تھانوں پر قومی پرچم لہرانے کی شرط حکمرانوں، پولیس افسران کی عدم دلچسپی کا شکار

تھانوں پر قومی پرچم لہرانے کی شرط حکمرانوں، پولیس افسران کی عدم دلچسپی کا ...

  

ملتان(احمد رضا سیال)قانون کے رکھوالوں نے ہی حکومت پاکستان کے بنائے ہوئے پولیس قوانین کی دھجیاں اڑادیں۔پولیس قانون کے مطابق ملتان سمیت ملک بھر کے تھانوں میں قومی اور پولیس پرچم لگانے کی شرط تو عائد ہے ۔مگر تاحال برسراقتدار حکمران اور صوبائی سطح کے پولیس افسران نے بھی پرچم کی خریداری کی طرف کوئی تاحال خاص توجہ دی ہے ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے حکومت پولیس (بقیہ نمبر40صفحہ12پر )

کو ملازمین کی فلاح وبہبود ودیگر انتظامی امور کو نبھانے کیلئے کروڑوں روپے ہرسال دیتی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ ضلع ملتان کے بیشتر تھانوں میں پولیس اور قومی پرچم کو طلوع آفتاب کے بعد متعلقہ تھانے کی بلڈنگ وداخلی راستے پر لہرایا جاتا ہے ۔ جو غروب آفتاب کے بعد اتار لیا جاتا ہے ۔ضلعی پولیس افسران کئی سالوں سے پولیس وقومی پرچم کی خریداری کیلئے تھانوں کی سطح پر تاحال کوئی فنڈز نہ دیا ہے ۔جسکی وجہ سے تھانوں کے ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس ملازمین اپنی جیبوں سے ان پرچموں کی خریداری کررہے ہیں۔یا پھر سائلین سے اس مد میں رقم وصول کرکے پاکستان حکومت کے بنائے ہوئے پولیس قانون کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دونوں پرچموں کی خریداری پر صرف800سے لیکر950تک کے اخراجات آتے ہیں۔چند ماہ قبل سابق سابق سی پی او نے اپنی تعیناتی کے دوران ملتان بھر میں قائم تھانوں میں ایس ایچ اوز کے کمروں کیلئے سرکاری سطح پر فرنیچر اور دونوں پرچموں کو مہیا کیا۔اس کے بعد آج تک کبھی بھی سرکاری سطح پر دونوں پرچموں کو تھانوں میں فراہم نہ کیا گیا ہے ۔پولیس ملازمین نے آرپی او ملتان محمد ادریس اور سی پی او ملتان چوہدری محمد سلیم سے مذکورہ صورتحال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور سرکاری سطح پر پولیس اور قومی پرچم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -