’’سپریم کورٹ کے سابق جسٹس رانا بھگوان داس ہندو تھے، تعیناتی کیلئے رپورٹ لی گئی تو بتایا گیا کہ عبادت کیلئے بھارت جاتے ہیں لیکن پھر بھی انکوائری کی گئی تو پتہ چلا کہ ۔ ۔ ۔ ‘‘جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد نے راز بے نقاب کردیا

’’سپریم کورٹ کے سابق جسٹس رانا بھگوان داس ہندو تھے، تعیناتی کیلئے رپورٹ لی ...
’’سپریم کورٹ کے سابق جسٹس رانا بھگوان داس ہندو تھے، تعیناتی کیلئے رپورٹ لی گئی تو بتایا گیا کہ عبادت کیلئے بھارت جاتے ہیں لیکن پھر بھی انکوائری کی گئی تو پتہ چلا کہ ۔ ۔ ۔ ‘‘جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد نے راز بے نقاب کردیا

  

کراچی (ویب ڈیسک) جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد نےججوں کی تقرری کئی مرحلوں سے گزرنے کے بعد ہوتی ہے،آج کل پارلیمانی کمیشن اور جیوڈیشل کمیشن کے ذریعے آتے ہیں، ججوں کی ہر جگہ سے رپورٹ آتی تھی،مرحوم جسٹس رانا بھگوان داس ہندو تھے اس لئے وہ عبادت کیلئے انڈیا جاتے تھے، اس پر ان کے اوپر الزام لگا تھا کہ یہ انڈیا بہت جاتے ہیں، جب مجھ سے پوچھا گیا تومیں نے کہا کہ ان کا ہندو مذہب سے تعلق ہے وہ انڈیا جاکر عبادت کرتے اور آجاتے ہیں، پھرانہوں نے انکوائری کی تو یہی پتا چلا کہ کچھ نہیں ہے، صرف اپنے مذہبی عقیدے کی وجہ سے عبادت کیلئے جاتے ہیں ۔ امریکا میں ججوں کی تعیناتی کیلئے کمیشن بنادیا گیا ہے جس میں معاشرے کے مختلف طبقوں کے نمائندے شامل ہیں ،یہی کمیشن جج بنانے اور ججوں کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، سپریم جیوڈیشل کمیشن کے نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتا لیکن ہمیں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھنا چاہئے کہ وہاں کیا ہورہاہے۔

فیصل آباد میں انوکھا فراڈ، خوبروخواتین عملے پر مشتمل دفتر اور بلاسود قرض دینے کے بہانے شہریوں سے لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے اور پھر مرکزی ملزم جاتے ہوئے ایک ایسی لڑکی کو بھی اپنے ساتھ لے گیا کہ ہنگامہ برپا ہوگیا، یہ لڑکی دراصل کون تھی؟ حیران کن انکشاف

جیونیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کیساتھ ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کہا کہ ججوں کے احتساب سے متعلق اگر پوچھا جائے تو ایک اخلاق حسین اور ایک فضل غنی تھے، میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن جسٹس اخلاق حسین کا مجھے معلوم ہے جو یہ فیصلے رپورٹ ہوئے تھے اس میں انہوں نے چیلنج کیا ورنہ یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی نوٹس جاتا ہے تو جج خودبخود مستعفی ہوجاتا ہے،اس کے بعد اسے مراعات ملیں گی یا نہیں یہ ہمارے آئین پر منحصر ہے، آئین میں ہے کہ اگر کسی جج نے پانچ سال پورے کرلیے ہیں تو اسے پوری پنشن ملتی ہے۔ ججوں کے احتساب کیلئے سپریم جیوڈیشل کونسل بہترین فورم ہے یا کوئی بہتر نظام ہوسکتا ہے ؟ کے جواب میں جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کاکہنا تھا کہ آپ کا کہنا درست ہے لیکن یہ بتایئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے سو، سوا سو جج ہوتے ہیں اب آپ کہیں کہ ان میں سے پچیس ججوں کا احتساب ہوناچاہئے تھا،ججوں کی تقرری کئی مرحلوں سے گزرنے کے بعد ہوتی ہے،آج کل پارلیمانی کمیشن اور جیوڈیشل کمیشن کے ذریعے آتے ہیں، پہلے چیف جسٹس فیصلہ کرتے تھے، ججوں کی ہر جگہ سے رپورٹ آتی تھی، ان کی گورنراور وزیراعلیٰ سے بھی رپورٹ لی جاتی تھی۔

وہ وفاقی وزیر جس کی عدم موجودگی پر ماروی میمن آپے سے باہر ہوگئیں، اپنی ہی حکومت کوکھری کھری سنادیں

مزید :

کراچی -