ہجوم کے سامنے اس لڑکی کو سٹیج پر لایا گیا، سرعام اس کا ریپ کیا گیا اور پھر اس کا جسم کاٹ کر خون لوگوں نے پی لیا، یہ شرمناک ترین سزا اس لئے دی گئی کیونکہ اس نے۔۔۔

ہجوم کے سامنے اس لڑکی کو سٹیج پر لایا گیا، سرعام اس کا ریپ کیا گیا اور پھر اس ...
ہجوم کے سامنے اس لڑکی کو سٹیج پر لایا گیا، سرعام اس کا ریپ کیا گیا اور پھر اس کا جسم کاٹ کر خون لوگوں نے پی لیا، یہ شرمناک ترین سزا اس لئے دی گئی کیونکہ اس نے۔۔۔

  

کنشاسا(مانیٹرنگ ڈیسک) وسطی افریقہ کے ملک کانگو میں مچھلی کھلانے کے جرم میں باغیوں نے ایک خاتون اور اس کے سوتیلے بیٹے کو ایسی بھیانک سزا دے ڈالی ہے کہ سن کر روح لرز جائے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق کانگو کے شہر لوئبو میںیہ خاتون ایک ریسٹورنٹ چلاتی تھی جہاں کچھ شدت پسند کھانا کھانے گئے۔ کھانا کھانے کے بعد انہوں نے خاتون پر الزام عائد کر دیا کہ اس نے انہیں مچھلی کھلا دی ہے۔ اس پر شدت پسندوں نے خاتون اور اس کے سوتیلے بیٹے کو گرفتار کر لیا اور برہنہ کرکے شہر کے مرکزی چوک میں لیجاکر کھڑا کر دیا۔ وہاں انہوں نے پہلے ماں بیٹے کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، پھر بیٹے کو ماں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر مجبور کیا اور پھر دونوں کا سرقلم کرکے ان کا خون پی گئے۔عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں لوگ وہاں جمع تھے جنہوں نے یہ انسانیت سوز واقعہ دیکھا۔ شدت پسند 20سالہ لڑکے کے کٹے سر کے ساتھ تصاویر بھی بنواتے رہے۔ شدت پسندوں نے دو روز تک ماں بیٹے کی لاشیں وہیں چوک میں پڑی رہنے دیں تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں اور پھر انہیں مقامی قبرستان لیجا کر دفن کر دیا گیا۔

’میری حاملہ دوست میرے فلیٹ پر آئی، بات کرتے کرتے اس نے پانی کا گلاس مانگا، میں واپس آئی تو وہ غائب تھی، ڈھونڈتے ڈھونڈتے کھڑکی سے باہر دیکھا تو پیروں تلے زمین ہی نکل گئی کیونکہ۔۔۔‘ شارجہ میں مقیم خاتون کے ساتھ ایسا واقعہ کہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا

رپورٹ کے مطابق ان باغیوں نے خاتون کو مچھلی کھلانے کے جرم میں اس لیے بربریت کا نشانہ بنایا کیونکہ کانگو کی روایات کے مطابق جب وہ حالت جنگ میں ہوتے ہیں تو نہ وہ خواتین کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتے ہیں، نہ نہاتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا گوشت کھاتے ہیں۔واضح رہے کہ کانگو کے ایک قبیلے کے سربراہ کیموینا نساپو نے صدر جوزف کبیلہ کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی جس پر اگست 2016ءمیں فوج نے آپریشن کرکے اسے ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد بغاوت کی یہ تحریک پھیل گئی اور رواں سال 31مارچ کو اس باغی گروہ نے کانگو کے 40ہزار آبادی کے شہر لوئبو پر قبضہ کر لیا تھا تاہم فوج نے 19اپریل کو شہر ان کے قبضے سے واگزار کروا لیا۔ اس دوران شدت پسندوں نے شہر میں 10لوگوں کو بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا جن میں اس شہر کے ایڈمنسٹریٹر کی بیوی بھی شامل تھی۔ مذکورہ واقعہ بھی اسی عرصے کے دوران پیش آیا تھا تاہم اس کی ویڈیو واٹس ایپ پر گردش کرتی ہوئی اب منظرعام پر آئی ہے۔ کانگو میں ہونے والی یہ بغاوت ایک سال سے کم عرصے میں 3300افراد نگل چکی ہے جبکہ 14لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔اب تک کانگو کے اس علاقے میں 80اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -