آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان ...قسط نمبر 8

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان ...قسط نمبر 8
آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان ...قسط نمبر 8

  

اس کا سانس زور زور سے چل رہا تھا۔ سوکھی ہوئی برہنہ ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں اور چہرہ فرط دہشت سے سفید پڑ چکا تھا۔ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر آواز نہ نکلی۔ یکا یک وہ زمین پر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ میں نے اسے ہوش میں لانے کی کوئی تدبیر نہ کی اور گھسیٹ کر ایک محفوظ جگہ پر ڈال دیا۔ ایسے شخص کو اب کسی ریچھ یا چیتے کے ہاتھوں مر ہی جانا چاہیے۔ میں نے نفرت سے زمین پر تھوکا۔ بندوق اٹھائی اور ندی کی طرف روانہ ہو گیا۔

راستے میں پنجوں کے نشان اور خون کے دھبے نظر آئے۔میں نے خون کا معائنہ کیا،بلاشبہ یہ شیر کے جسم سے گرا تھا۔ میں سخت حیران تھا کہ شیر آخر کس حادثے میں زخمی ہوا۔ آدھ گھنٹے کی کوشش کے بعد اس کی لاش دکھائی دی۔ شیر کی کھوپڑی مزل لوڈنگ بندوق کی گولی سے چور چور ہو چکی تھی اور بارود کی ہلکی سی تہہ اس وقت بھی اس کی گردن اور کھوپڑی پر جمی ہوئی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ بندوق شیر کے بالکل قریب کھڑے ہو کر چلائی گئی ہے اور فائر ہونے سے کچھ دیر پیشتر وہ مر چکا تھا۔

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان ...قسط نمبر 7  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجھے بیرا کی خوش قسمتی پر حیرت ہوئی ا ور اس کی چالاکی محسوس کرکے غصہ بھی آیا۔میں نے شیر کے زخموں کا معائنہ کیا تو پتا چلا کہ وہ کسی ا ور درندے سے لڑتا ہوا زخمی ہوا۔ یکایک میں نے دیکھا کہ شیر کی کھال پر سیاہ رنگ کے لمبے بال چمٹے ہوئے ہیں۔شام کے پھیلتے ہوئے اندھیرے کے باعث یہ بال مجھے پہلے نظر نہیں آئے۔ٹارچ کی روشنی میں غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ریچھ کے بال ہیں۔ریچھ کا خیال آتے ہی میرے جسم میں جھر جھری سی دوڑ گئی۔شیر نہایت طاقتور اور نوساڑھے نو فٹ لمبا تھا لیکن ریچھ نے اس زخمی اور بے بس کر کے مارا تھا۔ یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے میرے لیے فیصلہ کرنا مشکل نہ تھا کہ ریچھ کس قدر قوی ہیکل اور خونخوار ہو گا۔ مجھے یاد آیا کہ ندی کے پار بنے ہوئے ٹیلوں اور غاروں میں ریچھ رہتے ہیں۔ممکن ہے رہائش کے مسئلے پر شیر اور ریچھ کی ٹھن گئی ہو۔

اس موقع پر ریچھ کے بارے میں کچھ کہنا لا حاصل ہو گا۔ اس جانور کی انسان سے حد سے بڑھی ہوئی کینہ پروری اور دشمنی سب پر عیاں ہے۔اس کی فطرت ہے کہ اپنے حریف کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک اسے ہلاک نہ کر دے یا خود ختم نہ ہو جائے۔ جنگل کے جس حصے میں رہنا شروع کر دے، وہاں اپنے سوا دوسرے جانوروں کا آنا یا رہنا پسند نہیں کرتا۔حریف اگر کمزور ہے تو وہ بھاگ جائے گا ورنہ مارا جائے گا۔قوی ہے کہ دو دو ہاتھ کرکے فیصلہ ہو گا کہ اس مقام پر وہ رہے گا یا ریچھ۔

یہی باتیں سوچتا ہوا میں واپس چلا۔ سورج غروب ہوئے تھوڑی دیرہی ہوئی تھی لیکن جنگل میں ایسا اندھیرا تھا جیسے تاریک رات۔۔۔ٹارچ کی روشنی میں راستہ تلاش کرتا ہوا ایک کھلی جگہ نکل آیا اور وہاں رک کر سوچنے لگا کہ میں نے بیرا کو گھسیٹ کر کس طرف ڈالا تھا۔ جھاڑیاں ایک جیسی تھیں اور ہزارہا درخت ایک دوسرے سے اتنی مشابہت رکھتے تھے کہ میں بہت جلد چکرا گیا۔ ممکن ہے بیرا ہوش میں آکر کسی درخت پر چڑھ گیا ہو۔ یہ خیال آتے ہی میں نے اسے آوازیں دینا شروع کیں۔چیخ چیخ کر تھک گیا مگر کوئی جواب نہ آیا۔

کچھ ایسا محسوس ہوا کہ میں بھٹک کر کسی اور طرف جا نکلا ہوں۔جنگل پر ہیبت ناک سناٹا طاری تھا۔ جیسے یہاں کوئی جانور یا کوئی پرندہ موجود نہیں۔جنگل میں پھیلا ہوا یہ اعصاب شکن سناٹا ایک تجربہ کار شکاری کے لیے کوئی خوشگوار بات نہیں ہوتی۔ اس سناٹے کے ساتھ ساتھ کوئی نامعلوم خطرہ ہمیشہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔چپکے چپکے دبے پاؤں تعاقب کرنے والا چیتا، کوئی آدم خور شیر یا مکار ریچھ، جنگل میں بسنے والے یہ جانور اپنی حد سے بڑھی ہوئی قوت شامہ، بصارت اور سماعت کے باعث بھولے بھٹکے شکاری کویوں آدبوچتے ہیں جس طرح باز کبوتر کو آناً فاناً پکڑ کر آسمان کی پہنائیوں میں گم ہو جاتا ہے۔

مجھے اس وقت اپنے سے زیادہ بیرا کی فکر تھی۔ یہ شخص ہر چند نفرت اور حقارت کا مستحق تھا اور اس کی مذموم حرکتیں دیکھتے ہوئے جتنی بھی سزا دی جاتی کم تھی لیکن میرا دل نہ چاہتا تھا کہ اسے یوں موت کے منہ میں چھوڑ کر چلاجاؤں،اس لیے کہ وہ بالکل نہتا اور کمزور آدمی تھا۔ کم از کم بندوق ہی اس کے پاس ہونی چاہیے تھے۔وہ بڑی آسانی سے چیتے یا ریچھ کے قابو میں آسکتا ہے۔ان تمام خدشات کے باوجود یہ بھی جانتا تھا کہ بیرا جتنا بزدل اور ڈرپوک ہے اتنا ہی عیار اور دوراندیش بھی ہے۔ممکن ہے،اس نے مجھ سے پیچھا چھڑانے کے لیے بے ہوش ہو جانے کی ایکٹنگ کی ہو اور اب کسی محفوظ جگہ پر بیٹھا نئے نئے منصوبے باندھ رہا ہو۔

ایک جھاڑی کے قریب سے گزرتے ہوئے یکایک میرے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کوئی شخص گھٹی گھٹی آواز سے رو رہا ہے۔میں وہیں ٹھٹک گیا اور کان لگا کر سننے لگا۔یقیناً کسی کے رونے اور سسکیاں لینے کی آواز تھی۔

’’کون ہے؟‘‘میں نے بلند آواز سے کہا لیکن دل میں خوفزدہ بھی تھا کہ کوئی دھوکا نہ ہو۔ میں نے سن رکھا تھا کہ جنگلوں میں اکا دکا شکاریوں کو لوٹ لینے اور انہیں ہلاک کرنے کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔مکن ہے یہ بھی ایسا ہی معاملہ ہو۔ اس قسم کے قاتلوں اور ٹھگوں کو پکڑنا پولیس کے بس کی بات ہے نہ فوج کے۔میں نے بیرا کی بندوق زمین پر رکھی اور اپنی رائفل کندھے سے اتار کر ہاتھ میں لے لی اور آواز کی طرف دبے پاؤں بڑھا۔

’’یہ کون رو رہا ہے،کیا تکلیف ہے؟‘‘میں نے ایک بار پھر آواز دی اور ٹارچ روشن کر دی۔

’’سرکار، میں ہوں۔‘‘بیرا پجاری کا ستا ہوا دہشت زدہ چہرہ میرے سامنے تھا۔وہ جھاڑی کے اندر سہمے ہوئے خرگوش کی مانند دبکا بیٹھا تھا۔

’’باہر نکلو بدمعاش۔‘‘میں نے ڈپٹ کر کہا:’’اٹھاؤ اپنی بندوق،اتنی دیر سے تمہیں ڈھونڈرہا ہوں۔یہاں چھپنے کی کیا تک تھی؟‘‘

’’سرکار مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔‘‘اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:’’اگر میں کچھ دیر اور پڑا رہتا تو ریچھ مجھے مار ڈالتا۔‘‘

’’ریچھ؟‘‘میں چلایا:’’کہاں ہے؟‘‘

’’سرکار وہ میرے قریب سے گزر گیا اور میں دم سادھے پڑا رہا۔اس نے مجھے نہیں دیکھا۔ اتنا بڑا ریچھ میں نے اس جنگل میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ پہاڑ کا پہاڑ تھا۔ سیاہ رنگ کا اس کے پنجے اور تھوتھنی خون میں لٹ پت تھی۔ آئیے آپ آپ کو اس کا نشان دکھاؤں۔‘‘

بیرا نے اپنی بندوق اٹھائی اور چل پڑا۔ میں ٹارچ روشن کیے اس کے پیچھے پیچھے تھا۔(جاری ہے)

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان ...قسط نمبر 9 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

آدم خور -