نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام میڈیا کے لئے صوبائی تعارفی ورکشاپ

نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام میڈیا کے لئے صوبائی تعارفی ورکشاپ

لاہور( پ ر)نیوٹریشن انٹرنیشنل (NI) کے زیر اہتمام ، پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں ڈائریا (diarrhea)سے بچاؤاور دیکھ بھال سے متعلق عوام میں آگاہی کے فروغ کے لیے، صحافی برادری اور میڈیا کے لئے صوبائی سطح پر ایک تعارفی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ورکشاپ کا بنیادی موضوع بچوں کی نشوونما پر غذائیت اور ڈائریا کے نقصان دہ اثرات تھے۔اس ورکشاپ کا مقصد حاضرین کو مؤثرمعلومات کی فراہمی اور اس کے نتیجے میں تبدیل ہوتے ہوئے رویوں کے لیے میڈیا کے استعمال میں احساس پیدا کرنا تھا۔ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد بچوں میں ڈائریا کے اثرات کے بارے میں صحافی برادری کی معلومات میں اضافہ کرنا اور اس بات کو اجاگر کرنا تھا کہ ڈائریا سے تعلق رکھنے والے کیسوں کی مؤثر رپورٹنگ کے ذریعے صحافی برادری کس طرح عوام کی آگاہی میں اضافے اور ضروری انسدادی اقدامات اختیار کرنے کے لیے عوام کو تعلیم دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔شعبہ صحت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر وقار محمود نے ذاتی طور پر اس تقریب میں شرکت کی اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کی اُن کاوشوں کو سراہا جن کے ذریعے عوام کو ڈائریا جیسے امراض سے بچاؤ کی تدابیر سے آگاہ کیا جاتا ہے۔مہمان خصوصی نے کہا کہ؛ ’’ڈائریا کے متاثرین کی تعداد اور اس مرض کے باعث ہونے والی سالانہ اموات میں مسلسل اضافہ کے حوالے سے پاکستان دنیا میں ساتویں نمبر پر آتا ہے۔لہٰذا ، پاکستانی عوام کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ بچوں کی صحت مند نشوونما اور غذائیت کی اہمیت کو سمجھیں۔

اور ایسی بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات سے بچاؤ کے لئیمؤثر اقدامات کریں۔‘‘اس موقع پریہ ذکر بھی ضروری ہے کہ؛ میڈیا سائنس ، جدید طبّی شعبہ اور بچوں کی حفاظتی ویکسین ادویات میں شاندار ترقی کے باوجود، پاکستان میں اب بھی ایسی قابل علاج بیماریوں سے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے،حالانکہ ڈائریا جیسے امراض سے تحفظ اب نہایت آسان ہو چکاہے۔اپنے خطاب میں نیوٹریشن انٹرنیشنل کی صوبائی منیجر، ڈاکٹر فاطمہ سعد نے بچوں کی صحت ، اور بالخصوص ڈائریا ،سے متعلق پروگراموں کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ نیوٹریشن انٹرنیشنل سندھ میں لیڈی ہیلتھ وزیٹرز پروگرام کے تعاون سے معلومات میں اضافے کا پروگرام منعقد کر رہی ہے تاکہ ڈائریا کے دوران کمOsm ، ORS اور زنک کے استعمال کے بارے میں اعانت فراہم کی جا سکے۔معلومات میں اضافے اور سازو سامان کی فراہمی کے ذریعے خدمات کو بہتر بنانے اور علامتوں کو فروغ دینے کے لیے نیوٹریشن انٹرنیشنل کا کام متعارف کراتے ہوئے انہوں نے بچوں کی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے اور دیگرغیرسرکاری ایجنسیوں کے لیے میڈیا کی اعانت پر زور دیا۔نیوٹریشن انٹرنیشنل کم مراعات یافتہ آبادیوں سے تعلق رکھنے والے بچوں اور خواتین میں پوشیدہ بھوک سے نمٹنے کے لیے فورٹیفکیشن اور سپلیمنٹیشن پر کام کر رہی ہے۔ نیوٹریشن انٹرنیشنل کی گزشتہ اور مستقبل میں کاوشوں کا مقصدوفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔پروگرام کے دوران نیوٹریشن انٹرنیشنل کے کنسلٹنٹ نے ڈائریا پر ایک سیشن منعقد کیا کہ یہ بیماری کس طرح بچوں کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس سیشن میں بچوں میں ڈائریا سے بچاؤ، علاج کے لیے خصوصی اقدامات، علامات اور سائنسی معلومات فراہم کی گئیں۔پریزینٹیشن کے اختتام پر ایک مباحثہ ہوا جس میں بچوں کی صحت سے متعلق تیکنکی ماہرین ، جن میں سول اسپتال کے پروفیسر ایم این لال ، یونیسیف کے ڈاکٹر کمال اصغر اور آغا خان یونیورسٹی کے جناب زاہد میمن نے میڈیا کی جانب سے کیے گئے سوالات کے جوابات دئیے۔اس موقع پر نیوٹریشن انٹرنیشنل کے نیشنل پروگرام کوآرڈینیٹر

برائے سندھ، جناب یاسین بھی موجود تھے۔سیشن کے اختتام پرپرائمری ہیلتھ کیئر اور فیملی پلاننگ سندھ کی جانب سے صوبائی منیجر برائے نیشنل پروگرام، ڈاکٹر غلام حسین نے اختتامی کلمات کہے۔ انہوں نے دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے والوں کی معلومات بہتر بنانے میں میڈیا اور بالخصوص ماس میڈیا کی اہمیت پر زور دیا۔اس کے علاوہ، انہوں نے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، مثلاً لیڈی ہیلتھ ورکرز کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جو کمیونٹیز کی سطح پر معلومات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔علاوہ ازیں، لیڈی ہیلتھ ورکر ز کی محنت کو اجاگر کرنے میں بھی میڈیا غیر معمولی کردار ادا کرسکتا ہے اور اس طرح ہر گھر تک پہنچنے کے سخت کام کے لیے انہیں تحریک مل سکتی ہے۔ اس فاصلہ کو کم کرنے میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’’میڈیاپاکستان میں مختلف معاملات کو سامنے لاتا رہا ہے اور لوگوں کی توقعات کے مطابق مزید مسائل کوسامنے لائے گا۔ میڈیا کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ عوام کو ہیلتھ کیئر کے بارے میں تعلیم دے۔ ڈائریا کے بارے میں رپورٹنگ کی فریکوئنسی میں اضافے اور مواد کی اشاعت کے ذریعے معلومات کی فراہمی میں، جس میں اہم پیغام بچاؤ کے اقدامات ہوں، میڈیا نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘پاکستان کے مختلف میڈیا ہاوسز سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے بڑی دلچسپی کے ساتھ ورکشاپ میں شرکت کی۔

مزید : کامرس