پنجاب ہائی وے مکینیکل مشینری منتقل کرنے کی آڑ میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

پنجاب ہائی وے مکینیکل مشینری منتقل کرنے کی آڑ میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں ...

  

لاہور ( ارشد محمود گھمن/ سپیشل رپورٹر)پنجاب ہائی وے مکینیکل مشینری ورکشاپ خان پو ر نہر ( شیخو پورہ) شفٹنگ کی آڑ میں ایس ای ،ایکسیئن،ایس ڈی او اور رانا مشتاق سب انجینئر کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانہ سے کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ،مذکورہ ورکشاپ 110 گلبرک لاہور میں پڑی ہو ئی کٹر مشینوں،خراد مشینوں وغیرہ کو شفٹنگ کے نام پر ڈیزل کی مد میں جعلی لاگ بک تیار کر کے محسن فلنگ اسٹیشن کے عملہ کو10فی صد کمیشن کی ادائیگی کرکے لاکھوں روپے ہڑپ کرلئے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب ہائی وے مکینیکل ورکشاپ 110برج شیرپاؤ گلبرک لاہور میں1947ء سے لے کر 2016ء تک سرکاری منصوبوں میں استعمال ہونے والا پنجاب بھر کا سکریپ جمع کیا جاتا رہا۔ ایک سال قبل حکومت پنجاب نے سیکرٹری مواصلات وتعمیرات کی درخواست پرورکشاپ کوخان پور نہر (شیخوپورہ) میں شفٹ کرنے کے احکامات جاری کئے تاہم سامان کی منتقلی کے دوران سب انجینئر رانا مشتاق نے محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران ایس ای ،ایکسیئن ،ایس ڈی او سے مبینہ ملی بھگت کرکے کٹر مشینیں،خراد مشینیں ،شیڈکورنگ سمیت دیگر قیمتی سامان کے نام پر گاڑیوں کے ڈیزل اور دیگر اخراجات کی مد میں جعلی لاگ بک تیار کرکے قومی خزانے سے لاکھوں روپے نکلوا کر آپس میں بانٹ لئے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ سب انجینئر رانا مشتاق نے مبینہ طور پرمحسن فلنگ اسٹیشن کے مالک سے ساز باز کرکے 10فیصد کمشن کی مد میں حکومت کی طرف سے ملنے والے ڈیزل کی بقایا 90فیصد رقم جو لاکھوں روپے بنتی ہے وصول کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچا یا ہے ۔یادرہے کہ مذکورہ ورکشاپ میں 2ارب روپے کاسکریپ بھی اعلیٰ افسران کی مبینہ ملی بھگت سے 72لاکھ روپے کی نیلامی میں فروخت کردیا تھا جس کی انکوائری کے لئے چیف انجینئر خالد جاوید نے 3رکنی کمیٹی (آرڈنمبر02/E-1مورخہ 13جون 2017ء )تشکیل دی تھی جس میں ایس ای ساہیوال اظفر محموداوراس وقت کے ایکسیئن مکینیکل لاہور عطاء محمد شامل تھے جن کی سربراہی ایس ای روڈ لاہورفرخ زمان نے کی اورجو تاحال اس کی انکوائری کررہے ہیں لیکن انکوائری ابھی تک کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکی ہے اور اس وقت بھی یہ سرد خانے کی نذر ہے ۔اس ضمن میں چیف انجینئر خالد جاوید کا کہنا ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور جاری انکوائری کی بابت بھی مذکورہ انکوائری افسران سے رپورٹ طلب کی جائے گی جس کی روشنی میں ملوث افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

بے ضابطگیاں

مزید :

علاقائی -