نااہلی کیس ، جہانگیر ترین سے لیز اراضی سے متعلق مھخمہ مال کار یکارڈ طلب ، عمران خان کے جواب پر حنیف عباسی کو نوٹس جاری

نااہلی کیس ، جہانگیر ترین سے لیز اراضی سے متعلق مھخمہ مال کار یکارڈ طلب ، ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین سے لیز پر لی گئی زمین سے متعلق محکمہ مال کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے جبکہ عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب پر حنیف عباسی کے وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج تک ملتو ی کردی ،دوران سماعت چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جو ریکارڈ آپ کے حق میں ہوتا وہ مل جاتا ہے ،جو د و سرا ہوتا وہ نہیں ملتا ،اچھا ہوتا یہ ریکارڈ پہلے جمع کرایا جاتا تاکہ دوسرے فریق کو جواب جمع کرانے کا موقع مل جا تا ، جہانگیر تر ین کیخلاف در خو ا ست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ممکن ہے کسی کاشناختی کارڈ لے کر لیز معاہدہ لکھ لیاگیاہو ،د یکھنا ہے جس سے معاہدہ ہوا کیاوہ زمین کا اصل مالک تھایانہیں؟ منگل کو کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال ار جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی ۔سپریم کورٹ میں جہانگیرترین اور عمران خان کی نااہلی کیلئے حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تودوران سماعت عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا جمائمہ کو 5لاکھ 62 ہزار ر و پے کی رقم عمر ا ن خان نے اداکی،دستاویزسے جمائمہ کورقم وصولی ثابت ہوتی ہے، عمران خان نے بنی گالہ اراضی کے نقشے کی رقم گو شو ا روں میں ظاہر کی ، کیو نکہ نقشہ مستردہونے پرنقشہ نویس نے رقم واپس کردی تھی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ دستاو یز شروع میں جمع کرادیتے توبہترہوتا،دوسری پارٹی کودستاویزپراعتراض اٹھانے کاموقع میسرآتا،مزید یہ استفسار کیا کہ کیاعمران خا ن نے 2003 سے2007تک گوشوارے ظاہر کئے؟اس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا چیئرمین پی ٹی آئی نے 2008 میں الیکشن میں حصہ نہیں لیا،2008 ء سے 2013 تک عمران خان کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں تھا، نیازی سروسزکے اکاؤنٹ میں رکھے ایک لاکھ پاونڈعمران خان کے نہیں تھے،نیازی سروسز کے اکاؤنٹ کامکمل ریکارڈنہیں ملا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس جوریکارڈ آپ کے حق میں ہووہ مل جاتا ہے ، د و سرانہیں ملتا۔اس پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا عدالت متفرق درخواست پرنوٹس جاری کرے ،میں جواب دوں گا،جس پر عدا لت نے عمران خان کے جواب پرحنیف عباسی کونوٹس جاری کردیا۔ بعد ازاں جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ اٹھارہ ہزار ایکڑ زمین 150 کلومیٹر کے دائرہ میں واقع ہے،جس پر 86 فارم تھے، 2002 میں لیز پر لی گئی ،2 ہزار ایکڑ زمین 2011 تک 20 ہزار ایکڑ تک پہنچ گئی ،اس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا جہانگیر ترین نے اپنی ذاتی زمین 200 ایکڑ کس کو فروخت کی ؟اگر کاشتکاری سے بہت آمدن ہو رہی تھی تو زمین فروخت کیوں کی اس پر جہانگیر ترین کے وکیل نے جواب دیا فروخت کی گئی زمین لودھراں میں تھی ، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا اسکا ثبوت کیا ہے جہانگیر ترین کے پاس 18 ہزار ایکڑ زمین لیز پر تھی، اس پر سکندر بشیر نے کہا زمین لیز کے ثبوت اور معاہدے موجود ہیں،اس پر چیف جسٹس نے کہا یہ رجسٹرڈ لیز معاہدے نہیں ہیں جبکہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کیا زمین لیزپرلینے کامحکمہ مال کاریکارڈ موجود ہے اس پر جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا لیز ز مین کی تمام ادائیگیاں کراس چیک کے ذریعے کی گئیں،اس پر پھرجسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا سوال یہ ہے کہ جنہیں ادائیگیاں ہو ئیں وہ مالک تھے کہ نہیں ،جبکہ چیف جسٹس نے کہا زمین کے اصل مالک اورکاشتکاری کا محکمہ مال سے معلوم ہوگا،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا خسرہ گرداوری منگوانے کامقصد یہی تھااس پر سکندر بشیر نے کہا زمین کی کاشت کی آمدن کا بھی مکمل ریکارڈ موجود ہے، خسرہ گرداوری بھی محکمہ مال سے حاصل کر کے پیش کیے جا سکتے ہیں ، زمین مالکان کے بیان حلفی بھی لیے جا سکتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا بیان حلفی کیوں، خسرہ گرداوری کیوں نہیں، عدالت کو محکمہ مال کا ریکارڈ درکار ہے، محکمہ مال کاریکارڈدیں اسکی تصدیق محکمہ مال سے کرواسکتے ہیں ،اس پر جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا اس علاقے میں زمین مالکان محکمہ مال کے ریکارڈ میں کاشت کارکانام لکھنے نہیں دیتے ،ان علاقوں میں لیز پر کاشتکارزمین پرقبضہ کرلیتے ہیں،اسلئے مالکان لیز کا شتکا رکانام محکمہ مال میں درج نہیں کرواتے ،اس پر چیف جسٹس نے کہا لیزمعاہدوں پرمالک کی زمین کانہیں لکھااسکی زمین کتنی اورکدھرہے ، مطمئن کریں جن سے زمین لیزپرلی وہ زمین کے مالک تھے ، اس پر سکند ر بشیر نے کہا جہانگیرترین نے لیززمین کی 1.9ارب روپے ادائیگی کی ،کیااس ادائیگی کی کوئی ایمیت نہیں ؟اس پر چیف جسٹس نے کہا اس وقت لیز زمین کی ادائیگیوں کے ریکارڈ کی اہمیت نہیں، ہم ریکارڈ کو مسترد نہیں کر رہے لیکن ہم پہلے محکمہ مال کا ریکارڈ دیکھنا چاہتے ہیں، سکندر بشیر نے عد ا لت کو بتایا کراس چیکس کے ذریعے مالکان کو چند ہزار کی ادائیگی نہیں کی، 2010میں جہانگیرترین کوفی ایکڑ 22ہزار ر و پے آمدن ہوئی ، جہا نگیرترین کی کوشش ہوتی ہے ہرچیز کے دستاویزات کاریکارڈ رکھاجائے ، اس پرحنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا ٹیکس حکام کے رو بر و جہانگیرترین اپناموقف نہیں پیش کرسکے، جس پر چیف جسٹس نے کہا لیز معاہدوں میں زمین کے کھاتوں اورموضع کاذکرنہیں ہے ،کرا س چیک کی ادائیگیوں پرآبزرویشن دی توجہانگیر ترین کیلئے مسائل ہوں گے۔جہانگیر ترین کے وکیل نے موقف اختیا کیا کل ایگری کلچرل ٹیکس ایشوز پرجہانگیرترین کوآرٹیکل 62ون ایف پر نا ا ہل نہیں کیاجاسکتا،پنجاب میں زرعی آمدن کی اسیسمنٹ کاکوئی طریقہ کارنہیں ،سسٹم میں غلطی کاقصوروار جہانگیرترین کونہیں ٹھہرایاجاسکتا ،اس پر چیف جسٹس نے کہا قانون کے تحت زرعی آمدن والے کوٹیکس دیناہے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کر دی۔

نااہلی کیس /ریکارڈ طلب

مزید :

کراچی صفحہ اول -