ہینری کیسنجر سے ٹرمپ تک۔۔۔ دھمکیوں کی داستان

ہینری کیسنجر سے ٹرمپ تک۔۔۔ دھمکیوں کی داستان
ہینری کیسنجر سے ٹرمپ تک۔۔۔ دھمکیوں کی داستان

  

امریکہ ایک سُپر پاور ہے اور اُس کے صدر کی خبر دُنیا میں اخبارات اور میڈیا کی اہم ترین خبر بن جاتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مُناسب ہو گا کہ دُنیا کے سیاستدان امریکی صدر کے بیانات کے تناظر میں اپنے مُلک کی سیاست کو جانچ کر اپنے پینترے بدلتے ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں کہ اُنکا ہر بیان اور سیاسی قدم اکثر مُتنازعہ بن جاتا ہے۔ اُن کے انتخاب سے لیکر آج کے دِن تک امریکی قوم سوچ اور فکر کے اعتبار سے کئی حصوں میں بٹ چُکی ہے۔ صدر ٹرمپ کے حامی بھی اَب اُن سے مایوس ہونے لگے ہیں۔ امریکی صدر کی اپنی انتظامیہ میں بھی اُنکی سیاسی پُختگی کے بارے میں سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔ اُ نکی اپنی سیاسی پارٹی کے لیڈر یہ کہنے پر مجبورہو گئے ہیں کہ صدر ٹرمپ اپنی سیاست میں نا تجربہ کاری کے با عث امریکہ کو تیسری عا لمی جنگ کے دہانے تک لے آئے ہیں۔ حال ہی میں صدر ڈو نلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے سابقہ وزیر خارجہ جو کہ خارجی امُور پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت ڈاکڑ ہنری کیسنجر کو شمالی کوریا اور چین کے بارے میں صلاح مشورے کے لئے و ہائٹ آفس میں مدعو کیا تھا۔ مُلاقات کے بارے میں زیادہ تفصیلات تو ا بھی تک منظر عام پر نہیں آئیں لیکن امکان اغلب ہے کہ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کی فوجی طاقت، اور شمالی کوریا سے تصادم کی صورت میں پیدا ہونے والے نتائج کے بارے میں بات کی ہوگی اور یہ جاننے کی کوشش کی ہوگی کہ اگر شمالی کوریا سے خُدا نخواستہ جنگ ہوتی ہے تو امریکہ کو جانی، مالی اور اخلاقی طور پر کتنی بھاری قیمت چُکانی پڑے گی ۔ اگر سفارتی اعتبار سے مسئلہ حل کرنے کی کو شش کی جائے تو اُس کے اثرات کیا ہونگے؟ کیا موجودہ حالات میں کوئی ایسی با عزت راہ بچی ہے جس کو اپناتے ہوئے امریکہ اپنی ساکھ کو بر قرار رکھتے ہوئے اِس جنجال سے نکل سکتا ہے؟جنگ کی صورت میں رُوس اور چین کا کیا ردِ عمل ہوگا؟ امریکہ کس حد تک اُن دو ممالک پر عملی طور پر اعتماد کر سکتا ہے؟ اگر یہ دونوں ممالک عین وقت پر امریکہ کو دھوکہ دے جاتے ہیں تو امریکہ کو کیا چال چلنی چاہئے؟

ڈاکڑ ہنیری کیسنجر بِلا شبُہ ایک ذ ہین اور شاطر شخص ہیں جن کی نظر ہمیشہ دُنیا کے تمام ممالک کی سیاست پر رہتی ہے۔ اُنھوں اپنے دور میں امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے کئی پیچیدہ مسائل کو حل کیا ہے۔ اسرائیل اور عرب ممالک کی جنگ میں جب تمام عرب ممالک نے اپنے تیل کی برآمد پر پا بندی لگا دی تھی۔ اُس وقت ڈاکٹر کیسنجر کی مدبرانہ سیاسی حکمت عملی کی بدولت ہی اسرائیل اور عرب ممالک نے ایک دوسرے کے فتح کئے ہو ئے علاقوں کو واپس لوٹایا تھا اور اپنی خاص پالیسی کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے عرب ممالک کو قا ئل کر لیا تھا کہ وُہ تیل کی بر آمدات کو پھر سے جاری کر دیں۔ تیل کی برآمدات پر پابندی نے امریکہ اور یورپی ممالک کو اپنی اپنی خارجہ پا لیسیوں میں تبدیلی لانے پر مجبور کر دیا تھا۔ لہذا امریکہ اور یورپین ممالک کو عرب ممالک کی بات بھی دھیان سے سُننا پڑی تھی۔ لیکن ڈاکٹر ہنیری کیسنجر نے کہا تھا کہ یہ آخری موقعہ ہے عرب ممالک نے تیل پر پابندی لگا کر امریکہ اور یورپین ممالک کو عرب ممالک کی بات ماننے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن آئیندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

ڈاکڑ ہنیری کسینجر نے ہی بھٹو صاحب کو ا سلامی بم بنانے سے باز رہنے کی تر غیب دِی تھی اور ساتھ میں سنگین نتائیج کی دھمکی بھی دِی تھی۔ کیونکہ اُنکو بھٹو صاحب کی سوچ سے پُوری آگاہی تھی۔ وُہ جانتے تھے کہ یہ شخص عرب ممالک کے ساتھ مِل کر امریکہ کے لئے مشُکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر ہنیری کیسنجر نے دھمکی آمیز لہجے میں بھٹو صاحب سے کہا تھا کہ اگر بھٹو نے اُ نکی بات پر غور نہ کیا تو اُن کا عبرت ناک انجام ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے جنرل ضیا کوحقیقی دِل سے صدر ضیا کو بھٹو صاحب کو رہا کرنے کے لئے نہیں کہا تھا۔ ورنہ وُہ مان جاتے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھٹو کی جذباتیت سے خائف تھا۔ وُہ جانتا تھا کہ بھٹو کبھی بھی امریکہ کے مُفادات کے لئے خطر ناک بن سکتا ہے۔ وُہ بھٹو صاحب کی کرنل قزافی سے بات چیت سے بھی واقف تھا۔ ڈاکٹر ہنیری کیسنجر کو اندازہ ہو چُکا تھا کہ پاکستان امریکہ کو جھُل دے کر ایٹم بم بنانے کے چکر میں ہے۔ لیکن امریکہ اُسو قت رُوس کی فوجوں کو افغانستان سے نکالنے کے لئے پاکستان کی فوج اور سر زمیں کو استعمال کررہا تھا۔ لہذا امریکہ اپنے مُفاد میں پاکستان پر زیادہ شدید قسم کا دبا ؤ نہ ڈال سکا۔ تاہم بھٹو صاحب کو ڈا کٹر ہنیر ی کیسنجر نے ایک خوفناک انجام کے کے حوالے کر دیا۔ جس کا نتیجہ پھانسی کی شکل میں نکلا۔

قارئین کے لئے یہ بات بھی دلچسپ کا باعث ہو گی کہ امریکہ اور چین کے تعلقات کو استوار کروانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکہ کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ہنیری کیسنجر نے پاکستان سے ہی چین کے لئے ہوائی اُڑان بھری تھی۔ داکٹر ہنیری کیسنجر کے وسیع تجربے سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کے لئے صدر ٹرمپ نے اُن کو اپنے آفس میں مدعو کیا تھا۔ ہمیں اُمید ہے کہ ڈاکٹر ہنیری کیسنجر نے دُنیا کو ایٹم بم کی تباہ کاری سے بچانے کے لئے اچھا ہی مشورہ دیا ہو گا۔ناگا ساکی کی تباہ کاری اَب بھی پُرانے لوگوں کو بخُوبی یاد ہوگی۔ تاہم صدر ٹرمپ کی لا اُبالی طبعیت کے پیش نظر کُچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -