قبرستان کیلئے مختص اراضی مفاد عامہ کیلئے استعمال نہیں کی جا سکتی،لاہور ہائیکورٹ

قبرستان کیلئے مختص اراضی مفاد عامہ کیلئے استعمال نہیں کی جا سکتی،لاہور ...

  

لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائیکورٹ نے میانی صاحب قبرستان کی اراضی پر غیر قانونی قابضین کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لئے مہلت دیتے ہوئے قراردیا کہ قانون کے تحت قبرستان کی مختص اراضی مفاد عامہ کے کسی منصوبے کے لئے بھی استعمال میں نہیں لائی جا سکتی۔جسٹس علی اکبر قریشی نے کیس کی سماعت کی، عدالتی حکم پر غیر قانونی قابضین نے عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ انہوں نے رقم دے کر زمین خریدی ،ان کے پاس اس اراضی کے مالکانہ حقوق بھی موجود ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملکیت ثابت نہ ہو سکی تو عدالت فوری قبضہ واگزار کرائے گی، عدالت نے قابضین کو چار یوم میں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا موقع فراہم کر دیاہے، ڈپٹی کمشنر سمیر سید نے عدالت کو بتایا کہ میانی صاحب جنازگاہ کی ایک مرلہ سے زائد اراضی عوامی مفاد کے تحت ٹیوب ویل کی تنصیب کے لئے حاصل کی گئی ہے، اس عوامی منصوبے کے تحت 13ہزار گھروں اور قبرستان کو پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ قبرستان کی اراضی کس قانون کے تحت مفاد عامہ کے منصوبے کے نام پر حاصل کی گئی؟ اگر عدالت مطمئن نہ ہوئی تو ٹیوب ویل کو اکھاڑنے کا حکم دیا جائے گا۔ قانون کے تحت قبرستان کے لئے مختص اراضی مفاد عامہ کے نام پر بھی حاصل نہیں کی جا سکتی، اگر یہ اجازت دے دی گئی تو کل کو مفاد عامہ کے نام پر حکومت قبرستان پر سڑکیں بنا کر عمارتیں کھڑی کر دے گی، عدالت نے قبرستان میں جنازگاہ اور میتوں کو نہلانے کے لئے غسل خانوں کی تعمیرسے متعلق ڈپٹی کمشنر لاہور کو موقع پر جا کر ترقیاتی کاموں کا معائنہ کرنے اور عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کے علاوہ قبرستان کے گورکنوں کو سوشل سکیورٹی کارڈ جاری کرنے،قبرستان کے تمام داخلی راستوں پر دروازے لگانے کا بھی حکم دیاہے ،عدالت نے پھول فروشوں کے ٹھیکوں سے ہونے والی آمدن کا ریکارڈ بھی طلب کر لیاہے، عدلت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے علم میں ہے کہ گورکنوں کی تعیناتیوں کے لئے 50ہزار روپے تک رشوت لی جاتی تھی،قبرستان کی دیکھ بھال کرنے والے گورکنوں کو تنخواہیں کیوں ادا نہیں کی جاتیں ؟اس حوالے سے عدالت کو ٹھوس وجوہات بتائی جائیں، عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

مزید :

صفحہ آخر -