سرگودھا،بڑی بہن نے جائیداد سے 2چھوٹی بہنوں کا حصہ ہڑپ لیا ، متاثرین سراپا احتجاج

سرگودھا،بڑی بہن نے جائیداد سے 2چھوٹی بہنوں کا حصہ ہڑپ لیا ، متاثرین سراپا ...

سرگودھا(بیورو رپورٹ) خون سفید ہو گیا، بڑی بہن نے دو چھوٹی بہنوں کو وراثت میں حصہ دیئے بغیر جائیداد اپنے نام کروالی، عدالتی حکم امتناعی کے باوجود پولیس کی مدد سے مکان پر قبضہ کرنے کی کوشش پر خواتین اور اہل علاقہ سراپا احتجاج بن گئے اور ساہیوال پولیس کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ نواحی قصبہ آڑو والا کی متاثرہ بہنوں نسرین بی بی، نسیم بی بی اور ساتھیوں احمد شیر، محمد شیر، محمد اقبال، غضنفر نوید، محمد ممتاز، محمد فیاض، غلام نبی، محمد ریاض، منظر عباس، رمیز سلطان، محمد اقبال، شیر محمد، محمد گلزار، محمد ممتاز و دیگر سینکڑوں افراد نے پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مقبول بی بی نے محکمہ مال، محکمہ ریونیو کی ملی بھگت سے اپنی چھوٹی بہنوں نسرین بی بی اور نسیم بی بی کو حصہ دیئے بغیر ساری جائیداد جعلسازی سے اپنے نام انتقال کرا لی، جس پر نسیم بی بی اور نسرین بی بی نے عدالت سے رجوع کر کے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے، با اثر خاتون مقبول بی بی نے پولیس کی ملی بھگت سے اپنی چھوٹی بہنوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے اور ان کے خلاف یکے بعد دیگرے کئی جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں، اور ان کے رشتہ داروں کو ساہی وال پولیس ہراساں کر رہی ہے کہ وہ مکان کا قبضہ مقبول بی بی کو دیں۔ ایس ایچ او ساہی وال (سرگودھا) نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ نسرین بی بی اور نسیم بی بی کے گھر پر دھاوا بول دیا اور انہیں اسلحہ کے زور پر گھر سے باہر نکال کر عدالتی حکم امتناعی کے باوجود گھر پر دو پولیس اہلکار بٹھا دیئے، اہل علاقہ کی مداخلت پر پولیس واپس چلی گئی اور اگلے روز نسیم بی بی، نسرین بی بی اور انکے ساتھیوں کے خلاف مکان پر قبضے کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا جس پر متاثرہ خواتین اور ان کے رشتہ دار و اہل علاقہ کے سینکڑوں افراد سراپا احتجاج بن گئے اور تھانہ ساہی وال پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقعہ پر متاثرہ خواتین کا کہنا تھا کہ اگر ساہی وال پولیس نے ظلم و زیادتی کا یہ سلسلہ بند نہ کیا تو وہ ڈی پی او آفس یا پنجاب اسمبلی کے باہر خود تا دم مرگ بھوک ہڑتال کریں گی۔

 

مزید : علاقائی