وزارت داخلہ نے سارے فیصلے خود کرنے ہیں تو عدالتوں کو تالے لگا دئیے جائیں: لاہور ہائیکورٹ

وزارت داخلہ نے سارے فیصلے خود کرنے ہیں تو عدالتوں کو تالے لگا دئیے جائیں: ...

  

لاہور(نامہ نگار) لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کی نظر بندی کے خلاف کیس میں جواب داخل نہ کرانے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ بنیادی حقوق کاتحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، وزارت داخلہ نے اگر سارے فیصلے خود کرنے ہیں تو عدالتوں کو تالے لگا دیئے جائیں۔ حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ثبوت کے بغیر محض الزامات کی بنیاد پر درخواست گزار اور ان کے ساتھیوں کو نظر بندکیا ہے ،امریکہ کے کہنے پر حافظ سعید کو نظر بند کیا گیاہے،امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی، کسی قانونی جواز کے بغیر حافظ سعیدکی نظر بندی آئین اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نظر بندی کے خلاف درخواست ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے لیکن حکومت نے عدالتی فیصلے کا انتظار کئے بغیر نظر بندی میں پہلے 90روز کی توسیع کر دی جو غیر قانونی ہے ۔انہوں نے استدعا کی کہ عدالت پابندی کوکالعدم قرار دے، سرکاری وکیل نے سیکرٹری داخلہ کی جانب سے جواب داخل کرنے کی مہلت طلب کی جس پر عدالت نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کاتحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،صرف اخباری تراشوں پر طویل مدت کے لئے کسی کو نظر بند نہیں رکھا جاسکتا،ایک آدمی کے تحفظ پر 10ہزار لوگ تعینات ہیں اور ایک آدمی کے کیس میں کوئی افسر موجود نہیں، عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ حکومتی لاء افسران بھی عدالتوں کو بند کرنا چاہتے ہیں، عدالت سے کوئی تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ حکومت کی جانب سے عدالت سے تعاون نہیں کیا جا رہا،وزارت داخلہ نے اگرخود فیصلے کرنے ہیں تو عدالتوں کو تالے لگا دئے جائیں،اس کیس کی مزید سماعت13اکتوب کو ہو گی ۔

مزید :

صفحہ آخر -