طیارہ فروخت سکینڈل ، پبلک اکاؤنٹس کا معاملہ نیب کو بھجوانے کا حکم

طیارہ فروخت سکینڈل ، پبلک اکاؤنٹس کا معاملہ نیب کو بھجوانے کا حکم

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کے طیارے کو فروخت کرنے کا معاملہ نیب کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین خورشید شاہ کی سربراہی میں ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ فروخت سکینڈل سے دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کون کنٹریکٹر ہے جسے ایڈوانس پیسے دیئے جاتے ہیں، آپ نے 48 کروڑ روپے ایک سال میں دے دیئے اور کوئی کام نہ ہوا۔خورشید شاہ نے کہا کہ پی آئی اے نے نہ صرف سزا یافتہ شخص کو چیف کنسلٹنٹ لگایا بلکہ اسے 15 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ بھی دی گئی۔اس موقع پر شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ پی آئی اے بے ایمانی کا گڑھ ہے۔کمیٹی نے اس معاملے کو نیب کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کردیئے جبکہ چیف لیگل کنسٹنٹ کی تعیناتی اور پی آئی اے کے افسروں کے ٹی اے ڈی اے کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ ایک سال میں بیرونی دورے اورٹی اے ڈی اے لینے والوں کی تفصیل ایک روز میں دی جائے۔

طیارہ فروخت سکینڈل

اسلام آباد (این این آئی،صباح نیوز)سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان نے پی آئی اے کے طیارے کی گمشدگی کے معاملے کی تحقیقات کامطالبہ کردیا۔ سینیٹ کے گزشتہ روز ہونیوالے اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ پی آئی اے کے جہاز کی گمشدگی انتہائی تشویش کا باعث ہے، مالٹا میں کھڑے اس جہاز کی پارکنگ فیس بھی پی آئی اے ہی ادا کر رہی ہے۔ سینیٹر سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ پی آئی اے کے جیٹ ایئر بس طیارے 310 کی گمشدگی کے معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ پی آئی اے کو روزانہ 8 سے 9 کروڑ روپے خسارہ ہو رہا ہے۔ طیارے کا گم ہونا قابل افسوس ہے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ دوسری جانب پی آئی اے کا ہوائی جہاز فلسطین کے خلاف اسرائیلی فلم میں استعمال کرنے کا معاملہ پارلیمینٹ میں شدت اختیار کر گیا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے واضح کیا کہ ہوائی جہاز واپس ملا نہ پیسے ۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے اس معاملے پر ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔ ڈپٹی سپیکر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکی کمپنی کو فلم کیلئے یہ جہاز دے کر ہم نے فلسطینی بھائیوں کو بھی ناراض کیا۔ یہ معاملہ گزشتہ روز حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) نے توجہ مبذول کرانے کے نوٹس کے ذریعے قومی اسمبلی میں اٹھایا۔ جے یو آئی (ف) نے مالٹا میں بنائی گئی ایک فلم جس میں فلسطینیوں کی جدوجہد کی منفی عکاسی کی گئی میں پی آئی اے کے استعمال کئے گئے لاپتہ ہوائی جہاز سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ توجہ مبذول کرانے کے نوٹس میں جو معاملہ اٹھایا گیا ہے وہ درست ہے، یہ جہاز پی آئی اے کے جرمن سی ای او نے مالٹا کی کمپنی کو دیا تھا جو فلم میں استعمال کیا گیا، پی آئی اے کے پاکستانی افسران بھی اس معاملے میں ملوث ہیں، ایف آئی اے تحقیقات کر رہی ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ جہاز جرمن عجائب گھر میں کھڑا ہے۔ جہاز بھی چلا گیا اور پیسے بھی نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی خصوصی کمیٹی نے تحقیقات کی ہیں تاہم قومی اسمبلی کی کمیٹی بھی بن سکتی ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ یہ اس معاملے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ مالٹا کی کمپنی کو یہ جہاز دے کر فلسطین کے بھائیوں کو بھی ناراض کیا گیا۔ افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے 30 دنوں میں اس معاملے پر رپورٹ طلب کر لی ۔

سینیٹ/قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -