سندھ بلوچستان کا پانی چوری کر رہا ہے ، قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سیکورٹی چیئر مین ارسا کا الزام

سندھ بلوچستان کا پانی چوری کر رہا ہے ، قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سیکورٹی چیئر ...

اسلام آباد (آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی میں چیئرمین ارسا نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ بلوچستان کا پانی چوری کر رہاہے سندھ کی جانب سے پانی تقسیم فارمولے پر اعتراض پر کمیٹی نے معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کی ہدایت کر دی چیئرمین کمیٹی کا چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹر یوسف ظفر نے گزشتہ دو سال میں 20 بیرونی ممالک کے دوریپر شدید برہمی۹ کا اظہار دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی غذائی تحفظ و ریسرچ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیدمظفر حسین شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا ، اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹر یوسف ظفر نے گزشتہ دو سال میں 20 بیرونی ممالک کے دورے کیے ، جس پر چیئرمین کمیٹی سید مظفر حسین شاہ نے شدید برہمی کا اظہار کر تے ہوئے کہاکہ اتنے دورے تو وزیر خارجہ نہیں کرتاجتنے دورے چیئرمین پی اے آر سی نے کر لیے ، چیئرمین پی اے آر سی آئندہ تین دن میں ان دوروں کی تفصیلات اور رپورٹ فراہم کریں اور ایک ہفتے میں بیج کی ورائٹیاں جو ایجا د کی گئی ان کی تفصیلات بھی دیں ، اگر کاشت کار انڈ یا سے بیج درآمد کر رہا ہے تو پی اے آر سی کیا کر رہی ہے ۔کاٹن کمشنر نے اجلاس میں بتایا کہ پانی کی قلت کے باعث کپاس کی 3.5ملین بیلز کی شارٹ فال کا سامنا ہو سکتا ہے ، جس پر انڈ س ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا) کی جانب سے بتایا گیا کہ ربیع کے سیزن میں 38فیصد تک پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم اگر بارشیں نہ ہوئی تو یہ کمی 45فیصد تک جا سکتی ہے،حریف کے سیزن میں سندھ کو اپنے شیئر سے 15 فیصد، پنجاب 20 ،کے پی کے 34 اور بلوچستان کو 41 فیصد پانی کی قلت کا سامنا رہا، چیئرمین ارسا شیر زمان خان نے یہ الزام ابھی عائد کر دیا کہ بلو چستان کو اس کے حصے سے کئی گنا کم پانی ملتا ہے ، اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے ، کمیٹی کو بتایا گیا کہ پلانٹ بریڈ ر ز رائٹ ایکٹ کے تحت تاحال کوئی رجسٹری کے قیام کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ، پلانٹ بریڈ ر ز رائٹ ایکٹ کے تحت رجسٹری کے لیے آسامیاں منظوری کے لیے وزارت خزانہ کو بھیج دی ہیں، کمیٹی نے وزار ت غذائی تحفظ کو ہدایت کی کہ کپاس اور گندم کی کونسی ورائٹی کس علاقے کیلئے موزوں ہے، موزوں بیج کی ورائٹی پر بروشر چھپوا کر کاشتکاروں میں تقسیم کریں، اس موقع پر رجسٹری کے قیام کے لیے آسامیوں کی منظوری کرانی ہے فنانس سے منظوری کے بعد پلانٹ بریڈرز رجسٹری قائم کریں گے۔

قائمہ کمیٹی

مزید : علاقائی