بچوں کی مفت تعلیم میں فلاحی اداروں کی خدمات

بچوں کی مفت تعلیم میں فلاحی اداروں کی خدمات

تعلیم کا حصول بچوں کا بنیادی حق ہے اور ریاست کا فریضہ بھی ہے پاکستان میں پسماندگی دور کرنے کے لئے معیاری ، سستی ، اور جگہ تعلیم پہنچانا بہت ضروری ہے،ملکی بنیادوں کو مضبوط اور قوم کو استحکام دینے کے لئے بنیادی ضروریات کے علاوہ ایجوکیشن اہم عنصر ہے اگرچہ سرکاری سکولز، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں روایتی طریقہ عرصہ سے تعلیم کا عمل جاری ہے لیکن پنجاب پیف نے نچلی سطح تک فروغ تعلیم کے لئے جو کردار اداکیا ہے معاشرہ کی شراکت سے کوالٹی ایجوکیشن کو یقینی بنایا ہے۔ تعلیم کے علاوہ سیلاب زدہ سکولوں کی بحالی، چلڈفرائنڈلی سکولنگ، لیبارٹری ، کمپیوٹرکی خریداری پر آسان قرضہ، کچی آبادیوں میں مفت تعلیم کے منصوبے، خارج شدہ سکول نہ جانے والے بچوں کی تعلیم یقینی بنانا ، طلباء کی ماہانہ فیس ، کتب کی مفت فراہمی ، جنوبی پنجاب میں تعلیم عام کرنا، چولستان 75فیصد غیررسمی تعلیمی اداروں کو اپنانا، کوالٹی ایجوکیشن ٹیسٹ متعارف کروانا،ایک لاکھ40 ہزاراساتذہ کی اہلیت، تربیت ودیگر کارہائے نمایاں شامل ہیں۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کم وسیلہ اور معاشی تنگ دستی کی بناء پر حصول تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم بچوں کو مفت و معیار ی تعلیم کی فراہمی کا سب سے بڑا فلاحی منصوبہ ہے جس کی اافادیت اور ہمہ گیریت کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب کے زیر انتظام یہ فاؤنڈیشن1991سے نجی شعبہ کے سکولوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبہ کے 36اضلاع میں27لاکھ سے زائد ضرورت مند طلباء وطالبات کواپنے 7590 پارٹنرسکولوں میں ایجوکیشن ووچر سکیم اور دوسرے مالی اعانت پر مشتمل پروگراموں کے تحت معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ پیف پارٹنر سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکوں کی تعداد کا تناسب 55جبکہ لڑکیوں کا تناسب 45 فیصد ہے۔اسی طرح 67فیصد پارٹنر سکول جنوبی پنجاب میں واقع ہیں۔مزید برآں جنو بی پنجاب کے تین اضلاع بہاول پور ،بہاول نگراور رحیم یار خان پر محیط چولستان کے ٹوبہ جات پر آبادگھرانوں کی سہولت کے لیے موبائل سکولز کا منفر د منصوبہ چولستان میں معصوم بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ایک کاوش ہے۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن پارٹنر سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے بطور ماہانہ فیس فی طالبعلم 550 روپے برائے پرائمری لیول،600روپے برائے مڈل لیول، 900 روپے سیکنڈری لیول برائے آرٹس مضامین اور سائنس مضامین کے لیے 1100روپے ما ہانہ ادا کیے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ 1200روپے ہائیر سیکنڈری لیول آرٹس جبکہ سائنس مضامین کے لیے 1500روپے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے فی طالب علم ماہانہ بنیاد پر اداکیے جاتے ہیں۔مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ پیف سے الحاق شدہ سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو نصابی کتب بھی پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے بلامعاوضہ فر اہم کی جاتی ہیں۔قواعدو ضوابط اور معاہدہ شراکت داری کی رو سے پارٹنرسکول انتظامیہ طالب علموں سے داخلہ فیس ،پیپر منی یا جرمانہ وغیرہ الغرض کسی بھی مد میں کوئی رقم وصول کرنے کی مجاز نہیں۔

پیف نے اپنے پارٹنر سکولوں میں معیاری تعلیم کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی منظم اور مالیاتی کنٹرول میکنزم کے ساتھ ساتھ مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی سطح پر مانیٹرنگ کا مربوط نظام قائم کر رکھا ہے۔ تمام پارٹنر سکولوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ پارٹنر سکولوں کاانفرا سٹرکچر ،طالب علموں کو فراہم کردہ فرنیچر ، پینے کا صاف پانی،ہوادار کلاس روم،روشنی کا مناسب انتظام اور ٹائلٹس کی صفائی وغیرہ جیسی اہم سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔حاضری اورامتحانی عمل میں شفافیت کے لیے طالب علموں کا ریکارڈجدید ترین سٹوڈنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے محفوظ کیا جاتا ہے۔

معیاری تعلیم کی فراہمی تربیت یافتہ اساتذہ اور ہیڈ ٹیچرز کی بدولت ہی ممکن ہے۔ اس ضمن میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مفت تربیتی پروگرام کے توسط سے گزشتہ دو سالوں کے دوران 27,439 ہزار سے زائد اساتذہ ، ہیڈ ٹیچرز او ر پرنسپل صاحبان کی پیشہ ورانہ تربیت کی گئی ہے۔ ابتدائے بچپن کی تعلیم کے منصوبہ کے تحت پنجاب کے سات اضلاع ٹوبہ ٹیک سنگھ، لاہور، جھنگ، رحیم یار خان بہاولپور، بہاول نگر، ڈیرہ غازیخان اور راجن پور میں 455 پارٹنر سکولوں میں 23,788 بچے مستفید ہو رہے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1