ایک جج کا نام پاناما پیپرز میں بھی شامل ، سپریم جوڈیشل کونسل میں اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس سمیت چار جج صاحبان کیخلاف مقدمات زیرسماعت

ایک جج کا نام پاناما پیپرز میں بھی شامل ، سپریم جوڈیشل کونسل میں اسلام ...
ایک جج کا نام پاناما پیپرز میں بھی شامل ، سپریم جوڈیشل کونسل میں اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس سمیت چار جج صاحبان کیخلاف مقدمات زیرسماعت

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مقامی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج صاحب کا نام پاناما پیپرز میں بھی شامل ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سمیت اسلام آباد اور لاہورہائیکورٹ کے چار جج صاحبان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز زیرسماعت ہیں ۔ 

روزنامہ جنگ کے مطابق جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نمائندہ عبدالقیوم صدیقی نے بتایاکہ ’’ سپریم جیوڈیشل کونسل میں اسلام آباد اور لاہورہائیکورٹ کے دو ، دو ججوں کیخلاف کارروائی چل رہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو ججوں میں سے ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں، ان کے خلاف کارروائی چھ ماہ پہلے ہوئی تھی، اس کے بعد ان کے حوالے سے سپریم جیوڈیشل کونسل میں کوئی کارروائی نہیں ہورہی، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف کارروائی ہورہی ہے جن کی اپنا ٹرائل اوپن کرنے کی درخواست سپریم جیوڈیشل کونسل نے مسترد کردی تھی، اس کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے 184/3 کے نیچے ایک آئینی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے جس میں یہی تقاضا کیا گیا ہے اور سپریم جیوڈیشل کونسل کے اس آرڈر کے برخلاف کہ ان کا ٹرائل اوپن کورٹ کے اندر کیا جائے، منگل کو بھی جو کارروائی ہوئی اس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکلاءکی طرف سے یہی موقف اختیار کیا گیا جس کے بعد کارروائی نومبر تک ملتوی کردی گئی  اور یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی آئینی درخواست شاید اگلے ہفتے سماعت کیلئے مقرر کردی جائے‘‘۔

’’سپریم کورٹ کے سابق جسٹس رانا بھگوان داس ہندو تھے، تعیناتی کیلئے رپورٹ لی گئی تو بتایا گیا کہ عبادت کیلئے بھارت جاتے ہیں لیکن پھر بھی انکوائری کی گئی تو پتہ چلا کہ ۔ ۔ ۔ ‘‘جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد نے راز بے نقاب کردیا

رپورٹ کے مطابق ’’ سپریم جیوڈیشل کونسل میں لاہورہائیکورٹ کے جج صاحبان کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں فرخ عرفان جن کا پاناما پیپرز میں نام آیا تھا ،انہوں نے سپریم جیوڈیشل کونسل پر اعتراض داخل کیا  کہ چونکہ اسلام آباد کے چیف جسٹس کے خلاف بھی سپریم جیوڈیشل کونسل میں ریفرنس ہے، اس لئے وہ اس کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے، اس پر گزشتہ روز کافی سخت آرگومنٹس ہوئے،پھر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے اور کارروائی پندرہ یا سترہ اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ، جہاں تک جسٹس مظاہر علی نقوی ، جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی رپورٹ اوپن کرنے کاحکم دیا تھا، ان کے خلاف بھی ایک ریفرنس سپریم جیوڈیشل کونسل میں ہے، اس کی بھی سماعت ہوئی  لیکن اس میں ان کے وکیل خواجہ حارث پیش نہیں ہوسکے تاہم اس میں یہ پیشرفت ہوئی کہ ایک وکیل صاحب جو گواہ تھے انہوں نے اپنی گواہی ریکارڈ نہیں کروائی لیکن ان کی طرف سے داخل کی گئی دستاویزات کو بطور شہادت قبول کرلیا گیا ‘‘۔

یہ بھی پڑھیں۔ ۔ ۔” رات کو ہم لڑکیاں چھیڑنے آئے تھے لیکن پھر ۔۔۔“ کراچی سے ایسی ویڈیو منظر عام پر آگئی کہ سب ’ بے شرموں‘ کو نصیحت ہو جائے گی

مزید :

اسلام آباد -