خدارا پاکستان کے نوجوانوں کو الزام تراشیاں اور جھوٹ نہ سکھائیں : شہباز شریف

خدارا پاکستان کے نوجوانوں کو الزام تراشیاں اور جھوٹ نہ سکھائیں : شہباز شریف

  

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ریسکیو 1122 کے زیر اہتمام پنجاب میں فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا افتتاح کر دیا۔وزیراعلیٰ نے افتتاح کے بعد پنجاب ایمرجنسی سروسز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا اور سینٹر کے مختلف حصے دیکھے۔ وزیراعلیٰ کو فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ نے موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے عملے کے مارچ پاسٹ کا معائنہ کیا اور موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے عملے کی جانب سے ریسکیو کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ وزیراعلیٰ کو سینٹر کے دورے کے دوران موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کیلئے ضروری طبی آلات کے بارے میں بتایا گیا۔ وزیراعلیٰ نے فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس پنجاب کے 36 اضلاع میں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سروس کا دائرہ کار بہت جلد ہر ضلع تک پھیلا دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ریسکیورز کو ہر ماہ رسک الاؤنس دینے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے آغاز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے عظیم ریسکیورز نے لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں جس پر میں ریسکیورز اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آج کی تقریب دکھی انسانیت کی خدمت کو آگے بڑھانے کیلئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ عظمتوں بھری داستان کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ ریسکیو 1122 کے تحت نئی سوچ کیساتھ فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے اور اس منفرد آئیڈیا پر عملدرآمد کا خیال مجھے اس وقت آیا جب قصور کے نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک غریب خاندان کی ماں ایمبولینس سروس نہ ملنے پر ہسپتالوں کے دھکے کھاتی رہی اور بالآخر جناح ہسپتال میں اپنے پیاروں سے بچھڑ گئی۔ مجھے اس دلخراش واقعہ پر سخت دکھ اور افسوس ہوا اور میں نے اسی وقت ہسپتالوں میں موجود ایمبولینس سروس کو ریسکیو 1122 کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ریسکیو 1122 نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور اب مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے نظام میں بہت بہتری آئی ہے اور آج اسی نظام کو آگے بڑھاتے ہوئے فری موٹربائیکس ایمبولینس سروس کا آغاز کیا گیا ہے جو کہ جنوبی ایشیا میں پہلی موٹر بائیکس ایمبولینس سروس ہے۔ اس سروس کیلئے پنجاب کے 9 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کو چنا گیا ہے، تاہم آج لاہور سے موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اور دیگر ڈویژن میں بھی یہ سروس آئندہ چند ہفتے میں شرو ع کردی جائیگی۔ مجموعی طور پر 900 موٹر سائیکلوں پر مشتمل عملہ پنجاب کے 9 ڈویژن میں اس سروس کیلئے کام کرے گا جبکہ بعد میں پنجاب کے 36 اضلاع میں موٹر بائیکس ایمبولینس سروس شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شاندار سروس پنجاب کے عوام کو سہولت دینے کیلئے شروع کی گئی ہے اور اس سروس سے تنگ گلی محلوں میں ایمرجنسی کی صورت میں بروقت طبی امداد مہیا کی جاسکے گی۔ ایمرجنسی کی صورت میں گنجان آباد علاقوں اور تنگ گلیوں میں موٹر سائیکلوں کی ایمبولینس سروس فوری ریسکیو اور طبی امداد فراہم کریگی جس سے کسی بھی حادثے کی صورت میں شہریوں تک بروقت پہنچا جاسکے گا اور انہیں طبی امداد پہنچائی جاسکے گی جبکہ اس کیساتھ ایمبولینس بھی باہر موجود ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی عناصر تہمتیں،بے بنیاد الزامات اور غلط بیانی کرتے ہیں۔ غلط اشتہار بازی کرکے جھوٹ بولتے ہیں۔ خدارا پاکستان کے نوجوانوں کو الزام تراشیاں اور جھوٹ نہ سکھائیں، یہ پاکستان کی تباہی کا باعث بنے گا اور قوم ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی۔ پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات کے مطابق آگے لے کر جانا ہے تو امانت، دیانت او رمحنت کے راستے پر چلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیورز دکھی انسانیت کے محسن اور ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کو اچھے طریقے سے پورا کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا میں ریسکیورزکو رسک الاؤنس دینے کا اعلان کرتا ہوں اور یہ انہیں ہر ماہ تنخواہ کیساتھ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جلاوطنی کے بعد جب میں وطن واپس آیا اور 2008 کے الیکشن میں عوام نے اپنی محبتوں سے نوازا اور مجھے خادم پنجاب بنایا تو میں نے سب سے پہلے پولیس اور جوڈیشری کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور اسی وقت پنجاب کے خزانے پر 8 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ یہ صرف اس لئے تھا کہ پولیس اور جوڈیشری میں کام کرنے والوں کو اچھی تنخواہیں دی جائیں تاکہ انہیں بنیادی ضروریات پورا کرنے کیلئے ادھر ادھر نہ دیکھنا پڑے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اربوں کھربو ں کی کرپشن کرکے پاکستان کو کھوکھلا کیا گیا ہے۔ خدا کے واسطے اب منافقت چھوڑ دیں۔ آپ پشاور میں تو میٹرو بس سروس چلا نہیں سکے اور اس کی ایک اینٹ نہیں لگی لیکن آپ لاہور کے شہریوں کو اورنج لائن میٹرو ٹرین سے محروم کرنے کے درپے ہیں۔ لاہور کے شہریوں سے ان کا عالمی معیار کی جدید سفری سہولتوں کا حق مت چھینیں۔ پونے دو برس ہوچکے ہیں، اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کے 11 مقامات پر آپ کی وجہ سے کام رکا ہوا ہے کیونکہ آپ کا ہی ایک پارٹی عہدیدار عدالت گیا اور سٹے لیا۔ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا گیا کہ رواں برس کے آخر تک ریسکیو 1122 کا دائرہ کار پنجاب کی تمام تحصیلوں تک پھیلا دیا جائے گا اور ہمارا رسپانس ٹائم عالمی معیار کے مطابق ہے اورسروس کے آغاز سے لیکراب تک 50لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جاچکا ہے اور بروقت ریسکیو آپریشن کر کے 240ارب روپے کے نقصانات کو بچایاگیا ہے ۔سویڈن کی سفیر انگریڈ جوہانسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی قیادت میں شاندار اقدام کیا ہے جس پر میں پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد دیتی ہوں۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ایک وژن کے تحت فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس متعارف کرائی ہے جس کے بے پناہ فوائد ہوں گے۔

شہباز شریف

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا نصب العین صرف اور صرف عوام کی خدمت ہے اور ہماری حکومت گزشتہ سوا چار برس کے دوران عوام کی بے لوث خدمت کررہی ہے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ وہ اراکین اسمبلی سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے ان سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں صرف ملک وقوم کی ترقی اور خوشحالی کی سیاست ہو گی کیونکہ پاکستان کے عوام صرف ترقی، خوشحالی اور امن چاہتے ہیں اور ہم نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو قدم قدم پر مقدم رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں اتحاد، اتفاق اور یکجہتی کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور اتحاد کی قوت سے ہی پاکستان کو کھوئی ہوئی منزل سے ہمکنا رکرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفاد عامہ کے منصوبوں میں رخنہ ڈالنے والے بعض سیاسی عناصر عوام سے کھلی دشمنی کر رہے ہیں۔ پاکستان کے باشعور عوام ایسے عناصر کو پہچان چکے ہیں اور دھرنوں کے ذریعے ترقی کا سفر روکنے والوں کو عوام 2018 کے انتخابات میں رد کردیں گے۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں ممبر قومی اسمبلی عفت لیاقت اور رکن صوبائی ا سمبلی اصغرعلی منڈاشامل تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب

مزید :

صفحہ اول -