بھارتی انتہا پسندی ، 200مسلمان بے گھر ، مودی سرکار خاموش تماشائی بن گئی

بھارتی انتہا پسندی ، 200مسلمان بے گھر ، مودی سرکار خاموش تماشائی بن گئی
بھارتی انتہا پسندی ، 200مسلمان بے گھر ، مودی سرکار خاموش تماشائی بن گئی

  

جے پور(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت میں ہند و انتہا پسندی عروج پر ہے، ہندو انتہا پسندوں نے ایک مسلمان لوک موسیقار کو قتل کردیا جس کے بعد 200سے زائد مسلمان راجستھان میں اپنے گھربار چھوڑکر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ اس دوران مودی سرکار چین کی بانسری بجا کر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دو ہفتے قبل ہندو انتہا پسند گرو اور اسے کے چیلوں نے ایک لوک موسیقار احمد خان کو گانا گانے کی وجہ سے قتل کردیا تھا جس کے بعد ہندو بلوائیوں نے مسلمانوں کے گاﺅں پر حملہ کردیا ، ہندو انتہا پسندوں کے خوف سے مسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں جہاں پر انہیں بھارتی انتہا پسندوں کے حملوں کا خوف بد ستور موجود ہے۔

ہم نے پختونوں کو شناخت دی تاکہ وہ پاکستان کے ساتھ جڑے رہے ہیں: آصف زرداری

راجستھان پولیس کے مطابق احمد خان مسلمانوں کے لنگا منگنیار قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو کہ ہندوں کی عبادت گاہوں میں جاکرہندﺅں کا روحانی کلام پڑھتا ہے، گذشتہ ماہ اس نے ایک مقامی مندر میں بھی کلام گایا جو کہ ہندو گرو رامیش ستھر کو پسند نہیں آیا اور اس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر احمد خان کو قتل کردیا،پولیس نے رامیش کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس کے بھائی تاحال مفرور ہیں۔اس قتل کے بعد ہندو مسلمانوں کے گھروں پرٹوٹ پڑے ،ہندﺅں کے حملوں کے بعد 20مسلمان خاندان گاﺅں سے ہجرت کرگئے اور وہ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ ہمیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور گاﺅں واپس جانے پر ہماری جانوں کا خطرہ ہے۔ مقامی پولیس کا مزید کہنا تھا کہ ہم ہندو اور مسلمانوں کو اکٹھا کر کے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم فی الحال دونوں قوموں کے مابین تنازعہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

مزید :

بین الاقوامی -