فاٹا کے کے پی میں انضمام پر کوئی جھگڑا نہیں،قبائل کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کیلئے ان سے پوچھا جائے،مولانا فضل الرحمان

فاٹا کے کے پی میں انضمام پر کوئی جھگڑا نہیں،قبائل کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے ...
فاٹا کے کے پی میں انضمام پر کوئی جھگڑا نہیں،قبائل کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کیلئے ان سے پوچھا جائے،مولانا فضل الرحمان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علماءپاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پشاور،مردان سے ورکرزکو لاکرکہناکہ فاٹا کے قبائل نے دھرنا دیا،یہ غلط ہے،ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ا س مسئلے پر بحث کرائی جائے،قبائل کے فائدے اور ان کی مرضی کے مطابق فیصلے کئے جائیں اور اس اہم مسئلے پر5دن بحث کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی،قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے تحت90 ارب روپے فاٹا میں خرچ کئے جانے ہیں،ہمارافاٹا پر2012 سے موقف ہے کہ فاٹا کو صوبے میں ضم کیا جائے، آئین کی 4 شقیں ہیں جو قبائل سے متعلق ہیں،سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ترکی میں آئین میں تبدیلی کیلئے ریفرنڈم کرایا گیا، ہمیں قبائل سے پوچھناچاہئے کہ وہ کیاکہتے ہیں، جھگڑا انضمام کا نہیں ہے،قبائل کے اسٹیٹس کوتبدیل کرنے کےلئے ان سے پوچھا جائے،ان کا کہنا تھا کہ فاٹا میں لینڈ ریکارڈ نہیں ہے،رواج ایکٹ پارلیمنٹ سے پاس ہوا،کمیٹی کو بھیج دیاگیا،آج بھی کمیٹی میں ہے، آج اپوزیشن بھی کہہ رہی ہے کہ رواج ایکٹ کا فیصلہ غلط ہوا ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انتخابی قانون کی منظوری کے وقت اس ایوان سے اجتماعی گناہ ہوا،حلف نامے میں تبدیلی پرتحقیقات ہونی چاہیئں،ان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت کاقانون اقلیتوں کےخلاف استعمال ہورہاہے،40مقدمات مسیحیوں اور دیگرمسلموں کیخلاف درج ہوئے،500سے زائدمقدمات مسلمانوں کیخلاف درج ہوئے ہیں، زنابالجبرکےخلاف قانون بن گیالیکن زنابالرضاپرکوئی قانون نہیں،سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ایک ہنگامہ برپاتھاکہ قانون منظور کرایا جائے،وقت ثابت کرے گا کہ پی ٹی آئی کا کیا کردار تھا۔ بتائیے کس بنیادپریہ پروپیگنڈاکیاجارہاہے۔

قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ توہین رسالت کے حوالے سے تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی اور اس کی بازگشت آج بھی کہیں نہ کہیں سنائی دیتی ہیں، امریکہ اور مغرب کی اس قانون پر نظریں جمی ہوئی ہیں اور وہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں جن لوگوں نے ان کی سرپرستی چاہی وہ اس میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں، اس ملک میں ناموس رسالت کیلئے بھی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔عمران خا ن اور جہانگیر ترین پرالزامات ثابت نہیں ہو سکتے ،نئے چیئرمین شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز پر جلد سے جلد کام کریں،نعیم الحق

مزید :

قومی -اہم خبریں -