”اس عمر کی بیوی کے ساتھ بھی ازدواجی تعلقات کو ریپ تصور کیا جائے گا۔۔۔“ بھارتی سپریم کورٹ نے حیران کن حکم جاری کردیا

”اس عمر کی بیوی کے ساتھ بھی ازدواجی تعلقات کو ریپ تصور کیا جائے گا۔۔۔“ ...
”اس عمر کی بیوی کے ساتھ بھی ازدواجی تعلقات کو ریپ تصور کیا جائے گا۔۔۔“ بھارتی سپریم کورٹ نے حیران کن حکم جاری کردیا

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت کی عدالت عظمیٰ نے نابالغ بیوی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں ایک غیر معمولی فیصلہ سناتے ہوئے 18سال سے کم عمر بیوی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کو عصمت دری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی 18سال سے کم عمر بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے تو اسے سنگین جرم (ریپ ) سمجھا جائے گا اور اس کی بھی وہی سزا ہو گی جو بھارت میں ریپ کرنے کی سزا مقرر ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے ”ٹائمز آف انڈیا “کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل 2رکنی بنچ نے غیر سرکاری تنظیم ’’انڈپینڈنٹ تھاٹ‘‘ کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ 18سال سے کم عمر بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات کو ریپ تصور کیا جائے گا ،اس حوالے سے  نابالغ بیوی ایک سال کے دوران اس کے خلاف شکایت بھی درج کرا سکتی ہے۔

ریپ سے متعلق تعزیرات ہند کی دفعہ 375 میں ایک استثنیٰ تھا جس کے مطابق میریٹل ریپ کو جرم نہیں کہا گیا تھا لیکن بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب 18 سال سے کم عمر کے معاملے میں یہ استثنیٰ نہیں رہا،یعنی اگر شوہر اپنی نابالغ بیوی کی مرضی کے بغیر اس سے جسمانی تعلق قائم کرتا ہے تو یہ جرم ہے۔واضح رہے کہ انڈیا میں بالغ قرار دیے جانے کی عمر 18 سال رکھی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس میں کمی نہیں کی جا سکتی۔سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اگر شادی کے ایک سال کے اندر جب کوئی نابالغ بیوی شوہر کی جانب سے زبردستی جسمانی تعلقات قائم کرنے  کی شکایت کرتی ہے تو پولیس فوری قانونی کارروائی کرنے کی مجاز ہو گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بچپن کی شادی، شادی نہیں بلکہ ایک مرض ہے، بھارت میں بچپن کی شادیوں کو قانونا جرم سمجھا جاتا ہے پھر بھی لوگ نو عمر لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔واضح رہے کہ  چند دن قبل ہی نریندر مودی کی مرکزی حکومت نے ایک دوسرے معاملے میں کہا تھا کہ اسے جرم کے زمرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے جبکہ دہلی ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ اسے جرم میں شمار کرنے سے شادی کا نظام غیر مستحکم ہو جائے گا اور یہ شوہروں کو پریشان کرنے کا ایک نیا حربہ بن جائے گا۔دوسری طرف بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کی مطابق اس وقت ہندوستان میں نابالغ بیویوں کی تعداد 2 کروڑ ہے۔

مزید خبریں :سکول یہ کے بچے دھاڑیں مار مار کر کیوں رو رہے ہیں؟ وجہ ایسی شاندار کہ جان کر آپ کی آنکھیں بھی فرط جذبات سے نم ہو جائیں گی

مزید :

بین الاقوامی -