فنڈز کی عدم فراہمی ، خورد برد، جنوبی پنجاب کے تاریخی مقامات خستہ حالی کا شکار

فنڈز کی عدم فراہمی ، خورد برد، جنوبی پنجاب کے تاریخی مقامات خستہ حالی کا شکار

  

ملتان ( را نا عرفان الاسلام سے )فنڈز کی عد م فراہمی جنوبی پنجاب کے تاریخی مقامات خستہ حالی کا شکار کئی کئی سال گزرنے کے باوجو مرمت یا دو بارہ تعمیر کے کاکام کا آغاز نہ ہو سکا محکمہ اوقاف اور آثار قدیمہ کی جانب سے با ر بار اعلی حکام کو مراسلہ جاری کرنے اور پی سی ون بناکر بھجوانے کے باوجود فنڈز جاری نہ کئے گئے سابقہ ادوار میں تاریخی مقامات کی مرمت کے لئے شروع ہونے والے کام مزید فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث مکمل نہ ہو سکے جس (بقیہ نمبر48صفحہ7پر )

کی وجہ سے وہ مقامات اپنی اصل شناخت کھو بیٹھے ہیں تفصیل کے مطابق ملتان کا شمار دنیا کے ا ن چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جو سینکڑوں سال گذر نے کے باوجود آج بھی اسی جگہ قائم و دائم ہے جہاں سینکڑوں سال قبل اس کی بنیاد رکھی گئی تھی اسی وجہ سے یہاں بے شمار تاریخی عمارتیں موجودہیں جن میں اولیاء کرام کے آستانے شامل ہیں ان تاریخ عمارتوں کو بنے کئی کئی سو سال ہونے کی وجہ سے یہ عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہو ئی ہیں جن کی مرمت یا دوبارہ تعمیر کے لئے کئی بار فنڈز جاری کرنے کے احکامات جاری کئے گئے لیکن ان تاریخی عمارتوں کی مرمت کا کام شروع نہ ہو سکا ہے دربار حضرت بی بی پاک دامنہ کا مزار جو کہ تقریباً 800سال قدیمی ہے بی بی پاک دامنہ کے بر آمدے کی چھت گذشتہ کئی سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ دربار بی بی پاک دامنہ کی انتظامیہ نے لکڑے کے موٹے موٹے ڈنڈوں کے سہارے چھت کو عارضی طور پر سپورٹ دی ہوئی ہے جبکہ ٹوٹی ہوئی چھت کے چاروں طرف پر رسیاں باندھ کر کسی کو بھی اس طرف جانے سے روکا گیا ہے تاکہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ دو سال قبل محکمہ اوقاف نے دربار کی چھتوں کی مرمت کے لئے تیس لاکھ روپے کے فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال فنڈ جاری نہ ہو سکے ہیں مخدوم رشید میں واقع مخدوم عبد الرشید حقانی کے دربار کی چھتیں بر آمدہ اور چار دیواری عرصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، جلا ل پور پیر والاموجود حضرت پیر قتال کا دربار گذشتہ دس سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہے محکمہ اوقاف سرکل نمبر تین کے سابق منیجر نیاز بلوچ نے کئی بار اوقاف حکام کو دربار کی مرمت کے حوالے خطوط ارسال کئے لیکن دربار کی مرمت کے کام کا آغاز نہ ہو سکا ،کوٹ مٹھن میں موجود ربار حضرت خواجہ غلام فرید کے مزار کے احاطے میں گذشتہ کئی سالوں سے بڑے بڑ ے شگاف پڑے ہوئے ہیں جس کی مرمت کے لئے تاحال فنڈز جاری نہ ہوسکے ہیں اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں موجود دربار حضرت پیر عادل شاہ ، دربار حضرت سخی سرورشریف، ملتان میں ساوی مسجد کی مرمت کے لئے سابق ادوار میں فنڈز جاری کئے گئے تھے لیکن بعد میں فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث مرمت کا کام ادھورہ رہ گیا جو کہ مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے دربار حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی ، دربار حضرت شا ہ شمس تبریز ، اوچ شریف میں موجود حضرت جلال الدین کے دربار ، نواں شہر میں موجود مقبرہ خالد بن ولید ، سمیت دیگر تاریخی عمارتیں خسہ حالی کا شکار ہے جو کسی بھی وقت بڑے حادثہ کا باعث بن سکتا ہے واضع رہے کہ مادس سال قبل یو ایس ایڈ کی جانب سے ملتان میں موجود دربار حضرت شاہ شمس تبریز کی تزئین و آرائش اور مرمت کے لئے 60ہزار ڈالر جبکہ اوچ شریف میں موجود ربار حضرت جلاالدین کی تزئین و آرائش اور مرمت کے لئے 50ہزار ڈالر کے فنڈز جاری کئے گئے تھے لیکن مختلف محکموں کی ملی بھگت سے درباروں پر ایسی تزئین و آرائش کی گئی جو چند سالوں میں ہی دوبارہ سے خراب ہوگئی جس کے بعد ان کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔

تاریخی مقامات خستہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -