جہانگیر ترین سے لیز اراضی کی دستاویزات طلب، ایک لاکھ پاؤنڈ میر ے ہیں نہ اکاؤنٹ کا مکمل ریکارڈ ملا ، سپریم کورٹ میں عمران خان کا اعتراف

جہانگیر ترین سے لیز اراضی کی دستاویزات طلب، ایک لاکھ پاؤنڈ میر ے ہیں نہ ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی جانب سے لیز پر لی گئی 18 ہزار 500 ایکڑ اراضی کے حقیقی مالکان کی تفصیلات، پنجاب لینڈ ریونیو (پی ایل آر) کے ریکارڈ سمیت اراضی کی تمام دستاویزات طلب کر لیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ، رکن قومی اسمبلی اور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا جمائمہ کو 5لاکھ 62 ہزار ر و پے کی رقم عمر ا ن خان نے اداکی،دستاویزسے جمائمہ کورقم وصولی ثابت ہوتی ہے، عمران خان نے بنی گالہ اراضی کے نقشے کی رقم گو شو ا روں میں ظاہر کی ، کیو نکہ نقشہ مستردہونے پرنقشہ نویس نے رقم واپس کردی تھی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ دستاو یز شروع میں جمع کرادیتے توبہترہوتا،دوسری پارٹی کودستاویزپراعتراض اٹھانے کاموقع میسرآتا،مزید یہ استفسار کیا کہ کیاعمران خا ن نے 03 ء سے 07ء تک گوشوارے ظاہر کئے؟اس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا چیئرمین پی ٹی آئی نے 08ء میں الیکشن میں حصہ نہیں لیا،08 ء سے 13ء تک عمر ا ن خان کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں تھا، نیازی سروسزکے اکاؤنٹ میں رکھے ایک لاکھ پاونڈعمران خان کے نہیں تھے،نیازی سروسز(این ایس ایل) کے اکاؤنٹ کامکمل ریکارڈنہیں ملا ،چیف جسٹس نے نعیم بخاری کے دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کمال بات ہے آپ کے حق میں موجود ریکارڈ مل جاتا ہے جبکہ آپ کے مخالف ریکارڈ آپ کو نہیں ملتا۔حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کے سامنے کہا کورٹ میں دستاویزات جمع کرانے کا یہ طریقہ نہیں جو عمران خان کی جانب سے اپنایا گیا تاہم اس پر عدالت میں متفرق درخواست پر جواب جمع کرائیں گے۔عدالت نے عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے اضافی دستاویزات پر حنیف عباسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔جہانگیرترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران ان کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ جہانگیر ترین نے 18 ہزار 500 ایکڑ زمین 2010 میں لیز پر حاصل کی تھی جہاں گنا کاشت کیا جاتا تھا جسے جہانگیر ترین شوگر مل نے ہی خریدا۔ 150 کلو میٹر کے دائرے میں پھیلی یہ راجن پور، رحیم یار خان اور صادق آباد کے اضلاع میں واقع ہے جس پر 86 فارمز بنائے گئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا اس اراضی کے حوالے سے جو لیز معاہدے عدالت میں پیش کیے گئے ہیں انکی اہمیت نہیں تاہم زمین کے حقیقی مالک اور کاشتکاری کے بارے میں اصل معلومات محکمہ مال پنجاب کے ریکارڈ سے ہی ملیں گی ، جسے عدالت میں پیش کیا جائے۔جس پر جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا ان اضلاع میں ریکارڈ خاص ترتیب سے مرتب نہیں کیا جاتا اور نہ ہی زمین مالکان محکمہ مال کے ریکارڈ میں کاشتکار کا نام لکھنے دیتے ہیں لہٰذا اس طرح زرعی ٹیکس کے معاملے پر جہانگیر ترین کو نااہل نہیں کیا جا سکتا۔ سکندر بشیر نے عد ا لت کو بتایا کراس چیکس کے ذریعے مالکان کو چند ہزار کی ادائیگی نہیں کی، 2010میں جہانگیرترین کوفی ایکڑ 22ہزار ر و پے آمدن ہوئی ، جہا نگیرترین کی کوشش ہوتی ہے ہرچیز کے دستاویزات کاریکارڈ رکھاجائے ، اس پرحنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا ٹیکس حکام کے رو بر و جہانگیرترین اپناموقف نہیں پیش کرسکے، جس پر چیف جسٹس نے کہا لیز معاہدوں میں زمین کے کھاتوں اورموضع کاذکرنہیں ہے ،کرا س چیک کی ادائیگیوں پرآبزرویشن دی توجہانگیر ترین کیلئے مسائل ہوں گے۔جہانگیر ترین کے وکیل نے موقف اختیا کیا کل ایگری کلچرل ٹیکس ایشوز پرجہانگیرترین کوآرٹیکل 62ون ایف پر نا ا ہل نہیں کیاجاسکتا،پنجاب میں زرعی آمدن کی اسیسمنٹ کاکوئی طریقہ کارنہیں ،سسٹم میں غلطی کاقصوروار جہانگیرترین کونہیں ٹھہرایاجاسکتا ،اس پر چیف جسٹس نے کہا قانون کے تحت زرعی آمدن والے کوٹیکس دیناہے۔بعد ازاں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سماعت آج 11 اکتوبر تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے زرعی آمدن سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا ۔یاد رہے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے اور آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کررہا ہے جس میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس عمر عطابندیال بھی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -