گلشن زہراؓ کے پھول۔۔۔حضرت سیّد زین العابدینؓ

گلشن زہراؓ کے پھول۔۔۔حضرت سیّد زین العابدینؓ
گلشن زہراؓ کے پھول۔۔۔حضرت سیّد زین العابدینؓ

  

بھلا یہ بات کیسے ممکن ہے کہ محرم الحرام میں میدانِ کربلا میں قافلہ ء حسینی پر ڈھائے گئے ظلم وستم کا تذکرہ ‘ توہو‘اُن کے فضائل ومناقب بیان تو ہوں۔۔۔مگر گلشنِ سیدہ فاطمۃالزہراؓ کے پھولوں میں سے ایک انتہائی خوبصورت پھول ‘سیدنا حضرت زین العابدینؓکی عظیم ہستی کی سیرت وکردار بارے’’ذکرخیر‘‘نہ ہو۔یقیناًایسی پاک ہستیوں کا تذکرہ سننا،سنانا اور ان کے بارے میں اپنی قلم کہ جنبش دینا۔۔۔یہ سب ہمارے لیے باعث برکت کی بات ہے۔

آپؓ کا اسم شریف علی بن حسینؓ بن علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپؓ کی کنیت ابو محمد، ابو الحسن اور ابوبکر ہے جب کہ لقب سجاد اور زین العابدین ہے ، آپؓ کی ولادت با سعادت ۳۳ ہجری مدینہ شریف میں ہوئی ، بعض روایات میں آپؓ کا سنِ ولادت ۳۶اور ۳۸ ہجری بھی گردانا جاتا ہے ۔

آپؓ کی والدہ ماجدہ کا اسمِ مبارک حضرت شہر بانو ؓ جو نوشیرواں عادل کی اولاد میں یزدجرد کی صاحبزادی بتائی جاتی ہیں آپؓ بارہ اماموں میں چوتھے امام ہیں ،میدانِ کربلا میں آپؓ حضرت امام حسینؓ کے قافلے میں شامل تھے مگر شدید بیمار ہونے کے باعث یزید کے ساتھ ہونے والی جنگ میں شرکت نہ کرسکے‘ اس لئے اُس وقت شہادت کا رتبہ نہ پاسکے اور آپؓ کی سانسوں کی مالا برقرار رہی۔اور یوں آپ ہی کی وہ ذاتِ مقدس ہے کہ جس سے آلِ نبیؐ اور اولادِ علیؓکی نسلِ پاک کا سلسلہ جاری رہا اور رہے گا۔

آپؓکا اسمِ گرامی ’’ زین العابدینؓ ‘‘ کے معروف ہونے کی وجہ ء تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آپؓ ایک شب نمازِ تہجد میں مشغول تھے کہ شیطان ایک سانپ کی شکل میں نمودار ہوا تاکہ اُس خوف اور ڈراؤنی شکل سے آپؓ کو عبادت الہٰی سے باز رکھ کر عیش و نشاط میں مشغول کر دے، آپؓ نے اُ س کی طرف توجہ نہ کی اور عبادت میں مصروف رہے یہاں تک کہ سانپ نے آپؓ کے پاؤں مبارک کا انگوٹھا اپنے منہ میں ڈال لیا،لیکن آپؓ پھر بھی اُس کی طرف متوجہ نہ ہوئے ، سانپ نے آپؓ کے انگوٹھے کو اس سختی سے کاٹا کہ آپؓ کو شدید درد ہوا ، آپؓ نے پھربھی سانپ کی طرف توجہ نہ کی اور ’’ حقِ بندگی‘‘ ادا کرنے میں ہی مصروف رہے ، اللہ تعالیٰ کی پاک ذات نے آپ پر انکشاف فرما دیا کہ وہ شیطان ہے جو سانپ کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے ، آپ نے اُس کوبری طرح زدو کوب کیا اور پھر فرمایا’’اے ذلیل و خوار اور کمینہ یہاں سے دور ہوجا۔‘‘جب سانپ یہاں سے چلا گیا تو آپؓ کھڑے ہوگئے تاکہ درد میں قدرے آفاقہ ہو جائے ، پھر آپؓ کو غیب سے ایک آواز سنائی دی ، لیکن بولنے والا نظر نہ آیا ،کہنے والے نے یوں کہا ’’آپؓ زین العابدین ہیں ۔۔۔آپؓ زین العابدین ہیں ۔۔۔آپؓ زین العابدین ہیں ۔‘‘ یوں آپؓ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسم شریف سے مشہور ہوئے ۔

جب آپؓ وضو فرماتے تو آپؓ کا چہرہ زرد ہو جاتا اور جسم میں کپکپی طاری ہوجاتی جب آپؓ سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو آپؓ فرمانے لگے کہ ’’ تم جانتے ہو کہ کس کے حضور پیش ہونا ہے۔‘‘

ایک مرتبہ سید زین العابدینؓ اپنے درِدولت پر نماز ادا فرما رہے تھے کہ مکان کو آگ لگ گئی،مگر آپؓ سجدہ میں سر بسجود رہے،لوگوں نے شور مچایا کہ ’’اے رسول اللہ ﷺ کے بیٹے!اے رسول اللہ کے بیٹے!آگ لگ گئی۔۔۔آگ لگ گئی ،پھر بھی آپؓ نے سر مبارک سجدہ سے نہ اُٹھایا۔جب آگ ٹھنڈی ہوگئی تو آپؓ سے دریافت کیا گیا کہ ’’آپؓ اس پر خاموش کیوں رہے؟‘‘حضرت زین العابدینؓ فرمانے لگے کہ’’محشر کی آگ کے خوف سے یہ آگ بھول گیا۔‘‘

آپؓ جب کبھی سودا سلف لینے کی غرض سے بازار تشریف لے جاتے تواپناچہرہء مبارک کپڑے سے ڈھانپ لیتے تھے تاکہ کوئی مجھے ’’آلِ رسولؐ‘‘ سمجھ کر سودا سلف دینے میں کوئی رعایت نہ برتے۔

آپؓ۔۔۔جودو سخا ۔۔۔عبادت و ریاضت۔۔۔علم وعمل۔۔۔صبر وشکر۔۔۔اور ایثار و اخلاص میں یکتا تھے۔آپؓ نے 25پا پیادہ حج مبارک بھی کیے۔

۔۔۔ایک مرتبہ آپؓ کے ایک پڑوسی نے آپؓ سے کہا کہ حضرت! فلاں شخص آپؓ کو برا کہتا ہے۔آپؓ نے فرمایا کہ ’’مجھے اس شخص کے پاس لے چلو ۔‘‘آپؓ پڑوسی کے ساتھ اُس بدگوئی کرنے والے شخص سے ملاقات کی اور فرمایا کہ’’اے شخص!جو کچھ تم کہتے ہو ،اگر وہ سچ ہے تو اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف فرمائے اور اگر تم غلط کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے ۔‘‘یہ الفاظ سن کر وہ شخص نادم ہوا اور اس نے معافی طلب کی۔

ایک دن سیدنا حضرت زین العابدینؓ اپنے غلاموں۔۔۔بچوں اور دیگر رفقاء کے ہمراہ جنگل میں چاشت کی نماز کے بعد کھانے کیلئے دسترخوان بچھا دیا،اور دیکھتے ہی دیکھے وہاں ایک ہرن آکر ساکت ہو گیا،آپؓ نے اُس کی طرف چہرہء مبارک کر کے کہا ’’میں علیؓ بن حسینؓ بن علیؓ بن ابی طالب ہوں اور میری والدہ ماجدہ محترمہ فاطمہ بنتِ رسولؐ ہیں،آؤ ،ہمارے ساتھ چاشت کا کھانا کھاؤ۔‘‘

ہرن آیا اور جو کچھ اُس نے پسند کیا کھایا اور صحرا کی جانب واپس چلا گیا،غلاموں میں سے ایک نے آپؓ کی خدمت میں عرض کیا ،یا حضرت!ہرن کو دوبارہ بلایئے،حضرت زین العابدینؓ نے فرمایا کہ’’ ہم اُسے پناہ دیں گے ،مگر تم اُسے چھیڑنا مت!‘‘اسنے عرض کیا ’’حضور ! ہم اسے ہرگز نہیں چھیڑیں گے۔سیدنا حضرت زین العابدینؓ نے فرمایا’’اے ہرن!میں علیؓ بن حسینؓ بن علیؓ بن ابی طالب ہوں اور میری والدہ ماجدہ محترمہ فاطمۃالزہراؓ ۔۔۔رسول اللہ ﷺکی لختِ جگر ہیں۔‘‘

یہ سننا تھا کہ ہرن پھر خوشی سے دوڑتا ہوا آیا اور دسترخوان کے قریب ٹھہر گیااور آپؓ کے ہمراہ کچھ کھانا شروع کردیا،اُن اصحاب میں سے کسی نے ہرن کی پشت کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ہرن فوراََ بھاگ گیا۔پھر حضرت زین العابدینؓ نے فرمایا کہ ’’تم نے میری پناہ کو سلامت نہیں رہنے دیا ،اب میں تم سے کسی قسم کی بات نہ کروں گا۔‘‘

سیدنا حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 18محرم الحرام کی شب کو 94 یا95ہجری وصال فرمایا،آپؓ کا مزارِ اقدس سیدنا حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مزارِ پُر انوار کے جوار میں ہے۔

ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اہلِ بیت کے صدقے ہماری خطاؤں کو معاف فرماتے ہوئے آپﷺاور آپﷺ کی اہلِ بیت سے سچی محبت کرنے اور اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -