سندھ میں 15ہزار سکول گرانے کا فیصلہ؟

سندھ میں 15ہزار سکول گرانے کا فیصلہ؟

تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں، ہر سیاسی جماعت اس مقصد کے لئے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ رقم مختص کرنے کی بات کرتی اور سب کے منشور میں تعلیم عام کرنے کے وعدے شامل ہوتے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی بھی داعی ہے اور سابق لیڈر آف اپوزیشن قومی اسمبلی، پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنما خورشید شاہ کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ جس نے تعلیمی ترقی دیکھنا ہو وہ سندھ آکر دیکھے، سندھ کی صوبائی حکومت بھی تعلیمی شعبے میں ترقی کی بات کرتی ہے اور بجٹ میں پچھلے بجٹ کی نسبت کچھ زیادہ رقم مختص کی گئی، سیاست دانوں کا مطالبہ ہمیشہ یہ رہا کہ ہر حکومت میں تعلیم کے لئے کم از کم بجٹ کے پانچ فی صد کے برابررقم مختص کرے، تاہم ایسا ہوتا نہیں اور یہ رقم 3فی صد سے نہیں بڑھتی۔سندھ میں تعلیمی ترقی کا دعویٰ کیا اور دوسروں پر طنز کی جاتی ہے لیکن اب جو خبر آئی وہ افسوسناک ہے، معاصر کی خبر کے مطابق سندھ حکومت پورے صوبے میں15ہزار سکول بند کرنے جارہی ہے، خبر کے مطابق یہ ایک کمرے پر مشتمل ہیں اور سرکاری رپورٹ کے مطابق ان میں طلباء بھی نہیں ہیں،اگر سرکاری موقف کو بھی مان لیا جائے تو پھر بھی ان سکولوں کو ختم کر دینے کا جواز نہیں بنتا بلکہ لازم ہے کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات کرائی جائے کہ ایسا کیوں ہے اور ان ایک کمرے کے سکولوں پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟یہ یقینی امر ہے کہ یہ سکول سندھ کے دیہی علاقوں میں ہیں اور جب ایک کمرے کے یہ سکول قائم کئے گئے تھے تو مقصد ہاریوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہو گا،مگر شاید ایسا نہیں ہوپا رہا، اگر یہ بھی درست ہے تو پھر بھی سکول بند کرکے عمارتیں گرانا تو کوئی حل نہیں، بہتر تو یہ ہے کہ وجہ دریافت کر کے علاقے کے بچوں کو یہاں داخل کروا کے اور اچھے اساتذہ مہیا کرکے ان کو چلایا جاسکتا ہے اس سے خواندگی میں تو اضافہ ہوگا۔ سندھ حکومت کے لئے لازم ہے وہ فوری طور پر اس حوالے سے تفصیلی وضاحت کرے کہ ایک دم 15ہزار سکولوں کی بندش اور عمارتیں بھی گرا دینے سے مقاصد میں فرق نظر آتا ہے اور اس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی پالیسی پر حرف آئے گا۔

مزید : رائے /اداریہ