شبقدربازار کے تاجر و ں سے ناقابل برداشت ٹیکس کی وصولی عروج پر

شبقدربازار کے تاجر و ں سے ناقابل برداشت ٹیکس کی وصولی عروج پر

  

شبقدر(نمائندہ خصوصی ) شبقدر بازار اور بس سٹینڈز میں غیر قانونی اور ظالمانہ ٹیکس وصول کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا کرایوں میں اور گاڑیوں سے ٹیکس وصولی میں خود ساختہ اضافہ شبقدر چوک میں لوڈ گاڑیوں سے غیرقانونی طور پر ٹیکس وصولی جاری مقامی ٹی ایم اے انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی مکمل خاموشی صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے چیرمین عمران خان فوری طور پر نوٹس لیں اگر شبقدر میں اس ٹیکس مافیہ کے خلاف قانونی کاروائی نہ ہوئی تو شبقدر کے عوام احتجاجی تحریک شروع کریں گے جو کہ شبقدر سے شروع ہو کر وزیر اعلی ہاوس تک جائے گی ۔ ملک عدنان خان ۔ تفصیلات کے مطابق تحریک تحفظ پاکستان کے صوبائی صدر ملک عدنان خان نے شبقدر میڈیا سنٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شبقدر بازار اور جنرل بس سٹینڈز میں غیر قانونی اور ظالمانہ ٹیکسوں کی وصولی کا دھندہ عروج پر پہنچ چکا ہے اور ایک مافیہ کو کہ کئی سالوں سے مقامی ٹی ایم اے انتظامیہ کی ملی بھگت سے غیر قانونی اور ظالمانہ ٹیکس وصول کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ان ٹیکسوں کے باعث مسافروں کے کرایوں میں بھی خود ساختہ طور پر اضافہ ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ شیڈول کے مطابق پنڈی کی گاڑیوں کا فی ٹرپ ٹیکس 160 روپے ہے جبکہ ان سے 500 روپے تک وصول کیا جاتا ہے اور اسی طرح پشاور شبقدر گاڑیوں کا شیڈول کے مطابق ٹیکس 30 روپے ہے جبکہ گاڑیوں سے 60 روپے لیا جاتا ہے اور سرکاری کرایہ 26 روپے ہیں جبکہ سواریوں سے 40 روپے کرایہ لیا جاتا ہے اسی طرح شبقدر گندھاب گاڑیوں کا فی ٹرپ ٹیکس 40 روپے ہے جبکہ ان سے 80 روپے ٹیکس لیا جاتا ہے جبکہ سرکاری کرایہ 30 روپے ہے اور مسافروں سے 60 روپے لیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ شبقدر میں ان ظالمانہ اور غیر قانونی ٹیکس وصولی کا تما م اثر غریب عوام پر پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ شبقدر چوک میں لوڈ گاڑیوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے جبکہ ان سے غیر قانونی طور پر ٹیکس وصولی کا دھندہ عروج پر پہنچ چکا ہے اور متعلقہ اداریں اور مقامی انتظامیہ مکمل طور پرخاموش ہے انہوں نے صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے چیرمین عمران خان سے ان کے خلاف فوری طور پر قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ان کے خلاف کاروائی نہ ہوئی تو شبقدر کے ہزاروں عوام ان کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کریں گے جو شبقدر بازار سے شروع ہو کر پشاور پریس کلب اور وزیر اعلی ہاوس کے سامنے تک جائے گی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -