غیر سیاسی پولیس کی خواہش اور سیاسی احکامات 

غیر سیاسی پولیس کی خواہش اور سیاسی احکامات 

پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے چیئرمین ناصر خان درانی نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے،انہوں نے یہ استعفا پنجاب کے آئی جی محمد طاہر کے تبادلے کے باعث دیا،جس کا الیکشن کمیشن نے فوری طور پر نوٹس لے کر یہ تبادلہ رکوا دیا ہے اور تبادلے کے حوالے سے دو روز کے اندر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے وضاحت طلب کی ہے، ناصر درانی نے آئی جی کے تبادلے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ ناصر خان درانی کو پنجاب میں پولیس اصلاحات کا خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا،جس پر وہ کام کر رہے تھے،اُنہیں یہ خدمت صوبہ خیبرپختونخوا میں اُن کی بطور آئی جی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سونپی گئی تھی اور اُنہیں یقین دلایا گیا تھا کہ پولیس کے کام میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی۔

پنجاب کے آئی جی محمد طاہر کو اچانک تبدیل کر کے اُن کی جگہ نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ امجد جاوید سلیمی کو نیا آئی جی مقرر کر دیا گیا تھا،لیکن اِس حکم کو الیکشن کمیشن نے اِس بنا پر معطل کر دیا ہے کہ ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں، اِس لئے اِس دوران کسی افسر کا تبادلہ نہیں ہو سکتا،اگر الیکشن نہ ہو رہے ہوتے تب بھی آئی جی کا اِس انداز میں آناً فاناً تبادلہ سپریم کورٹ کے احکامات سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ تبادلہ کر کے اُن حدود و قیود کو عبور کیا گیا،جو سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی کے تبادلے کے سلسلے میں اے ڈی خواجہ کیس اور سپریم کورٹ نے انیتا تراب کیس میں متعین کر رکھی ہیں۔موخر الذکر میں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ سرکاری ملازمین کو سیاست سے بچایا جائے، عہدے کی میعاد، ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ جب قانون اور اصولوں کے مطابق کسی عہدے کی میعاد مقررکر دی جائے تو اس کا احترام کرنا چاہئے اور اس میں تبدیلی نہیں کرنا چاہئے، ماسوائے اس کے کہ اس کے لئے کوئی ٹھوس وجوہ موجود ہوں اور اگر ایسی کوئی وجوہ موجود ہوں تو اُن کو ریکارڈ پر سامنے لانا چاہئے اور عدلیہ ان کا جائزہ لے سکتی ہے۔ اِسی طرح سندھ ہائی کورٹ نے اے ڈی خواجہ کیس میں حکومت کو اِس بات کا پابند کیا کہ وہ انیتا تراب کیس پر عمل کرے، جس کے تحت آئی جی کو اُن کے عہدے پر تقرر سے تین سال پہلے نہیں ہٹایا جا سکتا، سندھ حکومت نے دو مرتبہ اے ڈی خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی تھی، لیکن سندھ ہائی کورٹ نے اُنہیں اپنے عہدے پرکام کرتے رہنے کی ہدایت کی تھی۔ یہ فیصلہ چند شہریوں کی درخواست پر سنایا گیا تھا۔

یہ سوال اہم ہے کہ ایک ماہ کے اندر ہی وہ کیا ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ ایسے آئی جی کو عہدے سے ٹرانسفر کر دیا گیا،جو خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت میں اس دور میں خدمات انجام دے چکا تھا،جس کے بارے میں مشہور ہے کہ پولیس کی خدمات کے حساب سے یہ صوبہ مثالی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔خیبرپختونخوا میں پولیس اصلاحات کا آغاز ناصر درانی نے کیا تھا اور غالباً اُن کی انہی خدمات سے متاثر ہو کر اُنہیں پنجاب میں پولیس اصلاحات کمیشن کا چیئرمین لگا دیا گیا تھا،اُن سے یہ توقع کی گئی تھی کہ وہ پنجاب میں بھی ویسی ہی پولیس اصلاحات کریں گے جیسی انہوں نے خیبرپختونخوا میں کیں۔اب اگر ایک ماہ بعد ہی اُنہیں استعفا دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے تو خیال کیا جا سکتا ہے کہ اس کی وجہ پولیس کے کام میں مداخلت اور آئی جی کا تبادلہ ہی ہو سکتا ہے۔محمد طاہر خان کے تبادلے کے بارے میں وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ طاہر خان کو ذمے داری پوری نہ کرنے پر ہٹایا گیا،انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اُنہیں آخر ایسی کون سی ذمے داری دی گئی تھی، جو پوری نہیں کی گئی، ویسے بہتر ہوتا کہ وہ اس ’’ذمے داری‘‘ کی تفصیل بھی بتا دیتے، جو انہوں نے پوری کرنے سے گریز کیا،لیکن ایسی صورت میں تو آئی جی سمیت کسی بھی افسر کو شوکاز نوٹس دینا چاہئے کہ انہوں نے کیوں فلاں فلاں ذمے داری پوری نہیں کی اور اگر متعلقہ افسر تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔

میڈیا میں جو قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اُن کے مطابق آئی جی طاہر خان نے ماڈل ٹاؤن کیس میں ملوث قرار دیئے جانے والے بعض افسروں کے خلاف وہ کارروائی نہیں کی، جو حکومت چاہتی تھی۔ اُن کا موقف تھا کہ یہ وہ افسر ہیں،جنہیں جے آئی ٹی نے کلیئر قرار دیا ہے اور وہ سانحہ کے سلسلے میں کسی طرح بھی ذمے دار نہیں ٹھہرائے گئے۔اب سوال یہ ہے کہ آئی جی نہیں مانے تو اس میں اُن کا قصور کیا ہے؟ یہ تو وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے عین مطابق ہے، جن کا فلسفہ ہے کہ پنجاب کی پولیس تباہ ہی اِس لئے ہوئی ہے کہ اس کے کام میں سیاسی مداخلت کی جاتی رہی، اب اگر عمران خان کے اپنے عہد میں آئی جی کو ایسے احکامات ملیں گے کہ فلاں فلاں افسر کو تبدیل کر دیا جائے اور آئی جی یہ دیکھے گا کہ ان افسروں کو آخر کسی قصور کے بغیر کیوں تبدیل کر دیا جائے اور ان غیر قانونی احکامات پر عمل نہیں کرے گا تو پھر اُسے تبادلے کی صورت میں سزا نہیں،بلکہ تعریفی سرٹیفکیٹ ملنا چاہئے کہ اس نے غیر قانونی سیاسی حکم نہیں مانا،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی مداخلت بند کرنے کا محض نعرہ لگایا جا رہا ہے،حکومت کو عملی طور پر ایسی صورتِ حال مطلوب نہیں ہے،جس میں ایک پولیس افسر ایسا سیاسی حکم ماننے سے بھی انکار کر سکے،جو حکومت کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لئے دیا جاتا ہو۔

پنجاب میں پاکپتن ڈی پی او کیس بھی موجودہ آئی جی سے پہلے ہو چکا تھا اس میں بھی معاملہ ’’سیاسی دباؤ‘‘ کا ہی تھا، کیونکہ ڈی پی او اور اس کے ساتھی افسر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں بُلایا گیا تھا، جہاں ایک غیر متعلقہ شخص نے اس پولیس افسر کے ساتھ ایسا مکالمہ کیا،جس کا اُسے کوئی اختیار ہی نہیں تھا یہ شخص اگر وزیراعلیٰ کا دوست یا قریبی عزیز بھی تھا تو بھی قانون کی نگاہ میں ایسا اجنبی تھا جسے ڈی پی او کی ’’جواب طلبی‘‘ کا اختیار نہیں تھا،لیکن اس نے وزیراعلیٰ کی موجودگی میں یہ عمل دہرایا،اور دھمکیاں بھی دیں، جس کی باز گشت سپریم کورٹ میں سُنی گئی اور بالآخر وزیراعلیٰ عثمان بزدار، سابق آئی جی کلیم امام اور ڈی پی او کی جواب طلبی کرنے والے احسن گجر کو عدالت میں غیر مشروط معافی مانگنی پڑی، نیکٹا کے سربراہ مہر خالق داد لک نے اِس ضمن میں جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے وہ ایسے کیسوں میں آئندہ بھی رہنمائی کرتی رہے گی، بہتر ہوتا کہ آئی جی کے تبادلے سے پہلے اس رپورٹ اور اس پر جناب چیف جسٹس کے ریمارکس کو پیشِ نظر رکھا جاتا،لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور آئی جی کا تبادلہ کر دیا گیا، جسے فی الحال تو الیکشن کمیشن نے روک دیا ہے،لیکن اگر دوبارہ ایسا کیا گیا تو اِس سلسلے میں ان احکامات کو ملحوظ رکھنا ہو گا،جو اے ڈی خواجہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ اور انیتا تراب کیس میں سپریم کورٹ دے چکی ہے، بلکہ آئندہ بھی اس طرح کے تبادلے کی ہر سچوایشن میں اِن فیصلوں سے رہنمائی لینا ہو گی۔یہ تو قانونی ضرورت ہے،لیکن وزیراعظم عمران خان کی ایک اخلاقی ذمے داری بھی ہے کہ وہ اگر پولیس کو غیر سیاسی بنانا چاہتے ہیں تو ایسے تبادلوں کا حکم نہ دیا جائے، جو سیاسی پس منظر رکھتے ہیں۔ورنہ پولیس کو غیر سیاسی بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو گا اور ناصر درانی جیسے لوگ بھی استعفا دینے پر مجبور ہوں گے۔

مزید : رائے /اداریہ