33ہزار اساتذہ میں سے 21ہزار سے زائد نرسری کا پرچہ حل کرنے میں ناکام

33ہزار اساتذہ میں سے 21ہزار سے زائد نرسری کا پرچہ حل کرنے میں ناکام
33ہزار اساتذہ میں سے 21ہزار سے زائد نرسری کا پرچہ حل کرنے میں ناکام

  

ابوجہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) قابل استاد طالب علموں کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں وہ اپنی قابلیت اور پیشے سے لگن کی بنیاد پر اپنے شاگردوں کو زمین سے اٹھا کر اوج ثریا پر پہنچا دیتے ہیں مگر سیاسی بھرتیاں اور سفارشی کلچر نے اس عظیم پیشے کو بھی بدنام کردیا ہے۔ نائیجیریا کی ریاست میں 33ہزار اساتذہ کرام کا ٹیسٹ لیا گیا اور انہیں نرسری کلاس کا پرچہ حل کرنے کو دیا گیا مگر ان میں سے21ہزار780اساتذہ پرچہ حل کرنے میں ناکام رہے، حکومت نے تمام اساتذہ کو برطرف کرکے 25ہزار نئے اساتذہ تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

کلبھوشن یادیو کیس: پاکستان نے سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کو عالمی عدالت انصاف میں ایڈہاک جج مقرر کردیا

نائیجرین میڈیا کے مطابق شمالی ریاست کدونا میں ورلڈ بینک نے اساتذہ کا امتحان لیا ،پرائمری جماعت کو پڑھانے والے33ہزار اساتذہ میں سے21ہزار 780 ٹیچرز 6 سال کے بچوں کے تیار کردہ امتحانی پرچے میں پاس نہیں ہو سکے۔ یہ تمام اساتذہ پرچے میں سے75فیصد نمبر حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ عالمی بینک کی اس ہوشربا رپورٹ کے بعد گورنر ناصر الروفی نے ایسے ہزاروں اساتذہ کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے جبکہ اب 25 ہزار نئی بھرتیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گورنر کے مطابق ماضی میں اساتذہ کرام سفارش اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر بھرتی کئے گئے اس لئے ایسے نکمے اور نالائق اساتذہ محکمہ تعلیم میں شامل ہوگئے۔

دوسری جانب غیر ملکی این جی اوز کا کہنا ہے کہ نائیجریا میں نہ صرف پرائمری بلکہ سیکنڈری اور مڈل سکول اساتذہ میں سے بھی68فیصد اساتذہ ”حادثاتی اساتذہ “ ہیں اور یہ تمام لوگ باقی محکموں میں نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ ہوگئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں لاکھوں جتن کرنے اور عالمی اداروں کی امداد کے باوجود معیار تعلیم بلند نہیں ہورہا۔

مزید :

بین الاقوامی -