صنعتوں کو ہنر مند افراد کی قلت کا سامنا ہے

صنعتوں کو ہنر مند افراد کی قلت کا سامنا ہے

صنعتوں اور تعلیمی شعبے میں روابط کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ صنعتوں کو ہنرمند افراد کی قلت کا سامنا ہے۔ تعلیمی پالیسیاں اور نصاب کو صنعتی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔انڈسٹری اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مل کر صنعتوں اور تعلیمی اداروں میں روابط قائم کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی ۔

مہارت پر مبنی علم کے ذریعے ملکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ صنعتوں اور تعلیمی شعبوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کر کے ہی ہنر مند افرادی قوت پیدا کی جا سکتی ہے۔

صنعت و تجارت کے میدان میں تعلیمی اداروں کی تحقیق کی روشنی میں نئے خیالات و نظریات کو سامنے لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد اب علمی انقلاب اور نالج بیسڈ( Based Knowledge ) اکانومی کا دور ہے جس میں پاکستان کی ترقی کیلئے تعلیمی اداروں اور صنعتوں میں رابطے کو فروغ دیاجارہا ہے۔

صنعتی اور تعلیمی شعبے کے درمیان مضبوط رابطے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کا اہم ذریعہ ہیں ، ان سے نئے بزنس ماڈل تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی جو ساری دنیا میں بڑی تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔ عصر حاضر میں تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے مابین باہمی اشتراک و تعاون اشد ضروری ہے۔ اس کے بغیر صنعتی و معاشی ترقی ممکن نہیں۔ تعلیمی شعبے کا علم اور تحقیق صنعتوں کے لئے کیسے مددگار ثابت ہوسکتی ہے اس کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ صنعتی و تعلیمی شعبے کے درمیان روابط مستحکم کرنے کے لیے یونیورسٹیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

تعلیم و تربیت کے مروجہ تصورات میں بے پناہ تبدیلی آ چکی ہے۔ جامعات اور اعلیٰ تعلیم ملک و قوم کی صنعتی ، معاشرتی اور معاشی ترقی کا بہترین وسیلہ بن سکتی ہیں۔ انڈسٹری اکڈیمیا لنکجز علاقائی اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یونیورسٹیوں کو مارکیٹ ڈیمانڈ کا حامل ہونا چاہیے نیز قومی صنعتی و معاشی ترقی میں روشن خیال اور جدت پسند کردار کرنا چاہیے۔ صنعتی ادارے وہ مضبوط معاشی اکائیاں ہیں جو ملک کی معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث اور زر مبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں۔ پاکستان کے حالات آج اعلیٰ تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنے کے متقاضی ہیں۔ یونیورسٹیوں کو صنعتوں کے مسائل کے حل کے لیے مربوط کرنا ہے۔ دانش گاہیں صرف تعلیم اور ڈگریاں بانٹنے کے مراکز نہیں ہوتیں بلکہ علوم وفنون کو پروان چڑھانے ،صنعت و ٹیکنالوجی کی ترقی اور اختراعات میں کردار بھی انہی کی قومی ذمہ داری ہوتی ہے۔باوجود تعلیم کے اگر کوئی نوجوان بے روزگار ہے تو اردگرد کے لوگوں میں تعلیم کے حوالے سے منفی تاثر ابھرتا ہے ، اگرہم ترقی یافتہ دنیا میں علم کی تخلیق و دریافت کے عمل کو غور سے دیکھیں تو ہمیں وہاں تعلیمی اداروں اور انڈسٹری میں ایک براہ راست تعلق ملتا ہے 133 سے زائد انڈسٹری تعلیمی اداروں میں مختلف تحقیقات کو سپانسر کرتی ہیں اور تعلیمی اداروں کی دریافت و ایجادات کو انڈسٹری باقاعدگی سے خرید کر اسے عملی میدان میں کام میں لاتی ہے ۔ پاکستان میں جب تک تعلیمی اداروں کا انڈسٹری سے باقاعدہ تعلق وجود میں نہیں آئے گا تعلیم کا معاشی میدان میں فائدہ صفر ہی رہے گا۔

مستقبل کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم جامعات اور صنعتوں کے درمیان علمی و تکنیکی ربط کتنا مضبوط کر پاتے ہیں۔ تمام یونیورسٹیوں کو اپنے اپنے علاقے کی مقامی صنعتوں کے ساتھ اشتراک قائم کر کے اس کے فروغ کی کوششوں میں حصہ ڈالنا ہو گا۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان دونوں ممالک نے انڈسٹری اکیڈیمیالنکجز کو مضبوط بنا کر بے پایاں ترقی کی ہے۔ بلا شبہ صنعتوں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے روابط کو پختہ کر کے ہی یونیورسٹیاں نالج اکانومی میں حصہ دار ہوسکتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کو صنعتی ترقی میں مشاورتی ادارے کا کردار بھی ادا کرنا ہو گا۔ صنعتی ترقی اور علم کی بنیاد پر معیشت کے خدوخال ترتیب دینے اور سنوارنے میں ریاستی اداروں کو ان دونوں شعبوں میں پائے جانے والے اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ دنیا بھر میں انڈسٹری اکیڈیمیا لنکجز کا تصور کامران و کامیاب رہا ہے۔

ہمیں زمینی حقائق کا کھلے دل سے جائزہ لے کر آگے بڑھنا ہے۔ یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے خود صنعتی طبقے سے روابط قائم کریں۔صنعت کاروں کو بھی چاہیے کہ وہ ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کو فروغ دینے کیلئے ریسرچرز کی رہنمائی کریں۔ یونیورسٹیوں میں ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے کلچر کے فروغ کیلئے حکومت اور صنعتکاروں کی طرف سے بھرپور تعاون اور معاونت کی ضرورت ہے۔کئی ممالک میں صنعتی ترقی ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے شعبہ کے فروغ سے ہی ممکن ہوئی۔تاجروں،طلباء ،منیجرز ،انجینئرز اور معاشی منصوبہ دانوں کو جدیددور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوناچا ہیے۔تحقیقاتی اقدامات سے تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی جس کا فائدہ ملکی معیشت کو پہنچے گا۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں کو مستحکم اور فعال کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ صنعتوں اور علمی اداروں کے باہمی تعاون کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا ہے مگر آج صنعت و تعلیم کے پیشہ ور ماہرین اس کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ اس عمل کو تیز کرنے اور قومی معاشی ترقی میں نیک نیتی سے حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

ایک رائے کے مطابق یونیورسٹیوں کا کام تعلیم دینا ہے، انہیں روزگار کے لیے تیار کرنا نہیں۔ یہ کام پروفیشنل یونیورسٹیوں یا ٹیکنیکل ادارے کا ہوتا ہے، وہ ٹریننگ کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کا بنیادی مقصد طلبہ کو زمانے کی ضروریات کے مطابق علم مہیا کرنا اور ان میں وہ صلاحیت بیدار کرنا ہے جس کے ذریعے وہ کسی بھی ادارے میں ایڈجسٹ ہو کر اس کی ترقی کا باعث بنیں۔نوجوان بے روزگار کیوں ہیں ،اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اداروں میں کامیابی سے کیوں نہیں چل رہے؟ جب ہم یہ سوال اْٹھاتے ہیں تو ہمارے پاس اس کا کوئی معقول جواب نہیں ہوتا، جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مختلف اداروں کے فارغ التحصیل اداروں کے طالب علموں میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہوتی جس کی سوسائٹی کو ضرورت ہے۔ نان ٹیکنیکل تعلیم دینے والی یونیورسٹیاں مستقبل میں مزید پیچھے رہ جائیں گی۔

نوجوان کے پاس کسی جاب پر سیٹ ہونے کے لئے معیاری تعلیم کے علاوہ اس ذہنی صلاحیت بیدار ہونا ضروری ہے جو اسے اس عہدے پر قائم ودائم رکھ سکے۔ اہم بات نوکری ڈھونڈ لینا نہیں بلکہ اہم بات اس نوکری پر اپنی تقرری کو درست ثابت کرنا ہے۔ طلبہ و طالبات کی ڈگریاں برانڈ بنتی جا رہی ہیں۔ یونیورسٹیاں ڈگریوں کو ایسے پاسپورٹ میں تبدیل کر رہی ہیں جن کی مدد سے وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے کسی بھی ادارے یا کسی بھی کمپنی میں سکون کے ساتھ نوکری کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں اگلے چند سالوں میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے، مگر اس کے لئے شاید مطلوبہ تعداد میں طالب علم موجود نہیں ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ جامعات اور صنعتوں کا تعلق مضبوط بنا کر ان کے درمیان روابط بڑھائیں جائیں۔

انڈر گریجویٹ طالبعلموں کو بتایا جائے کہ سائنسی تحقیق کیا ہوتی ہے؟ اور سائنسی فکر کسے کہتے ہیں۔اساتذہ اور فیکلٹی ماہرین کو مسلسل نئے علوم اور ٹیکنالوجی سے آگاہ رکھنے کے مواقع پیش کئے جائیں اور اس سلسلے میں سرخ فیتوں اور سرکاری مداخلت کو ختم کرکے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اظہار، سوچ اور فکر کی آزادی بہت ضروری ہے جس کے بغیر سائنسی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ہمیں نئے نظریات تصورات کو اپنانے میں گھبرانا نہیں چاہئے۔ سائنسی تحقیق اور تدریس کو قومی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں قومی سائنس پاٍلیسی نا گزیر ہو۔ پاکستانی سائنسدان اب بھی کانفرنسوں میں شرکت کے لئے یا کسی علمی دورے کے لئے وزیر، مشیر اور افسروں کی اجازت کے محتاج ہیں، جسے ختم ہونا چاہئے۔ضروریات کی مطابقت سے تحقیقی کام ہونا چاہیے جس سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ محقق اپنا تحقیقی کام براہِ راست صنعتوں کو دے سکیں گے۔ تعلیمی شعبہ صنعتوں کی ضروریات سے مکمل آگاہی حاصل کرے تاکہ مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے میں مدد مل سکے۔ یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ صنعتوں کے لیے فائدہ مند پراجیکٹس تیار کریں۔

یونیورسٹیوں کو چاہئے کہ محض تحقیق کروانے کی بجائے اطلاقی تحقیق کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ تحقیقی اداروں میں نجی شعبے کو نمائندگی دینے کی ضرورت ہے۔حکومت ایک اینوویشن فنڈ قائم کرکے یونیورسٹیوں کو زیادہ سے زیادہ فنڈ نگ کرے۔ یونیورسٹیوں میں 7000 میں سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں صرف 10 یا 15 پی ایچ ڈی ہیں۔ ان میں اضافہ ہوناچاہئے۔ حکومت کو چاہئے، ملک کے ہر بڑے شہر میں انڈسٹریل پارک بنائے تاکہ ملک کی ایکسپورٹ میں اضافہ کیاجاسکے۔ سوشل میڈیا اور مارکیٹنگ، سکالرز کی مزید تربیت، ان کے تحقیقی کام کی اشاعت و فروغ اور یونیورسٹیوں اور صنعتوں کا باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

صنعتی اور کاروباری اداروں کو تربیت یافتہ افرادی قوت کا عنصر خشت اول کا درجہ رکھتا ہے جب تک ان اداروں کو تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم نہیں کی جاتی اس وقت تک وہ صنعتی سرگرمیوں کو نہ فروغ دے سکتے ہیں اور نہ ہی معاشرے سے بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔ جب صنعتی ترقی ممکن نہ ہوگی تو نہ صرف بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ مکمل برآمدات کا فروغ بھی ممکن نہ ہوسکے گا اور زرمبادلہ میں اضافے کا خواب بھی ادھورا رہ جائیگا۔ گویا یہ ایک ایسا عمل ہے جو پوری قومی معیشت کے استحکام اور فروغ اور عوام کی خوشحالی میں ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ زرعی شعبہ کو اہمیت دیکر دیہی اور شہری علاقوں میں فنی تعلیم و تربیت کے رجحان کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی بے روزگاری کی شرح میں اضافہ اورنوجوان نسل کے مسائل کے حل کیلئے یہ سارے اقدامات ناگزیر ہیں اس لئے کہ صنعتی ترقی کے لئے فنی تعلیم و تربیت کا فروغ ناگزیر ہے۔ اس کے لئے خصوصی نصاب تعلیم کی ترویج بھی خشت اول کا درجہ رکھتی ہے۔

***

مزید : ایڈیشن 1