گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 47

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 47

  

وزیر ہند مسٹرایمرے نے 1941ء میں مجھے یہ اطلاع دی کہ ان کی اور وائسرائے کی خواہش ہے کہ میں وائسرائے کی کابینہ کے رکن کی حیثیت سے ہندوستان واپس جاؤں۔ مجھے حال ہی میں ہائی کمشنر کے طور پرلندن میں پانچ سال کی مدت گزارنے کے بعد ایک سال کی توسیع ملی تھی۔ میں نے اپنا نیا منصب قبول کرنے کے بعد سامان باندھا اور طیارہ میں ہندوستان واپس ہوا۔ اس مرتبہ مجھے لزبن، لاگوس، خرطوم، قاہرہ اور کراچی ہوتے ہوئے دہلی پہنچنا پڑا۔ لاگوس میں ہم نے ایک رات قیام کیا۔ آسمان اور ستاروں کو میں نے اس رات سے زیادہ قریب تر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ رات کے کھانے کے ساتھ سخت چھال کا ایک سنگترہ کھانے کو ملا جو بالکل ہرا تھا۔ لیکن چکھا تو شکر سے زیادہ میٹھا نکلا۔ کچھ سنگترے ہندوستان لے آیا لیکن یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ان سنگتروں کے پودے بیج سے نہیں اُگتے بلکہ اس کا پیوند لگانا پڑتا ہے۔ لاگوس سے خرطوم تک کہیں پڑاؤ نہ تھا۔ ہمارا طیارہ کچھ دیر گھنے جنگلوں پر پرواز کرتا رہا اور یہاں مجھے آگ تو آگ دھواں تک نظر نہ آیا۔یہ پرواز بڑی خطرناک تھی۔ کیونکہ (خدانہ کردہ ) اگر جہاز میں کوئی خرابی پیدا ہو جاتی توپھر مسافروں کا نشانہ تک نہ ملتا۔ میرا خیال ہے کہ جنگلوں میں دھواں اس لیے نظر نہ آیا تھا کہ یہ سب کے سب غیر آباد تھے۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 46 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

رات کو میں نے خرطوم میں قیام کیا ، جہاں کا گورنر گارے کے کچے محل میں رہتا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس کا نام بڈل سٹون تھا ۔ ہمارے انڈیا آفس لندن میں جہاز رانی کے ایک مشیر تھے، یہ گورنران کا بھائی تھا۔ سوڈان میں سول سروس کے افسران کا تقرر براہ راست وزارتِ خارجہ کی طر ف سے ہوتا تھا سوڈان میں اس وقت دو طاقتور برطانیہ اور مصر کی مشترکہ حکومت تھی۔ ایک پنجابی کہاوت ہے ’’ڈاڈھے نال بھائی والی ، نالے منگے حصہ نالے کڈھے گالی۔ ‘‘ یعنی اگر تم اپنے سے مضبوط تر آدمی کے ساتھ حصہ داری کر و گے تو وہ نہ صرف اپنا حصہ طلب کرے گا بلکہ گالی بھی دے گا۔ ہر سول افسر کو برطانیہ جانے کے لیے سال میں تین مہینہ کی چھٹی ملتی تھی۔ وہاں ایک طرح کا پہاڑی مقام بھی تھا، جہاں کی آب و ہوا نسبتاً خنک تھی لیکن انگریز افسر گھر جانے کو ترجیح دیتے تھے۔ میں نے خرطوم کے قریب اومڈر مین کا مقام بھی دیکھا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں چرچل نے جو اس وقت ایک رسالدار تھے، گھوڑے پر بیٹھے اپنی پلٹن کو حکم دیا تھا کہ مہدی سوڈانی پر حملہ کریں۔

چیف سیکرٹری مجھے اس جگہ کی سیر کرار ہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مسٹر چرچل کے آدمی خاصی تعداد میں مارے گئے لیکن وہ محفوظ رہے۔ وہاں کی عیدگاہ ایک کشادہ میدان میں واقع تھی اور اس کے گرد گارے کی ایک نیچی سی چار دیواری کھڑی کر دی گئی تھی۔ مہدی نے اس جگہ کو عیدین کی نمازوں کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔ جگہ جگہ گارے اور مٹی کی کچی عمارتوں کی وجہ سے خرطوم ہندوستان کا کوئی بڑا سا گاؤں معلوم ہوتا تھا۔

میں جب کراچی کے ہوائی اڈے پر اترا تو اخبارات کے نمائندوں نے گھیر لیا اور مجھ سے میری پالیسی کے بارے میں سوال کرنے لگے ۔ میں نے انہیں بتایا کہ مجھے وائسرائے کی کابینہ کارکن اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ میں مسلمان ہوں ۔ لہٰذا مجھے تمام مسائل میں مسلمانوں کے نقطہ نظر کی ترجمانی کرنی ہو گی اور میری پالیسی وہی ہو گی جو مسلم لیگ کی ہے۔ تعمیرات عامہ اور محنت کے محکمے میرے سپرد کیے گئے تھے۔

میرے ساتھیوں کو سمندر کے راستے سے پہنچنا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب دشمن کی تارپیڈو نے ان کے جہاز میں سوراخ کر دیا تاہم خوش قسمتی سے وہ بخیرو عافیت گھر پہنچ گئے ۔ میرے خاص ملازم فتح شیر کو دو تین دن تک ایک ایک چھوٹی سی کشتی میں رہنا پڑا ، لیکن حسن اتفاق سے جہاز کا کپتان بھی اسی کشتی میں سوار تھا۔ اس کے پاس ایک قطب نما تھا جس سے وہ کشتی کو پورٹ الزیتھ تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ ان کے پاس پانی ختم ہو گیا تھا لیکن خدا کی شان کہ بارش ہو گئی۔ انہوں نے چلو بھر بھر کر پیاس بجھائی اور ساحل تک پہنچنے کے لیے پیاس کی شدت برداشت نہیں کرنی پڑی ۔

تعمیراتی عامہ اور محنت کے محکمے میرے پاس تقریباً ایک سال تک رہے۔ جنگ کے زمانہ میں ہندوستان کے طول و عرض میں متعدد ہڑتالیں ہوئیں۔ یہ بھی انگریزوں پر ایک طرح کا دباؤ تھا کہ وہ ہندوستان چھوڑدیں۔ کلکتہ کی بندرگاہ کے لیے مزدوروں کے دو دستے بھرتی کرنے کا خیال مجھے سوجھا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے چندجاپانی بمباروں نے وہاں کے عام مزدوروں کو اتنا ہراساں کر دیا تھا کہ وہ کام چھوڑ کر اپنے دیہی گھروں کو بھاگ گئے تھے۔ یہ نئے آدمی ، جن کے ایک ایک ہزار کے دو دستے بنائے گئے تھے بہت کامیاب ثابت ہوئے ۔ اس کے ساتھ ہی مجھے نمبکرکی مدد درکار تھی ، تاکہ کارخانوں کی ہرتال روکی جا سکے لیکن نمبکر بمبئی کی جیل میں تھے۔ صوبائی حکومت نے انہیں خطرناک آدمی قرار دے کر نظر بند کر دیا تھا۔ میں نیگورنر سرراجر لملے سے کہہ سن کر نمبکر کو رہا کر الیا اور پھر انہیں لیبر ویلفیئر آفیسر مقرر کر دیا ۔

مسٹر نمبکربمبئی میں بائیں بازو کے لیبر لیڈر تھے اور ان کے بارے میں یہ طے شدہ امر تھا کہ انتہائی انگریز دشمن ہیں۔ ہندوستان کی منظم مزدور جماعتوں کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ بین الاقوامی مزدور تنظیم ۔ آئی ۔ایل۔ او کے لیے اپنے مندو بین خود منتخب کر کے بھیجیں ۔ نمبکر کو اس کا اعتراف تھا کہ انگریز آئین پسند لوگ ہیں۔ ہماری ملاقات جنیوا میں ۱۹۳۸ء میں ہوئی تھی ۔ وہ ہندوستانی وفد میں مزدوروں کے نمائندہ کے طور پر شامل تھے اور میں اس وفد کا قائد تھا ۔ جس دن وہ پہنچے، اسی دن میں انہیں کارلٹن ہوٹل میں لے گیا جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا اور بڑے دوستانہ ماحول میں ادھر اُدھر کی باتیں کیں۔ وہ نہایت کٹرا نگر یز دشمن تھے میں نے انہیں وہ حکایت سنائی جو میں نے برطانیہ میں سنی تھی کہ روس اور برطانیہ کے دوبحری افسروں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران میں دو آدمیوں کو جن میں سے ایک روسی اور دوسرا برطانوی تھا ، لینن گراڈ کے بحری اڈہ سے کھانے کے بند ڈبے چور ی کرتے ہوئے پکڑلیا۔ دوسری صبح روسی افسر نے برطانوی افسر سے پوچھا۔ ’’تم نے اپنے سپاہی کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ‘‘ اس نے جواب دیا کہ وہ حوالات میں بند ہے اور اس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ لیکن تم نے اپنے قیدی کا کیا کیا؟ ‘‘ روسی نے جواب دیا۔ ‘‘ ہم نے گزشتہ رات اُسے گولی مار دی ۔‘‘اس حکایت پر نمبکر میری طرف مُڑے اور بولے: ’’ انگریز بھی یہی کرتا ہے لیکن اس سے پہلے باقاعدہ مقدمہ چلاتا ہے۔‘‘ نمبکر اور میں بہت جلد دوست بن گئے۔ کیونکہ ان کے ساتھ میں دوستوں کا سا سلوک کرتا تھا۔ وہ میرے ہم وطن تھے اور اس قابل تھے کہ ان سے احترام اور رواداری کا برتاؤ کیا جائے۔ میں نے انہیں اعتماد میں لے کر ایجنڈے کے تمام نکات کے بارے میں حکومت کے نقطہ نظر کی صراحت کی ۔چنانچہ ہندوستانی وفد کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ منظم مزدور تحریک کے ایک نمائندے نے سرکاری نمائندے کے ساتھ مل کر ووٹ دیا تھا آپس کی غیر رسمی بات چیت سے اور اپنے رفیقوں پر اس اعتماد سے کہ آپ انہیں اپنے احترام اور بھروسہ کا اہل سمجھتے ہیں، بسا اوقات ، بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں۔ سیاست میں یہ سمجھ لینا بہت بڑی غلطی ہو گی کہ فلاں شخص ناقابل اصلاح ہے۔ اگر کوئی شخص فی الواقع اپنے طرز فکر میں مخلص ہے اور اس حکمت عملی پر کار بند ہے کہ ’’دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔ ‘‘ تو وہ ذرا سی تحریک رپ اپنے افکار و اعمال میں تبدیلی قبول کر لے گا۔

۱۹۳۸ء میں جنیوا کا اجلاس ختم ہونے کے بعد جب نمکبر لندن آئے تو انہوں نے مجھ سے روس کیلئے ویزہ کی درخواست کی۔ چونکہ ان کا رجحان اشتراکیت کی طرف تھا، اس لیے ان کے پاسپورٹ میں روس جانے کی اجازت شامل نہ تھی۔ میں نے وائسرائے کے نام مراسلہ میں نمکبر کے لیے سفارش کی کہ انہیں روس جانے دیا جائے۔ اگر اشتراکیت ایک اچھا نظام ہے تو ان کا رجحان بہر حال بائیں بازو کی طرف رہے گا اور یہ اگر نظام اچھا نہیں تو ممکن ہے کہ اس کی عملی تعبیر دیکھ کر وہ خود ہی اپنے نظریات تبدیل کر دیں۔ مجھے ہمیشہ اس امر کا حساس رہا ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک اپنے نظریات میں تبدیلی قبول نہیں کرتا جب تک وہ اس بات کا قائل نہیں ہو جاتا کہ اس کے پرانے افکار غلط ہیں۔ مخلصانہ اور مستقل ذہنی تبدیلی کے لیے آزادی فکر کا وجود بے حد ضروری ہے۔ ہم نے نمکبر کو روس جانے کا ویزا دے دیا لیکن اس کے بعد فوراً جنگ چھڑ گئی۔ اور ابھی وہ بلقان تک ہی پہنچے تھے کہ استنبول سے ہوتے ہوئے ہندوستان واپس آگئے۔

مختصر یہ کہ جنیوا میں آئی ۔ ایل ۔ او کی کانفرنس کے زمانہ سے ہی میرے اور نمکبر کے تعلقات چلے آرہے تھے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے میری دعوت قبول کر لی اور ہمیں ہڑتالوں کی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

میرا یہ عقیدہ ہے کہ مزدوروں کے ساتھ منصفانہ سلوک ہونا چاہیے۔ سماجی انصاف ملک کی پرامن ترقی کے لیے ضروری ہے ۔ مزدور ہمیشہ اپنے رہنماؤں پر بھروسہ کریں گے اور سرکاری رہنماؤں کی بات کبھی نہیں مانیں گے ۔ خواہ وہ کتنی ہی سچی بات کیوں نہ کہیں۔ مزدوروں کو مقرر ہ اجرتوں کے علاوہ خالص منافع میں سے بھی کچھ رقم ملنے لگے تو میرا خیال ہے کہ ہڑتالوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ اس رقم سے مزدوروں کو بہت سہولتیں مفت فراہم کی جاسکتی ہیں تاکہ ان کے اخراجات زندگی کم ہوں۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 48 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

فادرآف گوادر -