحث ہونا چاہیے۔ پاکستان کی سلامتی کا معاملہ یہاں زیر بحث لانا چاہیے پاکستان کے داخلہ خارجہ معاملات یہاں زیر بحث لائیں۔

سینیٹ

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنے دور میں جسٹس قیوم کو اٹارنی جنرل بنانے پر استفسار کر لیا پیپلز پارٹی قوم کو بتائے کہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا نواز شریف کو قطعاً چوری پر نہیں نکالا گیا پیپلز پارٹی دور آمریت کی تجاوزات کی حمایت اور اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے اقدام کی مخالفت کیوں کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ حکومت کے خلاف ادارے سازشیں نہیں کر رہے ہیں عدالتی فیصلے پر رائے دینے کا حق حاصل ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی انتظامی حکم کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کا فیصلہ ہو اگر ایسا ہونے لگا تو پاکستان میں تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگ جائے گی غلطیاں اور خرابیاں کس سے نہیں ہوئی یہ وقت سیاستدانوں کو طعنے اور الزامات دینے کے نہیں ہیں تسلیم کرتا ہوں کہ دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت کا حقیقی معنوں میں احترام نہ کر سکیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی شب سینیٹ میں ریاست کے مختلف اداروں کے مابین بڑھتے ہوئے تصادم سے پیدا ہونیو الی صورتحال پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کیا گذشتہ روز نو اہم ایشوز پر متحدہ حزب اختلاف کی تحاریک التواء کو یکجا کر دیا گیا تھا خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں ماضی کے حوالے سے کھدائی نہیں کرنا چاہتا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا لیکن جن لوگوں کے دامن پر داغ ہیں اگر وہی ہم پر غلطیوں کا بوجھ گرائیں گے تو ہمیں بھی حقائق سامنے لانے پڑیں گے غلطیاں اور خرابیاں سب بڑی جماعتوں سے ہوئیں اور نئی جماعت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ جب مچھلی پتھر چاٹ کر واپس آتی ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ پتھر تھا تجربہ کار سیاستدانوں سے یہ امید نہیں ہے کہ وہ ایسے گناہ جو وہ خود بھی کر چکے ہوں ہمارے سر ڈال دیں اور پورے حوصلے سے یہ بات کریں سیاستدانوں کو حالات کے جبر کی مجبوریوں کو سمجھنا چاہیے چالیس سالوں سے ایک دوسرے کے لتے رہتے رہے اور گندے کپڑے سرعام دھونے کی کوشش کرتے رہے یہ وہ خرابیاں اور غلطیاں ہیں جو قالین کے نیچے اور پردے کے پیچھے نہیں ہیں ایک وزیر اعظم کو دیس نکالا کیا گیا ایک کو پھانسی پر چڑھایا گیا پھر دو وزراء اعظم کو نکال دیا گیا جماعتیں توڑی گئیں کیا سیاستدانوں نے ان غلطیوں سے نہیں سیکھا یقیناً اپوزیشن کو تنقید کرنا چاہیے واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ پر حملہ ہم نے نہیں بلکہ سجاد علی شاہ نے کیا تھا اگر وہ منتخب حکومت کے خلاف سازش نہ کرتے تو ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی تاہم اس روز شاہراہ دستور پر بھی سیاسی کارکنوں کو آنا چاہیے تھا کسی ادارے کے وقار کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو رسوا کرنے ، بدنام کرنے، انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنانے کے معاملے پر کوئی دلائل نہیں دیے جا سکتے مجبوریاں اور مسائل سمجھنے ہوں گے ہاں وہ وقت آیا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا تاریخ کے دوسری طرف کھڑے تھے اسکو بھی تو تسلیم کریں کہ ہم نے اسے عدالتی قتل قرار دیا دونوں بڑی جماعتوں نے غلطیاں کی ہیں طعنہ زنی سے گریز کریں ایک دوسرے پر غصہ نہ کریں یہ نہیں ہو سکتا کہ ہماری غلطیاں ہمارے گناہ اور انکی غلطیاں حلال تسلیم کرتا ہوں کہ میثاق جمہوریت کا احترام نہ کر سکے ہم پر جسٹس قیوم کے حوالے سے الزام تراشی کی جاتی ہے پیپلز پارٹی سے سوال ہے کہ جسٹس قیوم کو اٹارنی جنرل کیوں بنایا غلطیاں سب نے کی ہیں کوسنے دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اگر ایسا کریں گے تو یہ جمہوریت کی خدمت نہیں ہو گی ہم نے قطعاً یہ نہیں کہا کہ ہمارے خلاف ادارے سازشیں کر رہے ہیں لیکن یہ بھی تو دیکھیں پاناما ایک ڈرامہ تھا اور اقامہ کی بنیاد پر نکال دیا گیا اور ہم نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کیا اور بغاوت نہیں کی ۔اس کے جواب میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر اعتزاز احسن نے واضح کیا ہے کہ وہ جمہوری دور میں کالا کوٹ پہن کر اور کالی ٹائی لگا کر سپریم کورٹ جا پہنچے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری اور پاشا کے ساتھ ملکر میمو گیٹ کے ذریعے جمہوری حکومت کے خلاف سازش کی، پاکستان میں جمہوریت کے خلاف جتنی بھی سازشیں ہوئی ہیں اس میں آپ شریک رہے ہیں یوسف رضا گیلانی کو نکلوانے کے لیے جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مل گئے تھے اور اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کو نہیں نکالنا چاہیے تھا۔ منگل کو سینیٹ میں ریاست کے مختلف اداروں کے مابین بڑھتے ہوئے تصادم سے پیدا ہونے والی صورتحال اور دیگر ایشوز پر تحاریک التواء کے تحت خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ یہاں کار اور سریا چوری کا سنا تھا پہلی بار معلوم ہوا کہ ہوائی جہاز بھی چوری ہو جاتا ہے دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں سنا تھا ساڑھے تین سو مسافروں والا ہوائی جہاز چوری ہو گیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس حکومت میں اگر ایسا ہو سکتا ہے تو سب کچھ چوری ہو سکتا ہے ہوائی جہاز کوئی جیب میں رکھ کر کوئی نہیں لے جا سکتا اور اب پارکنگ فیس بھی پاکستان ادا کر رہا ہے ۔

سعد رفیق

مزید :

علاقائی -