سرکاری مشینری میں قانونی نظام اور اس کے متعلقہ اداروں کا بنیادی کردار ہے : مظفر سید ایڈووکیٹ

سرکاری مشینری میں قانونی نظام اور اس کے متعلقہ اداروں کا بنیادی کردار ہے : ...

  

پشاور( نیوز رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر مہر تاج روغانی کی صدارت میں شروع ہوا وقفہ سوالات میں ارکان اسمبلی ثوبیہ خان، ملک نور سلیم خان ، آمنہ سردارک اور فخر اعظم وزیر نے محکمہ صنعت وحرفت محکمہ محنت وافرادی قوت اور محکمہ صنعتی وفنی تعلیم کی کارکردگی سے متعلق سوالات کئے صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور امتیاز شاہد قریشی نے جوابات دیئے اپوزیشن رکن انیسہ زیب طاہر خیلی نے بھی بعض سوالوں کے جوابات میں ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر مہر تاج روغانی کی ہدای پر وضاحتیں دیں کیونکہ دو ماہ قبل تک وہ حکومتی حلیف ہونے کے باعث لیبر وافرادی قوت کی وزیر رہی تھیں ارکان اسمبلی ملک نور سلیم ،آمنہ سردار ،ثوبیہ خان کے سوالات ڈپٹی سپیکر نے ایوان کے مشورے سے کمیٹی کے سپرد کردیئے صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے ایوان کو بتایا کہ مذکورہ افسر کیخلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ہے انہوں نے کہا کہ جب آصف علی زرداری پاکستان کے صدر بنے تھے تو اس وقت بھی ان کے خلاف نیف کے کیسز تھے اس لئے یہ ایسی کوئی بات نہیں پھر بھی انہوں نے کہا کہ ہم اسے ہٹانا چاہتے ہیں اور نئے سی ای او کی بھرتی کیلئے اخبار میں اشتہار دیا گیا ہے پی پی پی کے رکن صاحبزادہ ثناء اللہ نے صوبائی اسمبلی کے اپنے حلقہ نیابت پی کے 93 میں ترقیاتی سکیموں پر کام بند ہونے کا معاملہ توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے ایوان میں اٹھایا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس کیخلاف عوام سڑکوں پر آنے کیلئے تیار ہیں اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوگا ،صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے ایوان کو بنایا کہ گذشتہ روز ارکان اسمبلی نے گیس رائیلٹی کے حوالے سے جو بات ایوان میں گذشتہ روز اٹھائی تھی وہ درست ہے انہوں نے کہا کہ سپیکر نے اس حوالے سے رولنگ دی ہے جس پر عمل کیا جائے گا انہوں نے محکمہ کو ہدایت کی کہ اس سلسلے میں متعلقہ اضلاع کو دس دن کے اندر فنڈزکا اجراء یقینی بنائیں ،انہوں نے صاحبزادہ ثناء اللہ کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں کہا کہ مذکورہ رکن محکمہ کے ایکسین ای این کے توسط سے تفصیلات طریقہ کار کے مطابق بھجوا دیں ان منصوبوں کو فنڈز جاری کردیئے گئے انہوں نے کہا کہ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجراء کی سفارش کرتی ہے جماعت اسلامی کے اعزاز الملک افکاری نے بھی توجہ دلاؤ نوٹس کی تائید کی اور کہا کہ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین نے بھی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اپوزیشن تو کیا بہت سے حکومتی ارکان کے ساتھ فنڈز کے حوالے سے ناانصافی ہورہی ہے اور صرف مخصوص وزراء اور وزیر اعلیٰ کے حلقے میں خرچ کئے جارہے ہیں صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے کہا کہ بعض حلقوں میں فنڈز زیادہ خرچ ہوئے ہوں گے مگر ایسا ہر دور میں ہوتا رہا ہے ہم نے کوشش کی ہے کہ فنڈز کی تقسیم انصاف کی بنیاد پر ہوا اور اس کا ثبوت یہی ہے کہ حکومتی ارکان کو بھی زیادہ فنڈز نہیں دیئے گئے صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان نے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی اور ان کی حکومت کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا اے این پی کے سردار حسین بابک نے چیلنج کہا کہ ایوان کی کمیٹی بنائی جائے جو سابقہ دور کا جائزہ لے کہ پورے صوبے کے حلقوں کو فنڈز کی ریلیز کتنی ہوئی پی پی پی کے فخر اعظم وزیر نے پرائیویٹ اور فارن سے ایم بی بی ایس کرنے والے طالب علموں کو پیڈ ہاؤس جاب نے ملنے کا معاملہ توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے ایوان میں اٹھایا اور کہا کہ پی ایم ڈی سی رولز کے تحت انہیں یہ سہولت ملنا چاہئے صوبائی وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم عاطف خان نے خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2017ء ایوان میں پیش کیا وزیر اعلیٰ کی جانب سے وزیر قانون نے خیبر پختونخوا کے امور سے متعلق پالیسی کے اصولوں کے مشاورت اور ان پر عمل در آمد کے بارے میں رپورٹ برائے سال 2015ء ایوان میں پیش کی ،ڈپٹی سپیکر نے ایوان کے مشورے سے رولز معطل کرکے رکن اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی کو قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی جس پر تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں کے دستخط تھے قرار داد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سوات یونیورسٹی کیلئے فوری طور پر وائس چانسلر کی تقرری کی جائے ایوان نے اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری دے دی قربان علی خان نے ذاتی وضاحت کے نکتے پر ایوان کو بتایا کہ ان کے حلقے میں انہیں فنڈز نہیں ملے جس کیخلاف انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے انہوں نے حکم امتناعی لے لیا ہے اور اس کیخلاف وزری ہورہی ہے وزیر قانون نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا احترام کیا جائے گا ،ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے اجلاس جمعہ کی سہ پہر تین بجے تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ صوبے کی سرکاری مشینری میں قانونی نظام اوراسکے متعلقہ اداروں کا بنیادی کردار ہے اورتمام ادارے اپنی اصلی روح کے مطابق تب ترقی حاصل کرسکیں گے جب سرکاری قانونی شعبہ زیادہ مضبوط اورفعال ہو۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عبدالطیف یوسفزئی سے بات چیت کے دوران کیا جنہوں نے صوبائی وزیر سے سول سیکرٹریٹ میں ملاقات کی ۔اس موقع پر سیکرٹری فنانس شکیل قادر خان بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوانے صوبائی وزیر سے باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل آفس کے ملازمین کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے جوڈیشل الاؤنس کے اجراء کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے مذکورہ اقدام کے ذریعے جوڈیشل سسٹم سے منسلک سرکاری ملازمین کادیرینہ مطالبہ پورا کرلیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سرکاری مقدمات کی پیروی کرنے کے لئے ایڈوکیٹ جنرل آفس زیادہ مستعدی اورفعالیت کے ساتھ کام کررہا ہے اورگزشتہ دوسالوں سے سرکاری مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں ایڈوکیٹ جنرل آفس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ جوڈیشل الاؤنس کی فراہمی اصولی طورپر ایک صحیح فیصلہ ہے جس کے ذریعے جوڈیشل نظام سے منسلک ملازمین کو ان کاحق دیاگیاہے اور اس کا کریڈٹ موجودہ صوبائی حکومت کوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تیز تر ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اپنا سفر تب صحیح انداز میں جاری رکھ سکے گی جب اس کا قانونی نظام فعال اورعملہ متحرک ہو اورسرکاری مقدمات کی بہتر انداز میں پیروی ہو ۔انہوں نے ایڈوکیٹ جنرل آفس کو اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کی ہدایت کی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -