پی پی اے ایف کی صوبہ سندھ کی مشاورتی کمیٹی نے کام کا آغاز کردیا

پی پی اے ایف کی صوبہ سندھ کی مشاورتی کمیٹی نے کام کا آغاز کردیا

لاہور ( پ ر)سندھ میں پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) کی پبلک ایڈوائزری کمیٹی (پی اے سی۔سندھ) کا پہلا اجلاس منگل کو ہوا جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے شامل کمیٹی اراکین، پی پی اے ایف بورڈ اور تعلیم اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کا آپس میں تعارف ہوا۔ افتتاحی اجلاس میں صوبے میں ترقیاتی کاموں کی ضروریات اور پی پی اے ایف کے منتخب پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی ضرورت سے متعلق پی اے سی کے کام کا دائرکار طے کیا گیا۔ اس میں صحت و غذائیت، تعلیم، روزگار اور مالیاتی خدمات کی فراہمی پر توجہ شامل ہے۔ پی اے سی سندھ کے اجلاس کی سربراہی ڈائریکٹر پی پی اے ایف ڈاکٹر اعجاز احمد قریشی نے کی ۔

جن کے ہمراہ ڈائریکٹر پی پی اے ایف اور زیبسٹ کراچی کی سیکریٹری بورڈ آف ٹرسٹیز ڈاکٹر سلیمان شیخ، پی پی اے ایف کی جنرل باڈی کی رکن اور انڈس ریسورس سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر صادقہ صلاح الدین کے ہمراہ سندھ حکومت کے پلاننگ و ڈیولپمنٹ، صحت اور سوشل ویلفیئر کے محکمہ جات کے نمائندے شامل تھے۔

سول سوسائٹی/نجی شعبہ کے نمائندوں میں اینگرو فاؤنڈیشن کے ہیڈ فواد سومرو، آغا خان یونیورسٹی کراچی کے بیہیوریل اینڈ ریسرچ سائنسز کی ہیڈ کوثر ایس خان اور پی پی اے ایف کی کوالٹی ایشورنس اینڈ ریسرچ ڈیزائن کی سینئر گروپ ہیڈ اور پی پی اے ایف کی صوبائی کوآرڈینیٹر سامعہ لیاقت علی خان شامل ہیں۔ افتتاحی پیغام میں چیئرمین پی اے سی سندھ ڈاکٹر اعجاز احمد قریشی نے تخفیف غربت کی اہمیت پر زور دیا اور واضح کیا کہ پی پی اے ایف نے صوبے میں اس کام کے لئے صوبائی حکومت اور سول سوسائٹی کی شمولیت سے پی اے سی اقدام کی ذمہ داری اٹھائی ہے، تاکہ ماہرین کی آراء کی روشنی میں براہ راست پروگرامز، اشتراک اور رابطوں کے ذریعے سندھ میں مزید نتیجہ خیز اثرات لائے جائیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ 18 ویں ترمیم کی روشنی میں صوبائی سطح پر حکومتوں کے ساتھ رابطے بہتر بنائے جائیں۔ اجلاس کے مرکزی سیشن میں صوبے کی ترقی کے حوالے سے توجہ دی گئی۔ سامعہ لیاقت علی خان نے ماضی میں ترقیاتی کاموں میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے پی پی اے ایف کے کردار پر روشنی ڈالی اور مستقبل کی پالیسیوں کے لئے موجود خلا کو بھرنے کے لئے دستیاب مواقع کو اجاگر کیا۔ 24 اضلاع میں 25 شراکتی اداروں کے ساتھ پی پی اے ایف کا 31 ہزار 33 کمیونٹی اداروں، 3 ہزار 495 گاؤں کی تنظیموں اور 111 مقامی معاون تنظیموں کا وسیع اور گہرا نیٹ ورک ہے۔ دوسرے روز مشاورتی ورکشاپ منعقد ہوئی جو پی پی اے ایف کے شراکتی اداروں کے نمائندوں اور کراچی میں مقیم SUN-CSAکے اراکین پر مشتمل تھی۔ اس موقع پر چار خصوصی شعبوں کے ساتھ ورکشاپ میں صحت و غذائیت، آمدن، تعلیم، پانی اور مالیاتی خدمات کو ترجیح دے کر ترقیاتی شعبہ کے طریقے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مزید : کامرس