نئے اسلام آباد ائر پورٹ منصوبہ میں مبینہ کرپشن، پی اے سی نے کمیٹی تشکیل دیدی

نئے اسلام آباد ائر پورٹ منصوبہ میں مبینہ کرپشن، پی اے سی نے کمیٹی تشکیل دیدی

  

اسلام آباد (آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیو اسلام آباد ائرپورٹ منصوبہ میں 6 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے سینیٹر شیری رحمن کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ فراہم کرے ۔ نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ منصوبہ 35ارب سے بڑھ کر 81ارب تک پہنچ چکا ہے جس میں زیادہ تر قومی خزانہ کو کرپشن کی نذر کردیا گیا ہے ۔ پی اے سی نے متفقہ طور پر سیکرٹری سول ایوی ایشن کو حکم دیا ہے کہ سابق مشیر شجاعت عظیم کے خط پر غیر ملکی کمپنیوں کو اربوں روپے کے ٹھیکے دینے کا ریکارڈ بھی فراہم کرے پی اے سی نے سیکرٹری کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ پی آئی اے کے ڈائریکٹرز کی طرف سے ایک سال میں 38 کروڑ کے ٹی اے ڈی اے وصولی کاریکارڈ بھی دیا جائے جبکہ لیزپر حاصل کئے گئے مہنگے جہازوں کی خریداری کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے پی اے سی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ نواز شریف نے پی آئی اے میں ایک ایسے شخص کو قانونی مشیر تعینات کیا تھا جو قتل کے جرم میں سزا یافتہ ہے اور مجرمانہ جرائم میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی صدارت میں منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں سول ایوی ایشن کے مالی سال 2016-17ء کے آڈٹ اعتراضات کاجائزہ لیا گیا سیکرٹری سول ایوی ایشن سکوارڈرن لیڈر (ر) عرفان الہی نے کمیٹی کو پی آئی اے اور نئے اسلام آباد ائرپورٹ میں اربوں روپے کی کرپشن بارے بریف کیا اجلاس میں محمود اچکزئی ، نوید قمر ، نذیر سلطان ، مشاہد حسین سید ، شیری رحمن ، عاشق گوپانگ ، عارف علوی ، اعظم سواتی ، شیخ روحیل اصغر اور نذیر جٹ نے شرکت کی اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ نئے ائرپورٹ کے پیکج فور میں اڑھائی ارب مالیت کا ٹھیکہ چھ ارب روپے ایک غیر ملکی کمپنی کو الاٹ کیا یہ ٹھیکہ شجاعت عظیم کی خط کی روشنی میں 2015ء میں دیا گیا اور قواعد کی شدید دھجیاں بکھیری گئیں معاملہ کی چھان بین کے لئے شیری رحمن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے پی اے سی کے چیئرمین نے کہا کہ جو افسر کرپٹ افراد کا تحفظ دینے کی کوشش کرے گا اس کیخلاف مقدمات درج ہوں گے کمیٹی میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے دوسرے ٹھیکے میں لاہور کی کمپنی گارنٹی انجینئر کو ساٹھ کروڑ روپے اضافی دے دیئے گئے اور اس کمپنی کو فائدے وزیراعظم ہاؤس کے لیٹر پیڈ پر ایک حکم کے ذریعے دیئے گئے تھے اس منصوبہ کا ٹھیکہ کی بولی 3900 ملین روپے میں مکمل ہوئی لیکن ادائیگی ساڑھے چار ارب روپے کردی گئی پی اے سی نے مزید انکوائری یکلئے پیپرا کے چیئرمین کو طلب کرلیا ہے اس منصوبہ کی بولی دو سال تک خفیہ رکھی اجلاس شروع ہوتے ہی خورشید شاہ نے پی آئی اے طیارہ کی فروخت بارے سیکرٹری سول ایوی ایشن سے بریفنگ لینا شروع کی ۔سیکرٹری نے اقرار کیا کہ پی آئی اے جہاز جرمن شہری لے گیا تھا رقم بھی واپس نہیں کی اور نہ جہاز واپس کیا ہے اعلی اختیارات کے حامل شخص کے حکم پر جرمن شہری کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا تھا پی اے سی نے اس اعلیٰ شخصیت کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ جہاز کی فروخت کا اشتہار دیا تھا کیونکہ ایسے جہاز اپنی عمر پوری کرچکے ہیں اس کے ساتھ دیگر جہاز گراؤنڈ کردیئے ہیں۔ محمود اچکزئی نے پوچھاکہ یہ کیا معاملہ ہوا تو خورشید شاہ نے کہا کہ 2017ء میں داخلہ ہوا ہے یہ 57000یورو کیش میں نہیں آئے تھے بلکہ کرایہ کی مد میں وصول ہوئے تھے ۔ڈائریکٹر پی ایم ایم ایل اور غیر ملکی کنسلٹنٹ ذمہ دار قرار دیا اور کمپنی خریدنے والے کا ملازم نکلا تھا خورشید شاہ نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ اور کیا ہوسکتا ہے یہ خریدنے والے خود پی آئی اے کا کنسلٹنٹ بنا ہوا تھا کیا سول ایوی ایشن میں سیانا آدمی نہیں تھا بوری چمڑا دیکھ کر ڈر جاتے ہیں سیکرٹری سول ایوی ایشن نے ڈیل کا دفاع کیا۔ سیکرٹری ایوی ایشن نے کہا کہ ٹرپل 777 جہاز کا ٹینڈر دیا گیا گیارہ جہازوں کی بجائے پانچ جہاز خریدنے کا فیصلہ ہوا پیپرا کی ویب سائٹ پر تمام معاملات موجود ہیں اکتوبر 2018ء میں پہلا جہاز مل جائے گا سید خورشید شاہ نے کہا کہ دنیا میں چور کامیاب ہیں شریف ناکام ہیں چور بڑی بڑی چیخیں مار کر سچے ہورہے ہیں 48 کروڑ روپے دے کر آپ بیٹے ہیں سو فیصد ایڈوانس ایک سال پہلے دے دیا ہے اور جہاز خریدا ہی نہیں ہے شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ سیکرٹری کا اختیار پی آئی اے میں نہیں ہے ایک اور سکینڈل میں سیکرٹری نے تسلیم کیا کہ 8000 ڈالر فی گھنٹہ سے جہاز پی آئی اے نے لیا جبکہ شاہین ائر لائن نے چار ہزار ڈالر فی گھنٹہ سے جہاز پی آئی اے نے لیا جبکہ شاہین ائر لائن نے چار ہزار ڈالر فی گھنٹہ سے لئے پی آئی اے میں اربوں روپے کی کرپشن جاننے کیلئے پی اے سی نے چیئرمین پی آئی اے کو آج طلب کرلیا ۔

مزید :

صفحہ آخر -