کسی کو معافی ملے یا سزا، قانون کے مطابق کام ہوگا لیکن خوابوں کی تعبیر نہیں دے سکتا،شریف خاندان کے خلاف کیسز میرٹ پر چلیں گے: جسٹس (ر) جاوید اقبال

کسی کو معافی ملے یا سزا، قانون کے مطابق کام ہوگا لیکن خوابوں کی تعبیر نہیں دے ...
کسی کو معافی ملے یا سزا، قانون کے مطابق کام ہوگا لیکن خوابوں کی تعبیر نہیں دے سکتا،شریف خاندان کے خلاف کیسز میرٹ پر چلیں گے: جسٹس (ر) جاوید اقبال

  

اسلام آباد (صباح نیوز) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف کیسز میرٹ پر چلیں گے کسی کو معافی ملے یا سزا، قانون کے مطابق کام کرینگے لیکن خوابوں کی تعبیر نہیں دے سکتا۔ تمام کیسز کو خود مانیٹر کروںگا، بہت جلد تبدیلیاں نظر آئیں گی، معافی بھی قانون کے مطابق ہو گی اور سزا بھی قانون کے مطابق ہو گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن کو میں خود مانیٹر کروں گا، کسی جگہ کوئی خامی ہے تو اسے دور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ توقعات ضرور رکھیں مگر یہ توقعات قانون کے مطابق رکھیں۔ خوابوں کی تعبیر میں نہیں دے سکتا۔ مگر قانون کے تحت ہرممکن کام میں کروں گا کسی کو بھی شکایت نہیں ہو گی۔ احتساب سب کا ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جب سپریم کورٹ میں تھا تو میں نے کہا تھا جسٹس فار آل، سپریم کورٹ کا مشن ہونا چاہئے۔ اب میں کہہ رہا ہوں احتساب سب کے لئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک بھر میں مجھ پر انگلی بھی اٹھا دے تو میں لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی اور چیئرمین نیب کا عہدہ چھوڑ دوں گا۔ مجھ پر ساری زندگی کوئی الزام نہیں لگا، ان کا کہنا تھا کہ ایک دم تو نہیں مگر چند مہینوں میں لوگوں کو واضح تبدیلی نظر آئے گی۔

ان کا کہنا تھا جن چند ججز نے پرویز مشرف کی ایمرجنسی کو مسترد کیا، میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے تمام جماعتوں نے قبول کیا ہے جنہوں نے قبول نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ ہم کڑی نظر رکھیں گے تو کڑی نظر تو بچپن سے مجھ پر رکھی جا رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مزید کڑی نظر کی ضرورت نہیں۔ بندہ اپنے ضمیر اور رب کے سامنے جوابدہ ہے۔ سیاسی جماعتوں اور عوام کے اعتماد پر پورا اتروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاف تو بندے کو اللہ تعالیٰ کی ذات بھی کر دیتی ہے۔ ہم نے کسی کو کیا معاف کرنا ہے۔ میں یقین دہانی کرواتا ہوں ہر چیز قانون کے مطابق ہو گی۔ معافی بھی ہو گی تو قانون کے مطابق اور سزا بھی ہو گی تو قانون کے مطابق ہو گی۔

مزید :

قومی -