غیر قانونی رکشے بنانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم

غیر قانونی رکشے بنانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم

  

لاہور(کرائم رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن ریٹائرڈعارف نواز خا ن نے ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد فاروق مظہر کو موٹر سائیکلوں کو غیرقانونی طو پر رکشے بنانے والی ورکشاپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیا ہے ۔آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے تمام ضلعی دفاتر اپنے اضلاع میں ایسی تمام غیر قانونی ورکشاپس کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائیں جوبغیر لائسنس موٹر سائیکلوں کو موٹر سائیکل رکشوں میں تبدیل کرنے میں ملوث ہیں۔تفصیلات کے مطابق اس وقت پنجاب بھر میں 272سے زائد غیر قانونی ورکشاپس اس دھندے میں ملوث ہیں جو بغیر لائسنس حاصل کئے موٹر سائیکلوں کو موٹر سائیکل رکشوں میں پر تبدیل کر رہی ہیں ۔یہ غیر قانونی ورکشاپیں غیر معیاری موٹر سائیکل رکشوں کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل لوڈر رکشے، پک اپ اورانکے غیر معیاری باڈی پارٹس بھی بنا کر فروخت کر رہی ہیں جسکی وجہ سے ایسے موٹر سائیکل رکشوں کی تعدا د میں اضافہ ہورہا ہے جواکثر و بیشتر حادثات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں ۔

ان حادثات کی روک تھام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو ایک مراسلہ بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو ان غیر قانونی ورکشاپس کے خلاف فوری کاروائی کا حکم دیا جائے ، ڈی آئی جی ٹریفک نے تمام سی ٹی اوز سمیت پنجاب بھر کے ٹریفک انچارجوں اور ٹریفک پولیس کے افسران کو حکم دیاکہ ٹریفک پولیس اہلکار جو غیر قانونی موٹر سائیکل رکشہ بند کریں اسکو فوری طور پرڈسمنٹل کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر زکے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے تاکہ عوام کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلے میں ایسے تمام موٹرسائیکل رکشہ جات کو غیر قانونی قرار دیا ہے جوبطور موٹر سائیکل رجسٹر ہوئے لیکن بعد میں انہیں موٹر سائیکل رکشہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالت عالیہ نے تمام صوبوں کی ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو حکم دیا ہے کہ وہ صرف ایسی کمپنیوں کو لائسنس جاری کریں جو موٹر سائیکل رکشہ وغیرہ کو انکے تعین کردہ معیار کے مطابق بنائیں اور وہی کمپنیاں موٹر سائیکل رکشہ بناسکتی ہیں جن کو محکمہ ٹرانسپورٹ لائسنس جاری کرے۔ ایسے تمام موٹر سائیکل ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے پاس بطور موٹر سائیکل رکشہ رجسٹرڈہوں اور محکمہ ٹرانسپورٹ انکو فٹنس سرٹیفیکیت و روٹ پرمٹ جاری کرے گا ۔ اسی طرح موٹر سائیکل رکشہ میں چار سے زیادہ سواریاں نہیں ہوں گی موٹر سائیکل رکشہ کے ڈرائیور کے پاس رکشہ چلانے کا لائسنس ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے ۔

مزید :

علاقائی -